اظہارِ دین
Al-Risala, March 2014, pp. 82–86
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ الفتح میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ۚ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا (48:28) یعنی یہ اللہ ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، تا کہ وہ اُس کو تمام دین پر غالب کر دے۔ اور اللہ گواہی کے لیے کافی ہے۔
قرآن کے اس بیان میں جو بات کہی گئی ہے، اُس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے دینِ خداوندی کے اعلان کے لیے بہت سے لوگ اٹھے، لیکن اُن کا کام اعلان کے درجے تک محدود رہا، وہ انقلاب کے درجے تک نہیں پہنچا۔ پیغمبر اسلام کا مشن اللہ کی خصوصی نصرت سے نظریاتی انفجار (ideological explosion) تک پہنچ گیا۔ آپ کے ذریعے افکار کی دنیا میں ایک ایسا انقلاب آیا کہ آپ کو تاریخ ساز پیغمبر (epoch-making prophet) کی حیثیت حاصل ہوگئی۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اس انقلابی صفت کا اعتراف مختلف مورخین نے کھلے طور پر
فرانس کا مورخ ہنری پرین (Henri Pirenne) 1862 میں پیدا ہوا، اور 1935 میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے اسلام اور پیغمبر اسلام کے موضوع پر کئی کتابیں شائع کی ہیں۔ لکھا ہے کہ— اسلام نے دینیا کا نقشہ بدل دیا۔ اس کے بعد روایتی دورِ تاریخ کا خاتمہ ہو گیا: Islam changed the face of the globe. The traditional order of history was overthrown. کار نبوت کا تسلسل پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے جو انقلاب آیا، اُس کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ پیغمبر کے بغیر کار نبوت کا تسلسل جاری رہے۔ پچھلے پیغمبروں کے زمانے میں ایسا ہوتا تھا کہ پیغمبر پر نازل ہونے والی وحی پیغمبر کے بعد محفوظ نہیں رہتی تھی، اس لیے بار بار خدا کی طرف سے پیغمبر بھیجے جاتے لیکن پیغمبر اسلام کے ذریعے یہ ہوا کہ آپ کے اوپر نازل ہونے والی وحی (قرآن) پوری طرح محفوظ ہوگئی۔ آپ کی زندگی بھی تاریخی طور پر مدوّن ہوگئی۔ اس لیے آپ کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ کوئی شخص جو گہرے طور پر پیغمبر کے مشن سے اپنے آپ کو وابستہ کرے، وہ اپنے زمانے میں پیغمبر کا نمائندہ بن جائے۔
یہی بات حدیثِ رسول میں اس طرح بتائی گئی ہے: العلماء ورثة الأنبياء (ابو داؤد، رقم الحدیث: 3641) یعنی علما انبیا کے وارث ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے دین خداوندی کے تمام اجزا محفوظ ہو گئے، جو دن پہلے زندہ شخصیتوں کی سطح پر ہوتا تھا، وہ اب مستند کتابوں کی شکل میں محفوظ ہو گیا، اس طرح امت کی بعد کی نسلوں میں اٹھنے والے افراد کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ کار نبوت کا تسلسل دوبارہ زندہ حالت میں جاری کر سکیں:
Without being a prophet, one can play the prophetic role. خالق کا تخلیقی پلان یہ ہر انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ وہ جانے کہ پیدا کرنے والے نے اُس کو کس لیے
پیدا کیا ہے۔ اُس کا مقصد تخلیق کیا ہے۔ اس کے لیے کامیابی کیا ہے اور ناکامی کیا۔ ہر عورت اور مرد اس سوال سے لازمی طور پر دوچار ہوتے ہیں، خواہ شعوری طور پر یا غیر شعوری طور پر۔ اس سوال کا معتبر جواب صرف خالق دے سکتا ہے۔ یہ صرف خالق ہے جو یہ بتا سکتا ہے کہ انسان اور کائنات کو پیدا کرنے سے اُس کا منصوبہ تخلیق (creation plan) کیا ہے۔ پیغمبر قرآن کے ذریعے خدا نے اس سوال کا معتبر جواب فراہم کیا ہے۔ اب ہر انسان کے لیے ممکن ہو گیا کہ وہ خدا کے تخلیقی پلان کو جانے:
It became possible for everyone to know the creation plan of God. پہلے زمانے میں حنفاء ہوا کرتے تھے، یعنی متلاشی حق۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ کوئی شخص اپنی تلاش حق کو دریافت بنا سکے:
Truth-seekers no longer need to live in bewilderment. نشانیوں کا ظہور قرآن کی سورہ حم السجدہ میں بعد کی تاریخ کے لیے ایک پیشین گوئی ان الفاظ میں آئی ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53) یعنی مستقبل میں ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، کائنات میں بھی اور انسان کے اندر بھی، یہاں تک کہ اُن پر پوری طرح یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے۔
قدیم زمانے میں جو انبیا آئے، انھوںنے خرقِ عادت معجزے دکھائے۔ یہ معجزے اُن کے معاصرین کے لیے اُن کے پیغمبر ہونے کی دلیل تھے۔ حسّی معجزہ معاصرین کے لیے دلیل ہوتا ہے، بعد کے لوگوں کے لیے وہ دلیل نہیں ہوتا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے آخری پیغمبر تھے، یعنی قیامت تک کے لیے پیغمبر۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ آپ کی وفات کے بعد بھی آپ کے پیغام کی پیغام رسانی اہلِ عالم کے لیے جاری رہے گی۔
یہ کام اس طرح انجام پایا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے انقلاب کے ذریعے تاریخ میں ایک ایسا عمل جاری ہوا جس کے نتیجے میں فطرت کے قوانین دریافت ہوئے۔ یہ قوانین فطرت معجزہ کا بدل بن گئے۔ ان قوانین کے ذریعے یہ ممکن ہو گیا کہ بعد کے زمانے میں سائنسی دلائل کی طاقت سے وہ دعوتی کام انجام دیا جاسکے جو پہلے معجزہ کی طاقت سے انجام دیا جاتا تھا، گویا کہ پیغمبر اسلام سے پہلے دعوت بذریعہ معجزہ (dawah through miracle) کا زمانہ تھا اور اب دعوت بذریعہ علمی دلائل (dawah through scientific argument) کا زمانہ ہے۔
قرآن کی سورہ الاسراء میں پیغمبر اسلام کے بارے میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ: عَسَىٰ أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا (17:79) یعنی قریب ہے کہ تمھارا رب تم کو مقام محمود پر کھڑا کرے۔ اس آیت میں مقام محمود کسی پر اسرار واقعے کا نام نہیں ہے۔ اُس سے مراد ایک معلوم واقعہ ہے جو تاریخ میں مسلمہ طور پر پیش آیا۔ پیغمبر اسلام سے پہلے جو پیغمبر آئے، وہ مستند تاریخ میں ریکارڈ نہ ہو سکے۔ پیغمبروں کی فہرست میں پیغمبر اسلام پہلے پیغمبر ہیں جو مستند تاریخ میں درج کیے گئے۔ ایک مغربی مورخ نے اس کا اقرار ان الفاظ میں کیا ہے محمد تاریخ کی کامل روشنی میں پیدا ہوئے : Muhammad was born within the full light of history. حقیقت یہ ہے کہ نبی محمود سے مراد نبی مُعترف (acknowledged prophet) ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی زندگی میں آپ کو اتنا کم سمجھا گیا کہ مکہ کے مخالفین آپ کو مذمم (condemned person) کہنے لگے۔ لیکن آخر کار تاریخ آپ کے موافق ہوگئی۔ عام طور پر مورخین اور مبصرین آپ کی عظمت کا اعتراف کرنے لگے۔
ان میں سے ایک مثال امریکا کے ڈاکٹر مائیکل ہارٹ (Michael H. Hart) کی ہے۔ انھوں نے تمام دنیا کی مشہور شخصیتوں کا مطالعہ کرکے ایک ضخیم کتاب تیار کی۔ اُس کا عنوان ایک سو (The Hundred) ہے۔ اس کتاب میں پوری انسانی تاریخ کی ایک سو بڑی شخصیتوں کا تذکرہ ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں پیغمبر اسلام کو اس فہرست میں پہلے نمبر پر رکھا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ۔
محمد تاریخ کے پہلے شخص ہیں جو انتہائی حد تک کامیاب رہے، مذہبی سطح پر بھی اور دنیوی سطح پر بھی: پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک قول میں یہ پیشین گوئی کی کہ بعد کے زمانے میں آپ کی امت میں ایسے افراد پیدا ہوں گے جو اخوان رسول قرار پائیں گے، یعنی معرفت دین کے اعتبار سے اُنھیں اصحاب رسول جیسا درجہ حاصل ہوگا:
پچھلے پیغمبروں کے یہاں صرف اصحاب (companions) ہوا کرتے تھے۔ یہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی استثنائی صفت ہے کہ آپ کی امت میں ایسے افراد پیدا ہوں گے جو اخوان (brothers) کا درجہ پائیں گے۔ ایسا صرف اس لیے ممکن ہوگا کہ پیغمبر اسلام کے بعد خدا کا دین نظریہ اور عمل دونوں اعتبار سے پوری طرح محفوظ ہو گیا۔