Al-Risala · March 2014

خاتم النبیین

Al-Risala, March 2014, pp. 86–39

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ الاحزاب میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّـبِیّٖنَ (33:40) یعنی محمد، اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کے متعدد پہلو ہیں۔ اُس کا ایک پہلو یہ ہے کہ نبوت اب شخصی عمل کے طور پر باقی نہ رہی، البتہ کار نبوت اب دعوتی عمل کے طور پر مسلسل جاری ہے۔ یہ پیغمبر اسلام کی ایک استثنائی صفت ہے۔ دوسرے پیغمبروں کے معاملے میں یہ ہوا کہ پیغمبر کا نام لینے والوں کا ایک گروہ تو ضرور باقی رہا، لیکن پیغمبر کی حقیقی دعوت کسی تبدیلی کے بغیر اپنی اصل صورت میں جاری رہنے کا امکان ختم ہو گیا۔

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بعد یہ ہوا کہ ایک نیا دورِ دعوت وجود میں آیا، وہ تھاـــــ براہِ راست پیغمبر کی ذات کے ذریعے دعوت کے دور کا خاتمہ، اور پیغمبر کے ماننے والوں کے ذریعے دعوت کے دور کا آغاز:

End of dawah through the Prophet, beginning of dawah through the followers of the Prophet, continuation of the prophetic role through the followers of the Prophet. قرآن کی سورہ نمبر 48 معاہدہ حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی۔ معاہدہ حدیبیہ امن کا معاہدہ تھا۔ حدیبیہ کیا تھا۔ معاہدہ حدیبیہ کا مقصد تھاـــــ جنگ کے حالات کو ختم کرکے امن کے حالات پیدا کرنا۔ معاہدے کے بعد پیغمبرِ اسلام اور آپ کے مخالفین کے درمیان مکمل طور پر جنگ بندی ہوگئی اور طرفین کے درمیان امن کی حالت قائم ہوگئی۔ اس کے بعد معتدل حالات میں دعوتی کام کرنا ممکن ہو گیا۔ امن کا یہ معاہدہ پوری تاریخ کا ایک انوکھا معاہدہ تھا۔ یہ فریقِ ثانی کی تمام شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان کر انجام پایا تھا۔ بظاہر وہ پسپائی کا ایک معاہدہ تھا، لیکن معاہدے کی تکمیل کے بعد قرآن میں یہ آیت اتری: اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا وَيَنْصُرَكَ اللَّهُ نَصْرًا عَزِيزًا یعنی بے شک ہم نے تم کو کھلی ہوئی فتح دے دی، تاکہ اللہ تمہاری اگلی اور پچھلی خطائیں معاف کردے، اور تمھارے اوپر اپنی نعمت کی تکمیل کر دے، اور تم کو سیدھا راستہ دکھائے، اور تم کو زبردست مدد عطا کرے۔ تاریخ کے مطابق، معاہدہ حدیبیہ کے بعد پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی سیاسی فتح حاصل نہیں یہ معاہدہ بظاہر فریقِ ثانی کے مقابلے میں شکست کا واقعہ تھا، نہ کہ فتح کا واقعہ۔ اس کے باوجود قرآن میں کیوں اُس کو فتحِ مبین کہا گیا۔ ایسا اس لیے ہوا کہ معاہدہ حدیبیہ کے بعد دعوت کے تمام مواقع کھل گئے۔ یہ مواقع اتنے غیر معمولی تھے کہ معاہدے کے بعد صرف دو سال کے اندر پیغمبرِ اسلام کے ساتھیوں کی تعداد پانچ گنا زیادہ ہوگئی۔ اور جنگ کے بغیر صرف زیادہ تعداد فیصلے کے لیے کافی ہوگئی۔

صلاہ کرم عظیم اللمہ کا نام جو نہایت مہربان اور رحیم ہے، صلاہ کرم عظیم اللمہ کا نام جو نہایت مہربان اور رحیم ہے، و محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ دراصل ایک عظیم پالیسی کا نام ہے۔ یہ پالیسی تاریخ میں پہلی بار پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو بتائی، یعنی حالتِ موجودہ کو مان کر ٹکراؤ ختم کردو، تاکہ مواقع (opportunities) کو استعمال کرنا ممکن ہو سکے:

Hudaibiya means - policy of positive statusquoism. And positive statusquoism is the key to super صلح بہتر ہے قرآن کی سورہ النسائ میں یہ آیت آئی ہے: الصلح 4:128) یعنی صلح بہتر ہے قرآن کی سورہ النسآء میں یہ آیت آئی ہے: الصلح خیر (4:128) یہی صلح بہتر ہے۔ گویا امن کا طریقہ سب سے زیادہ کارگر طریقہ ہے: Peace is the most successful policy. فلاسفہ اور مفکرین ہمیشہ امن کی بات کرتے رہے ہیں۔ امن کے مطالعے کے لیے ایک مستقل شعبہ علم وضع ہوا ہے جس کو پیسفزم (pacifism) کہا جاتا ہے۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تاریخ کے پہلے شخص ہیں جنھوں نے ایک مکمل نظریہ امن (ideology of peace) دنیا کو دیا۔ سے آپ کو پیغمبر امن (prophet of peace) کہا جاسکتا ہے۔ ہندی داں طبقے کے لیے ایک قیمتی تحفہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کا جیون“ ”سیرت رسول کا ہندی ترجمہ یہ کتاب سیرتِ رسول کا ایک سادہ اور واقعاتی مطالعہ اس کتاب میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو تاریخ وار انداز میں ، کسی تشریح یا تعبیر کے بغیر ، بیان کیا گیا ہے ۔ وہ پیغمبر اسلام کی زندگی کی ایک تاریخی تصویر ہے ۔ زیرِ نظر کتاب معلوماتی اسلوب میں سیرتِ رسول کا ایک تفصیلی تعارف ہے۔ पैगम्बरे इस्लाम हज़रत मौलाना वहीदुद्दीन खाँ

Printed page