ایک اور موقع
Al-Risala, March 2014, pp. 42–46
By Maulana Wahiduddin Khan
نومبر 2012 میں امریکا کا 57 واں صدارتی الیکشن ہوا۔ اس الیکشن میں براک اوباما دوبارہ چار سال کے لیے امریکا کے صدر منتخب ہوئے۔ براک اوباما کو 6 نومبر 2012 کو جب پہلی بار اپنی جیت کی خبر ملی تو انھوں نے اپنے فیس بک کے اکاؤنٹ پر یہ الفاظ لکھے ــــ چار اور سال: Four more years!
اس بات کا تعلق صرف صدر امریکا سے نہیں، وہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ ہر آدمی کی زندگی میں یہ تجربہ پیش آتا ہے کہ اُس کو کام کا ایک مزید وقت‘‘ حاصل ہوتا ہے۔ یہ مزید وقت آدمی کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ پچھلے تجربات سے فائدہ اٹھا کر اپنے عمل کی نئی، زیادہ بہتر منصوبہ بندی کرے۔ جو کچھ وہ گزشتہ کل نہ پاسکا تھا، اس کو وہ آج پانے کی کوشش کرے۔
یہ موقع چار سال یا چار مہینہ یا چار دن کے لیے بھی ہوسکتا ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ آنے والے نئے موقع کو پہچانے اور اس کو بھر پور طور پر استعمال کرے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ آدمی کی زندگی میں دوسرا موقع (second chance) تو ضرور آتا ہے، لیکن اکثر حالات میں دوسرا موقع اس کے لیے آخری موقع بن جاتا ہے۔ اس کے بعد تیسرا اور چوتھا موقع اس کو نہیں ملتا۔
اکثر حالات میں ایسا ہوتا ہے کہ دوسرا موقع آدمی کے لیے امکانی طور پر پہلے موقع سے بہتر آدمی کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ پہلے موقع کی غلطی اور خامی کو دوبارہ نہ دہرائے، وہ دوسرے موقع کو زیادہ بہتر طور پر استعمال کرے۔ اسی حقیقت کو ایک فارسی شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ــــ آرٹسٹ دوسری بار اپنے آرٹ کو زیادہ بہتر بناتا ہے: نقاش نقش ثانی بهتر کشد ز اوّل اس حقیقت کا تقاضا ہے کہ آدمی اس معاملے میں بہت زیادہ سنجیدہ ہو، وہ اپنے ہر لمحے کی قدر کرے، کیوں کہ کھویا ہوا لمحہ دوبارہ واپس آنے والا نہیں۔
سوال و جواب دو سوالات کے جواب مطلوب ہیں۔ براہ کرم، اس کی وضاحت فرمائیں:
ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے الرساله مشن کا اعتراف کیا اور یہ بتایا کہ الرساله مشن کا مثبت کنٹری بیوشن (positive contribution) کیا ہے۔ نزدیک، الرساله مشن کے اس کنٹری بیوشن کے تین پہلو ہیں:
تصوف کے مقابلے میں، تزکیہ و تعلق باللہ کا صحیح تصور پیش کرنا۔
اسلام کی سیاسی تعبیر (political interpretation) کی غلطی کی نشان دہی کرنا اور اس کے مقابلے میں اسلام کی دعوتی تعبیر پیش کرنا۔
مسلمانوں کو درپیش مسائل کے اعتبار سے، اُن کو تعمیری رہنمائی دینا۔
دسمبر 2013 کی 27 تاریخ کو دہلی میں دو اعلی تعلیم یافتہ مسلمانوں سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ الرساله مشن کے تحت جو ٹیم بنی ہے، اُس کے افراد اپنے اندر بلا شبہہ مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ ٹیم کے یہ ممبران بے لوث انداز میں ہر جگہ الرسالہ کے لٹریچر کی اشاعت کر رہے ہیں۔ تاہم ٹیم کے یہ افراد عام طور پر مشن کے لیے مخلص ایکٹو سٹ (sincere activists) یا مخلص ورکر (sincere workers) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ صدر اسلامی مرکز کو چاہیے کہ وہ اپنے مشن کے تحت کچھ ایسے افراد بھی تیار کریں جو قرآن وسنت اور اسلامی مصادر و مآخذ کا گہراعلم رکھتے ہوں، تاکہ وہ الرسالہ کی علمی روایت کو آگے بڑھا سکیں۔ (ایک قاری الرسالہ، نئی دہلی) الرساله مشن کا کنٹری بیوشن بتانے کے لیے یہ تینوں باتیں بلاشبہہ درست ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ الرسالہ مشن کا جو اصل کنٹری بیوشن ہے، اس کے اعتبار سے، یہ تینوں چیزیں ثانوی حیثیت الرسالہ مشن کا اصل کنٹری بیوشن ہے— نئے دور میں اسلام کی از سرنو دریافت
(re-discovery of Islam in a changing world)—اس دریافت کے دو خاص پہلو ایک یہ ہے کہ دورِ جدید (modern age) دورِ تعقل (age of reason) تھا۔ کے اعتبار سے، اسلام بظاہر لوگوں کو دورِ جدید میں بے جوڑ (misfit) دکھائی دیتا تھا۔ الرسالہ مشن نے کامیابی کے ساتھ یہ کیا اسلام کو جدید ذہن (modern mind) کے لیے عقلی طور پر قابل فہم (rationally understandable) بنایا۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ الرسالہ مشن نے دلائل کے ذریعے بتایا کہ دورِ جدید میں مسلمانوں کا اصل مشن دعوت الی اللہ ہے۔
الرسالہ مشن اپنی حقیقت کے اعتبار سے، احیاءِ اسلام (revival of Islam) کا مشن ہے۔ احیاء اسلام ایک معروف اصطلاح ہے، لیکن لوگ اس اصطلاح کے صرف روایتی مفہوم کو جانتے تھے۔ الرسالہ مشن نے اس اصطلاح کو اس کے نئے مفہوم کے ساتھ زندہ کیا۔ اس اعتبار سے، الرسالہ مشن ایک تخلیقی مشن (creative mission) ہے۔ وہ اجتہادی فکر پر مبنی ہے، نہ کہ تقلیدی فکر پر۔ 2- یہ بات درست نہیں۔ الرسالہ مشن میں جو لوگ شامل ہیں، وہ ورکر یا ایکٹوسٹ نہیں ہیں، بلکہ وہ سب کے سب تعلیم یافتہ لوگ ہیں، الرسالہ مشن تعلیم یافتہ لوگوں کا مشن ہے۔ اس مشن میں جو لوگ شریک ہیں، وہ لٹریچر پڑھ کر اور شعوری فیصلے کے تحت اس میں شریک ہوئے ہیں۔ زیادہ صحیح الفاظ میں، یہ ٹیم تعلیم یافتہ لوگوں کی ٹیم ہے۔
جہاں تک مذکورہ قسم کے اکیڈمیشین (academician) کا تعلق ہے، تو اکیڈمیشین لوگ کبھی کسی مشن سے نہیں جڑتے۔ اس کا سبب اکیڈمک کلچر اور مشن کلچر کا فرق ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ طبیعی سائنس (physical science) کے معاملے میں ہمیشہ ایک واحد رائے پر پہنچنا ممکن ہوتا ہے، لیکن سماجی علوم یا انسانی علوم (humanities) میں ایسا نہیں ہوتا کہ صرف ایک رائے کا انتخاب ممکن چوں کہ سماجی علوم یا انسانی علوم میں ہمیشہ استنباط (inference) کا امکان ہوتا ہے، اس لیے رائیں مختلف ہو جاتی ہیں۔ ایسی حالت میں انسانی علوم کے معاملے میں کسی ایک رائے پر اصرار کرنے کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ آدمی تعصب کا شکار ہو گیا ہے۔ اسی تعصب کے الزام سے بچنے کے
لیے اکیڈمیشن یہ کرتے ہیں کہ وہ کبھی قطعیت کی زبان استعمال نہیں کرتے ۔ وہ اپنے بیان میں ہمیشہ اس طرح کے الفاظ شامل کرتے ہیں :
Perhaps, Probably, It appears, My be I am wrong, etc. اپنی اسی خاص نفسیات کی بنا پر کوئی اکیڈمیشن کبھی کسی مشن کا حصہ نہیں بنتا۔ مشن کلچر صرف وہ لوگ اختیار کرتے ہیں جو اپنے ترقی یافتہ شعور کی بنا پر کسی ایک نظریے کو بطور صداقت اختیار کر سکیں۔ اکیڈمیشن کا ذہن ایک ایسا ذہن ہوتا ہے جو صاحب مشن کے ذہن سے مکمل طور پر مختلف ہوتا ہے۔ اسی اختلاف کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی اکیڈمیشن کسی مشن کا ساتھ نہیں دیتا۔ اکیڈمک کلچر کے مزاج کے مطابق ، اکیڈمیشن کا جو اصول ہے، اس کو ویلیو نیوٹرلٹی (value neutrality) کہا جاتا ہے۔ معیاری اکیڈمیشن وہ ہے جو ویلیو ججمینٹ (value judgement) نہ دے، بلکہ وہ ہمیشہ ویلیو نیوٹرل (value neutral) بنا رہے، وہ کسی ایک رائے کو درست نہ سمجھے، بلکہ وہ رایوں کے بارے میں غیر جانب دار (impartial) بنا رہے۔
کسی مشن کی کارکردگی کو جج کرنے کے لیے یہ کوئی صحیح معیار نہیں کہ یہ دیکھا جائے کہ اکیڈمیشن اس میں تیار ہو رہے ہیں یا نہیں ۔ جب تاریخ بتاتی ہے کہ کبھی کسی اکیڈمیشن نے کسی مشن کا ساتھ نہیں دیا تو کسی مشن پر تبصرہ کرنے کے لیے اس معیار کو استعمال کرنا اپنے آپ میں درست نہیں۔ اس قسم کی روش صاحب تبصرہ کی غیر سنجیدگی کا ثبوت ہے، نہ کہ اس کی انصاف پسندی کا ثبوت۔ اس معاملے کی ایک مثال وہ ہے جو کارل مارکس کی زندگی میں ملتی ہے۔ کارل مارکس ایک سوشلسٹ مفکر تھا۔ وہ سوسائٹی میں ایک تبدیلی لانا چاہتا تھا۔ اس مقصد کے لیے اُس نے 1867 میں ایک کتاب جرمن زبان میں لکھی جس کا نام داس کیپٹل (Das Kapital) تھا۔ بظاہر اکیڈمک انداز میں لکھی گئی تھی ، مگر کارل مارکس کو اس کتاب کی بنیاد پر کوئی ساتھ دینے والا اس کی دوسری کتاب وہ تھی جو کمیونسٹ مینی فیسٹو (Communist Manifesto) کے نام سے مشہور ہے۔ کارل مارکس کو اپنے مشن کے لیے جو ساتھی ملے ، وہ زیادہ تر
کمیونسٹ مینی فیسٹو کے ذریعے ملے۔
یہی معاملہ اسلام کا بھی ہے۔ قرآن معروف انداز کے مطابق، اکیڈمک اسلوب پر نہیں ہے، اس کا اسلوب داعیانہ اسلوب ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، قرآن نے بے شمار لوگوں کو متاثر کیا۔ مقابلے میں کئی لوگوں نے اسلام کے موضوع پر ایسی کتابیں لکھی ہیں جو خالص اکیڈمک اسلوب کے مطابق تیار کی گئی ہیں، لیکن ان کتابوں کی بنیاد پر کبھی کوئی اسلامی مشن کھڑا نہ ہوسکا۔ اس قسم کی کتابیں صرف لائبریری کی الماریوں میں پائی جاتی ہیں۔ انسانوں کی زندگی کو بدلنے میں اُن کا کوئی رول انسان کی نسبت سے صرف داعیانہ اسلوب موثر ہے، نہ کہ اکیڈمک اسلوب۔