خلاصہ کلام
Al-Risala, March 2014, pp. 80–81
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم دور شرک کا بگاڑ یہ تھا کہ وہ خدا اور بندے کے درمیان تعلق کو صحیح بنیاد پر قائم کرنے میں مانع بن گیا۔ انسان کو یہ کرنا تھا کہ وہ اپنی سوچ کو اور محبت اور خوف کے جذبات کو مکمل طور پر خدا سے اسی کا نام توحید ہے اور اسی توحید سے انسان کے اندر تمام اعلی صفات پیدا ہوتی ہیں۔ لیکن مشرکانہ کلچر نے خدا کے شرکا (partners) قرار دے کر انسان کو اس کے مرکز اصلی سے ہٹا دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انسان اپنے مطلوب ارتقا سے محروم ہو کر رہ گیا۔
انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے، ایک مرکز وابستگی چاہتا ہے۔ انسان کی اس فطری طلب کا مرجع صرف ایک ہے، اور وہ اس کا خالق ہے۔ بندے کا خالق سے تعلق قائم ہونا ایسا ہی ہے جیسے بجلی کے بلب کا پاور ہاؤس سے تعلق قائم ہونا۔ شرک کی برائی یہ تھی کہ اس نے انسان کی اس طلب کے لیے اس کو ایک غیر واقعی بدل
انسان اپنی شخصیت کے اُس ارتقا سے محروم ہو گیا جو اس کے لیے پیدائشی طور پر مقدر تھا۔ جدید الحاد کے دور میں دوبارہ انسان ایک اور اعتبار سے اسی محرومی کا شکار ہو گیا۔ بتایا گیا ہے کہ انسان کو علم قلیل دیا گیا ہے۔ انسان کے لیے آزادی بہت اچھی چیز ہے، لیکن انسان اپنی فطری ساخت کے اعتبار سے کامل آزادی کا تحمل نہیں کر سکتا۔ انسان کے لیے حقیقت پسندی یہ ہے کہ وہ اپنی اس محدودیت (limitation) کو جانے اور مقید آزادی (guided freedom) پر راضی جدید الحاد نے آزادی کو خیر مطلق (summon bonum) قرار دے کر انسان کو اس کی فطرت کے راستے سے ہٹا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر ہر قسم کی ترقیوں کے باوجود انسان اُس اہم ترین چیز سے محروم ہو گیا جس کو ذہنی سکون (peace of mind) کہا جاتا ہے۔ سہارن پور (یوپی) میں ماہ نامہ الرسالہ اور دعوتی لٹریچر حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں: Dr. M. Aslam Khan (Principal)
نیا ہندی ترجمہ قرآن ہندی زبان میں صدر اسلامی مرکز کے دو ترجمے شائع ہو چکے ہیں ۔ ایک ، قرآن کا آسان ہندی ترجمہ۔
دوسرا ، قرآن کا خالص ہندی ترجمہ۔ یہ نیا ترجمہ قرآن خاص طور پر غیر مسلم حضرات کے لیے تیار کیا گیا ہے۔