سوال و جواب
Al-Risala, March 2014, pp. 46–47
By Maulana Wahiduddin Khan
میں الرسالہ مشن سے وابستہ ہوں اور اُس سے پورا اتفاق رکھتا ہوں۔ اس موضوع پر اکثر لوگوں سے بحث ہوتی رہتی ہے۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا اس قسم کا بیان درست ہے کہ۔ مشن کے لوگ حق پر ہیں اور مثلاً جماعت اسلامی کے لوگ باطل پر۔ براہِ کرم، اس کی وضاحت
یہ کہنا کہ فلاں شخص یا گروہ حق پر ہے اور فلاں باطل پر، یہ ہمارے مشن کی زبان نہیں۔ ججمنٹ (value judgement) کا طریقہ ہے، یعنی لوگوں پر شرعی حکم لگانا۔ کسی پر شرعی حکم لگانا ہمارا ہمارا طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے نقطہ نظر کو قرآن و حدیث کے حوالوں سے پیش کرتے ہیں۔ اگر کسی کو ہمارے نقطہ نظر سے اختلاف ہے تو وہ قرآن و حدیث کے دلائل سے اس کو رد کر سکتا ہے۔ لوگوں کے اوپر شرعی حکم لگانے کا حکم نہ ہم کو ہے اور نہ دوسروں کو۔ بدقسمتی سے امت کے درمیان ویلو ججمنٹ کا طریقہ بہت عام ہے۔ اختلاف کے بعد فوراً ہی لوگ کافر، منافق، بدنیّت جیسے الفاظ بولنے لگتے ہیں۔ اس اسلوب کا نقصان تو یقینی ہے، لیکن اس کا فائدہ کچھ بھی نہیں۔ اس سے لوگوں کے اندر منفی ذہن پیدا ہوتا ہے۔ امت میں اختلاف اور انتشار کا ماحول بنتا ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ
ڈویلپمنٹ کا طریقہ وہ مکمل طور پر ترک کر دیں۔
انسان کے اندر سب سے زیادہ اعلیٰ صفت وہ ہے جس کو صفتِ تفکیر (thinking quality) کہا جاتا ہے۔ ہر انسان مکمل معنوں میں آزادانہ فکر کا حامل ہوتا ہے۔ انسان کی اسی تخلیقی صفت سے اختلافِ رائے کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ انسانوں کے اندر اختلافِ رائے ہمیشہ رہا ہے اور ہمیشہ باقی رہے گا، وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ انسان کے لیے محفوظ موقف کیا ہے، یعنی وہ موقف جس کی بنا پر وہ اللہ کے سامنے گرفت سے بچ جائے۔ میرے مطالعے کے مطابق، اس معاملے میں محفوظ موقف یہ ہے کہ ہر آدمی اپنی فہم کی نسبت سے آزاد ہو، لیکن حکم لگانے کا حق کسی کو حاصل نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کو یہ آزادی ہو کہ وہ دیانت داری (honesty) کے ساتھ جس چیز کو حق سمجھے، اُس پر قائم رہے۔ دوسرے شخص کے بارے میں اگر وہ محسوس کرے کہ اس کی رائے غلط ہے تو اس اختلاف کی بنا پر وہ دوسرے شخص کے بارے میں حکم نہ لگائے۔ وہ اختلاف کو صرف ذہنی اختلاف کے درجے میں رکھے، وہ اس کو فیصلہ (judgement) کے درجے تک نہ یہ وہی بات ہے جس کو سیکولر علما ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: Everyone has the right to dissent, but no one has the right to pass value judgement.