خلاصہ کلام
Al-Risala, January 2014
By Maulana Wahiduddin Khan
سورہ التین میں جو بات رَدَدۡنٰہُ اَسۡفَلَ سٰفِلِیۡنَ کے الفاظ میں کہی گئی ہے، وہی بات دوسری سورتوں میں دوسرے الفاظ میں کہی گئی ہے۔ مثلاً لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡ کَبَدٍ اور اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَفِیۡ خُسۡرٍ وغیرہ۔ قرآن کے الفاظ پوری انسانی تاریخ پر منطبق ہوتے ہیں۔ اول دن سے اب تک جو
عورت یا مرد اس کرۂ ارض پر پیدا ہوئے، اُن سب کے ساتھ یہی واقعہ پیش آیا کہ آخر کار وہ محدود مدت کے بعد مر گئے اور اُن کی بنائی ہوئی دنیا بالکل اجڑ گئی۔ اس معاملے میں کسی بھی انسان کا کوئی استثنا نہیں۔ تاریخ کا یہ تجربہ ایک سوالیہ نشان ہے، بلکہ سب سے بڑا سوالیہ نشان، وہ یہ کہ انسان احسن تقویم کی حیثیت سے پیدا ہوتا ہے۔ وہ تمام مخلوقات میں افضل مخلوق اور مکرم مخلوق ہے۔ واحد مخلوق ہے جو اپنی ساخت کے اعتبار سے، معیار پسند (idealist) اور کمال پسند (perfectionist) واقع ہوا ہے۔ یہ انسانی شخصیت کا ایک پہلو ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان جس دنیا میں پیدا ہوتا ہے، وہ اس کا یہی ٹھیٹ نہیں۔ ایک سائنس داں کے الفاظ میں، بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسان بھٹک کر ایک ایسی دنیا میں آ گیا ہے جو اس کے لیے نہیں بنائی گئی تھی :
It appears that man has strayed into a world that was not made for him. انسان اور موجودہ دنیا کے درمیان یہ عدم مطابقت ہر عورت اور مرد کے لیے دعوت فکر کی حیثیت اگر آدمی حقیقی معنوں میں حق کا متلاشی ہو تو انسانی زندگی کا یہ پہلو اس کے لیے ایک ایسا سراغ (clue) بن جائے گا جس پر غور کرتے ہوئے وہ زندگی کی اصل حقیقت کو دریافت کرلے۔ دریافت کے بعد اس کو معلوم ہوگا کہ موجودہ دنیا اس کے لیے صرف ایک عارضی قیام گاہ ہے، وہ اس کا انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اس کا مستحق بنائے کہ موت کے بعد اس کو ابدی جنت میں داخلہ ملے جو کہ انسان کا اصل یہی ٹھیٹ ہے۔ (5 ستمبر 2013)
حیدر آباد میں صدر اسلامی مرکز کا تلگو ترجمہ قرآن حسب ذیل پتے پر دستیاب ہے : Top Publishers, Hyd. #8-1-363/34, Aditya Nagar Colony Tolichowki, Hyderabad-500008 (A.P.)
Ph: 09246294664, E-Mail: aijazadil19@yahoo.com یہ ترجمہ گڈ ورڈ بکس (نئی دہلی) میں بھی دستیاب ہے۔