خلافت کا تصور
Al-Risala, January 2014
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ البقرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا کیا تو اللہ اور فرشتوں کے درمیان ایک مکالمہ ہوا۔ اس مکالمے کے دوران اللہ نے انسان کی پیدائش کا مقصد اس طرح بیان کیا: وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (2:30) یعنی یاد کرو اُس وقت کو جب کہ تمھارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ خلافت کے لغوی معنی ہیں: بعد کو آنا۔ خلیفہ کا مطلب ہے: کسی کے بعد اس کی جگہ پر آنے والا، یعنی جانشین (successor)۔ خلیفہ کا اصل لفظی مطلب یہی ہے، لیکن اس طرح کسی کے بعد جو شخص جانشین بنتا ہے، وہ عام طور پر صاحب اقتدار ہوتا ہے، اس لیے استعمال میں خلیفہ کا لفظ مجرد طور پر صاحب اقتدار کے لیے بولا جانے لگا، خواہ ایسا شخص جانشین کے طور پر صاحب اقتدار بنا ہو یا جانشینی کے بغیر اس کو یہ پوزیشن حاصل ہوگئی ہو۔
قرآن کی اس آیت میں خلیفہ کا لفظ اسی دوسرے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو زمین پر ایک با اختیار مخلوق کی حیثیت سے آباد کیا۔ ایک عارضی مدت کے لیے زمین انسان کے چارج میں دے دی گئی۔ نظام فطرت کے مطابق، اگر چہ زمین کا انتظام انسان چلا رہے ہیں جس طرح کائنات کے دوسرے حصوں کا انتظام فرشتے چلا رہے ہیں۔ لیکن محدود معنی میں زمین انسان کے چارج میں ہے۔ قیامت تک کے لیے انسان کو کامل اختیار ہے کہ وہ اپنے دائرے میں زمین پر آزاد مخلوق کی حیثیت سے زندگی گزارے، خواہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرے یا غلط استعمال۔ قرآن فہمی کا ایک اصول یہ ہے: القرآن يفسر بعضه بعضا (قرآن کا ایک حصہ اُس کے دوسرے حصے کی تفسیر کرتا ہے)۔ اس اصول کے مطابق، غور کیا جائے تو قرآن کی متعدد آیتوں سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کو خلیفہ بنانے کا مطلب کیا ہے۔ اُن میں سے ایک آیت یہ ہے: ثُمَّ جَعَلْنَاكُمْ خَلَائِفَ فِي الْأَرْضِ مِنْ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ (10:14)۔
اصل یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالی نے ایک کامل مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ کے اعتبار سے، پہلا انسان اتناہی کامل تھا، جتنا کہ اکیسویں صدی کا انسان۔ لیکن جس سیارہ ارض (planet earth) پر انسان کو بسایا گیا، وہاں تمام چیزیں موجود تھیں، لیکن یہ چیزیں زیادہ تر بالقوہ (potential) طور پر موجود تھیں ۔ اب یہ انسان کا کام تھا کہ وہ اس بالقوہ کو بالفعل (actual) بنائے ۔ پوری انسانی تاریخ اس معاملے کی تصویر ہے۔ وہ بالقوہ سے بالفعل کی طرف سفر کر رہی ہے۔ اس سفر کے لیے انسانی زبان میں سب سے زیادہ موزوں لفظ تہذیب ہے۔ پوری انسانی تاریخ، آدم سے لے کر قیامت تک ، اسی تہذیبی سفر کا دوسرا نام ہے۔ خالق نے کرہ ارض کو تہذیب کے مقام یا مقر (abode of civilization) کے طور پر بنایا۔ انسان کا کام یہ تھا کہ وہ اس پوٹینشیل تہذیب (potential civilization) کو ایکچول تہذیب (actual civilization) کی صورت میں اسی رول کو انجام دینے والے کا نام خلیفہ ہے، خواہ وہ مذہبی انسان ہو یا سیکولر انسان۔ تہذیب کا لفظ عام طور پر مادی ترقی کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ معروف تصور کے مطابق، تہذیب کا مطلب ہے ۔ سوشل کلچرل اور سائنٹفک ترقی کا اعلی مرحلہ۔ مگر تہذیب کی یہ تعریف ایک محدود تعریف ہے۔ تہذیب کے تصور کو پوری طرح سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کے پس منظر میں دیکھا جائے۔ چوں کہ تہذیب کے معمار خود سے کوئی چیز تخلیق نہیں کرتے، وہ خالق کے پیدا کردہ ذرائع (natural resources) یا انفراسٹرکچر کو استعمال کرتے ہوئے تہذیب کا سفر جاری کرتے ہیں۔ گویا کہ تہذیب کے تمام انسانی معمار، خالق کے وہ خدا کے تخلیقی منصوبے کو واقعے کی صورت دے رہے ہیں۔
تہذیب کا یہ سفر اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ربانی تہذیب کا سفر ہے۔ وہ انسان کو اُس منزل کی طرف لے جانے والا ہے جہاں وہ حمد الہی اور شکر خداوندی کا اعلی تجربہ کرے، جہاں وہ ربانی معرفت کے اعلی مراتب کو حاصل کر سکے۔ مگر یہ کام چوں کہ انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے انجام دیا جا رہا ہے، اس لیے لوگ اس کی معنویت کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ تہذیب کے اس سفر کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ
آدمی انسانی آزادی سے پیدا ہونے والی خرابیوں (evils) کو الگ کر کے یہ دیکھ سکے کہ خدا کس طرح انسانی تاریخ کو پہنچ کر رہا ہے۔ انسانی تاریخ کو بامعنی طور پر سمجھنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ مبصر، انسانی عنصر کو الگ کر کے تاریخ میں عمل کرنے والے خدائی عنصر کو دیکھ سکے۔ اللہ نے انسان کو کامل آزادی عطا فرمائی ہے۔ یہ آزادی اس لیے ہے تا کہ انسان خود سے چیزوں کو دریافت کرے، وہ اپنے اندر ایک خود تعمیر کردہ شخصیت (self-developed personality) انسان کبھی اپنی آزادی کو صحیح استعمال کرتا ہے اور کبھی غلط استعمال۔ لیکن اللہ اپنی قوت قاہرہ کے ذریعے تاریخ کو پہنچ کرتے ہوئے اُس کو اُس منزل کی طرف لے جا رہا ہے جو اس کی اصل منزل ہے، یعنی معرفتِ خداوندی (realization of God) کی تکمیل ۔
اللہ نے انسانیت کے آغاز سے پیغمبروں کو بھیجنے کا جو سلسلہ جاری کیا، وہ اس لیے تھا کہ پیغمبر، انسان کو خدا کے تخلیقی منصوبے سے باخبر کریں اور یہ کوشش کریں کہ انسانی تہذیب کا سفر صحیح رخ (right direction) میں جاری رہے۔ مگر تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان اپنی آزادی کو استعمال کرنے میں زیادہ ذمے دار ثابت نہیں ہوا۔ بہت جلد ایسا ہوا کہ تاریخ عمومی طور پر توحید کے راستے سے ہٹ کر شرک کے راستے پر چل پڑی ۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انسان نے پایا کہ پیغمبر جس اللہ کی خبر دے رہے ہیں، وہ اللہ اس کو دکھائی نہیں دیتا، البتہ اللہ کی پیدا کردہ مخلوقات ہر طرف دکھائی دے رہی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان نے نہ دکھائی دینے والے خدا کو چھوڑ کر، دکھائی دینے والی چیزوں کو اپنا خدا سمجھ لیا۔ یہ واقعہ کس طرح ہوا، اس کا اشارہ قرآن کے ان الفاظ میں ملتا ہے: هَذَا رَبِّي هَذَا أَكْبَرُ (6:78) یعنی ہر وہ چیز جو بظاہر بڑی (great) دکھائی دے، اس کو خدا یا شریکِ خدا سمجھ لینا۔ قدیم تاریخ میں شرک کی وہ صورت پیدا ہوئی جس کو مظاہرِ فطرت کی پرستش (nature worship) کہا جاتا ہے۔ فطرت پرستی کا یہ نظریہ لوگوں میں بہت مقبول ہوا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ پچھلے زمانے کے تمام بادشاہ فطرت پرستی کو اپنے لیے موزوں (convenient) سمجھ کر اس مذہب کی سرپرستی کرنے لگے۔
انھوں نے اسی مشرکانہ مذہب سے اپنے لیے حق حکم رانی (mandate) لینا شروع کر دیا۔ ایسا ہوا کہ قدیم زمانے میں ساری دنیا میں شرک کو سرکاری مذہب (official religion) کی حیثیت شرک اور سیاسی اقتدار کے اسی تعلق (nexus) کے نتیجے میں قدیم زمانے میں شرک کو ساری دنیا میں دبَدبہ حاصل ہو گیا۔ شرک کا یہ دبَدبہ مذہب توحید کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ تھا۔ شرک کے اسی دبَدبے کو قرآن میں فتنہ (8:29) کہا گیا ہے۔