الحاد کا دور
Al-Risala, March 2014, pp. 77–80
By Maulana Wahiduddin Khan
شرک کا مطلب ہے ۔ کسی غیر خدا کو خدا کا شریک (partner) قرار دے کر اس کی تعظیم یا عبادت کرنا۔ موجودہ زمانے میں جب شرک کا دور ختم ہوا تو اس کے بعد یہ ہونا چاہیے تھا کہ دنیا میں توحید کا دور آجائے، لیکن اُس وقت اہل مغرب دنیا کے فکری قائد بنے ہوئے تھے اور جیسا کہ معلوم ہے، قرون وسطیٰ (middle ages) کے زمانے میں مغرب کے اہل علم اور چرچ کے درمیان شدید ٹکراؤ ہوا۔ اس ٹکراؤ کی تفصیل جان ولیم ڈریپر (J. W. Draper) کی درج ذیل کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے :
Conflict Between Science and Religion (1874)
قرون وسطیٰ کے بعد یورپ میں انیسویں صدی میں جدید الحادی فکر کا دور آیا۔ یہ دور کسی علمی تحقیق کا نتیجہ نہ تھا، بلکہ وہ تمام تر ردِ عمل (reaction) کے نتیجے میں پیش آیا۔ اس زمانے میں علمی تحقیق کا معیار یہ قرار پایا کہ وہ تمام تر سیکولر انداز میں ہو، یعنی خدا کو حذف کر کے واقعات کی توجیہہہ کرنا۔ اس طرزِ فکر کے نتیجے میں وہ غیر مذہبی فلسفہ پیدا ہوا جس کو الحاد (atheism) کہا جاتا ہے۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے، ایک توجیہ طلب حیوان (explanation-seeking animal) قدیم مشرکانہ دور میں یہ توجیہہ قیاسی بنیاد پر کی جاتی تھی۔ موجودہ ملحدانہ دور میں یہ توجیہہ علمی تحقیق کے نام پر کی جانے لگی۔ اس نئے دور میں مغربی دنیا میں بہت سے مفکر پیدا ہوئے جو خدا کو حذف کر کے حیات اور کائنات کی توجیہہ کرتے تھے۔
اس طریقِ تحقیق کے نتیجے میں ایک نیا دور پیدا ہوا۔ مزید یہ کہ اسی دور میں پرنٹنگ پریس بھی وجود پہلے کتابیں محدود طور پر ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں، اب وہ چھپ کر عمومی طور پر پھیلنے لگیں۔ اس طرح یہ ہوا کہ جدید الحاد مطبوعہ کتابوں میں منتقل ہو کر تمام دنیا کے فکر پر چھا گیا۔ جدید ملحدانہ دور میں جو مفکرین پیدا ہوئے اور ان کے ذریعے جو غیر مذہبی طرز فکر وجود میں آیا، اس کے پیچھے بہت سے ذہن تاہم علامتی طورپر چار افراد کو اس معاملے میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ان چار افراد نے
انسانی تاریخ کو ایک نیا رخ یا الحادی رخ دیا۔ اُن کے نام یہ ہیں ۔ آئزاک نیوٹن، چارلس ڈارون، سگمنڈ فرائڈ، کارل مارکس :
1. Isaac Newton: from divine interpretation to mechanical 2. Charles Darwin: from Special Creation to Natural 3. Sigmund Freud: from harnessing desires to following 4. Karl Marx: from duty-conscious society to 1 - برٹش سائنس داں آئزاک نیوٹن (وفات: 1727) اصلًا صرف سائنس داں تھا۔ اس کا موضوع تھا مادی دنیا میں حرکت (motion) کی توجیہہ کرنا۔ اس نے دریافت کیا کہ مادی دنیا میں حرکت کا نظام میکانکل قوانین (mechanical laws) کے تحت ہوتا ہے۔ مثلاً شمسی نظام میں سیاروں کی گردش کا قانون۔ نیوٹن کی دریافت کا کوئی تعلق مذہبی عقائد سے نہ تھا، لیکن ملحد مفکرین نے اس دریافت کو الحاد کے حق میں استعمال کیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر واقعات فطری اسباب کے تحت پیش آتے ہیں تو وہ فوق الفطری سبب کے تحت نہیں ہو سکتے :
If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes. یہ استدلال بلاشبہ ایک غیر منطقی استدلال تھا، کیوں کہ نیوٹن کی تشریح جس چیز کو بتا رہی تھی، وہ صرف ظاہری سبب تھا۔ اس کے بعد بھی یہ سوال تھا کہ اسباب کے پیچھے مسبب (cause of the causes) اس معاملے میں ملحدین کا استدلال تمام تر ایک مغالطے پر مبنی تھا، وہ کوئی سائنسی استدلال نہ تھا۔ لیکن ملحد مفکرین کی یہ توجیہہ وقت کے ذوق کے مطابق تھی، اس لیے وہ عمومی طور پر پھیل گئی۔ 2 - چارلس ڈارون (وفات : 1882) کا ارتقائی نظریہ بنیادی طور پر انتخابِ طبیعی
(natural selection) کے اصول پر مبنی ہے۔ ڈارون نے اور اس کے ساتھیوں نے اپنی کتابوں کے ذریعے یہ تاثر دیا کہ ارتقا (evolution) کا یہ نظریہ ایک سائنسی نظریہ ہے۔ مگر علمی تعریف (definition) کے مطابق، ارتقا کا نظریہ ہر گز سائنسی نظریہ (scientific theory) نہ تھا، وہ صرف ایک قیاسی نظریہ (speculative theory) کی حیثیت رکھتا تھا۔ مگر وقت کے عمومی ذوق کی بنا پر حیاتیاتی ارتقا کے اس نظریے کو عام مقبولیت حاصل ہوگئی۔ یہ سمجھ لیا گیا کہ حیاتیاتی مظاہر کی توجیہ کے لیے اب خالق کو ماننے کی کوئی ضرورت نہیں، خالق کے وجود کو مانے بغیر تمام حیاتیاتی مظاہر کی توجیہ ممکن نہیں۔ مگر یہ صرف ایک مغالطہ تھا۔ سائنس کی مزید دریافتوں نے یہ ثابت کر دیا کہ ارتقا کا یہ نظریہ علمی اعتبار سے بالکل بے بنیاد ہے۔ سائنس کی جدید دریافت بتاتی ہے کہ فطرت میں کامل درجے کی ذہین ڈیزائن (intelligent design) پائی جاتی ہے۔ اس دریافت نے علمی طور پر نظریہ ارتقا کا خاتمہ کر دیا ہے۔ کیوں کہ ذہین ڈیزائن ایک ذہین ڈیزائنر (intelligent designer) کی موجودگی کو ثابت کرتی ہے، وہ بے شعور قسم کے انتخاب طبیعی کا نتیجہ نہیں ہو سکتی۔ سگمنڈ فرائڈ (وفات: 1939) کا نظریہ یہ تھا کہ انسان کی ذہنی ترقی اس طرح ممکن ہے کہ اس کو آزاد چھوڑ دیا جائے کہ وہ اپنی خواہشوں کو بے روک ٹوک پورا کر سکے۔ فرائڈ کے اس نظریے کا نتیجہ یہ ہوا کہ مذہبی تصور کے مطابق، حرام و حلال کی پابندیاں ختم ہوگئیں ۔ انسان آزاد ہو گیا کہ وہ خود اپنی خواہش کے تحت جو چاہے کرے اور جو چاہے نہ کرے۔
لیکن بعد کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ فرائڈ کا یہ نظریہ ایک غیر فطری نظریہ ہے۔ وہ انسان کی ذہنی ترقی میں مانع ہے، نہ کہ مددگار۔ نفسیات کا جدید مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کی ذہنی ترقی چیلنج کے ذریعے ہوتی ہے، نہ کہ بے قید آزادی کے ذریعے ۔ مذہب کی عائد کردہ اخلاقی پابندیاں ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ اس چیلنج کے ذریعے انسان کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح انسان اپنی توانائی کے ضیاع سے بچتے ہوئے ذہنی ترقی کے راستے پر سفر کرتا رہتا ہے۔
4 کارل مارکس (وفات: 1883) نے زندگی کا جو فلسفہ دیا، وہ اپنی عملی تدبیر کے اعتبار سے یہ تھا کہ اقتصادی ذرائع کو انفرادی کنٹرول سے نکال کر سماجی کنٹرول میں دے دیا جائے۔ نزدیک انسانی حقوق کے تحفظ کا یہی واحد راستہ تھا۔ مگر عملی تجربے کے لحاظ سے اس فلسفے کا مطلب یہ تھا کہ تمام اقتصادی ذرائع کو اسٹیٹ کے کنٹرول میں دے دیا جائے۔ اس نظریے کا مقصد بظاہر ایک غیر طبقاتی سماج (classless society) پیدا کرنا تھا، مگر عملاً اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دو شدید قسم کے محارب طبقے پیدا ہو گئے۔
اس نظریے سے دو بڑی برائیاں پیدا ہوئیں — ایک، یہ کہ مسابقَت (competition) کا ختم ہو جانا، جو کہ تمام ترقیوں کے لیے فطری محرک کی حیثیت رکھتا ہے۔ دوسری برائی جو اشتراکی نظریے کے تحت پیدا ہوئی، وہ یہ کہ لوگ عمومی طور پر رائٹ کانشس (right-conscious) بن گئے، جب کہ کسی سوسائٹی کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ اس کے افراد ڈیوٹی کانشس (duty-conscious) ہوں۔ یہاں پہنچ کر طبقاتی کشمکش نے ایک ایسی صورت اختیار کرلی جو کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ کیوں کہ زندگی میں ڈیوٹی کا تعین ہوسکتا ہے، لیکن رائٹ کا کوئی تعین نہیں۔