Al-Risala · April 2014

کلام جاہلیت اور فہم قرآن

Al-Risala, April 2014, pp. 15–16

By Maulana Wahiduddin Khan

عرب میں اسلام سے پہلے جو دور تھا، اُس کو جاہلیت کا دور کہا جاتا ہے۔ اس دور میں عرب قبائل میں شعر و شاعری کا رواج تھا۔ عام طور پر لوگ شعر کی زبان میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے۔ اشعار ابتداء مخطوطات کی شکل میں تھے۔ چھپائی کا زمانہ آیا، تو ان اشعار کے مجموعے کتابی شکل میں چھپ کر عام ہوگئے۔ مثال کے طور پر دیوان الحماسہ، جمہرةُ اشعار العرب، سبعہ معلقہ کے شعرا کے اسلام کے ظہور کے بعد عرب میں شعر و شاعری کا زور ختم ہوگیا۔

کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن فہمی کا اصل ذریعہ یہی کلام عرب ہے۔ قرآن اسی عربی زبان میں اترا تھا، اس لیے قرآن کو سمجھنے کے لیے سب سے بڑا ذریعہ یہ ہے کہ دور جاہلیت کے شعرا کے کلام کو گہرائی کے ساتھ پڑھا جائے اور اس سے عربی اسالیب کو سمجھا جائے، اس کے بغیر قرآن کو سمجھنا ممکن یہ لوگ اس حد تک جاتے ہیں کہ پوری تاریخ میں کسی نے قرآن کو نہیں سمجھا، کیوں کہ انھوں نے عرب جاہلیت کے کلام کو بنیاد بنا کر قرآن کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ یہ بلا شبہ ایک بے اصل بات ہے۔ اس نظریے کو درست ماننے کے لیے یہ فرض کرنا پڑے گا کہ نزولِ قرآن کے وقت وہ عربی زبان ختم ہوگئی تھی جس میں قرآن اتارا گیا تھا۔ اس بنا پر دورِ اول کے جن لوگوں نے قرآن کی تفسیر کی، وہ اصل عربی زبان سے نا واقف ہو چکے تھے۔ یہ بات بداہتاً غلط ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، دور اول میں جو تفسیریں لکھی گئیں، وہ احادیثِ رسول اور صحابہ و تابعین کے اقوال پر مبنی ہوتی تھیں۔ یہ سب لوگ وہ تھے جن کی مادری زبان وہی عربی تھی جس میں قرآن اتارا گیا۔ جس زبان کو آج کا کوئی عالم، قدیم اشعارِ عرب کو پڑھ کر جانتا ہے، اس کو براہِ راست طور پر دورِ اول کے لوگ خود اُس ماحول سے جان لیتے تھے جس میں وہ پیدا ہوئے تھے۔ یہی عربی زبان ان کی مادری زبان تھی۔

قرآن فہمی کے لیے کلامِ عرب کا مطالعہ جزئی طور پر درست ہے، مگر اس کو اساسی اہمیت کا درجہ دینا اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ قرآن فہمی کے اصول کو خود قرآن سے اخذ کیا جائے، نہ کہ

ذاتی مفروضات کے ذریعے ۔ قرآن جس طرح اسلام کی تعلیمات کو جاننے کا ذریعہ ہے، اُسی طرح وہ اس بات کو جاننے کا ذریعہ بھی ہے کہ قرآن کے لیے بنیادی طور پر کن چیزوں کی اہمیت ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ وہ عربی مبین (195:26) کی زبان میں اترا، دوسری طرف قرآن میں اس کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ قرآن کے ان بیانات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن فہمی کے لیے دو چیزوں کی لسان عرب اور لسان فطرت ۔ قرآن کے طالب علم کو ایک طرف یہ کرنا ہے کہ وہ اُس عربی مبین سے واقف ہو جو رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں عربوں کے درمیان بولی اور سمجھی جاتی تھی، خاص طور پر قبیلہ قریش کی زبان ۔ قرآن کسی لسان ماضی میں نہیں اترا، بلکہ وہ لسان حال میں اترا، اور یہ لسان حال عملاً وہی تھی جو خاص طور پر قریش کے درمیان رائج تھی ۔ یہ عربی مبین قرآن وحدیث میں ممارست کی بنا پر اہلِ حجاز کے درمیان اب بھی عملاً موجود ہے۔

اس سلسلے میں دوسری چیز انسان کی وہ فطرت ہے جس پر اللہ نے اُس کو پیدا کیا ہے (30:30)۔ قرآن اپنے الفاظ کے اعتبار سے عربی زبان میں ہے، لیکن اپنے خطاب کے اعتبار سے، وہ انسان کی فطرت کو ایڈریس کرتا ہے۔ اس لیے قرآن فہمی کے لیے دوسری اہم ضرورت یہ ہے کہ قرآن کے طالب علم کے اندر فطرت شناسی کا مادہ موجود ہو۔ اس کے اندر یہ صلاحیت پائی جاتی ہو کہ وہ انسان کی فطرت، بہ الفاظ دیگر نفسیات انسانی کو گہرائی کے ساتھ جانتا ہو ۔ قرآن فہمی کے لیے یہ دونوں چیزیں یکساں طور پر ضروری ہیں۔ قرآن کو اس کے گہرے معانی کے ساتھ سمجھنے کے لیے نہ تنہا عربی زبان کافی ہوسکتی ہے اور نہ تنہا فطرت انسانی سے واقفیت ۔ عربی زبان سے واقفیت آدمی کے اندر متن شناسی کی صلاحیت پیدا کرتی ہے اور فطرت انسانی سے واقفیت آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتی ہے کہ وہ قرآن کے معانی تک رسائی حاصل کر سکے۔ فطرت انسانی سے واقفیت کے بغیر لسانی مہارت صرف ایک فنی مہارت ہے اور محض فنی مہارت قرآن فہمی کے لیے ہرگز کافی نہیں۔

Printed page