ہارون رشید کا ایک واقعہ
Al-Risala, April 2014, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
ہارون رشید عباسی دور کا پانچواں خلیفہ ہے۔ وہ 766 میں پیدا ہوا اور 809 میں اس کی وفات اس کا ایک واقعہ حسب ذیل الفاظ میں نقل کیا گیا ہے:
"و ذكر أن يهودياً كانت له حاجة عند هارون الرشيد، فاختلف إلى بابه سنةً، فلم يقض حاجته، فوقف يوماً على الباب - فلما خرج هارون سعى حتى وقف بين يديه وقال: اتق الله يا أمير المؤمنين، فنزل هارون عن دابته فلما رفع راسه أمر بحاجته فقضيت - فلما رجع قيل له: يا أمير المؤمنين، نزلت عن دابتك لقول يهودي- قال: لا، ولكن تذکرتُ قول الله تعالى: وإذا قيل له اتق الله أخذته العزة بالإثم، فحسبه جهنم، ولبئس المهاد" - (تفسير القرطبي، 19/3)
ترجمہ: کہا جاتا ہے کہ ایک یہودی تھا جس کو ہارون رشید سے ایک کام تھا۔ وہ شخص اس کام کے لیے خلیفہ کے دروازے پر ایک سال تک جاتا رہا، مگر خلیفہ نے اس کی ضرورت پوری نہ کی، پھر ایک دن وہ یہودی، خلیفہ کے دروازے پر کھڑا ہو گیا۔ جب ہارون رشید باہر نکلا تو وہ شخص تیزی سے آ کر خلیفہ کے سامنے کھڑا ہو گیا، اور کہا کہ اے امیرالمومنین، اللہ سے ڈریئے۔ یہ سن کر ہارون رشید اپنی سواری سے اترا اور سجدے میں گر پڑا۔ پھر ہارون رشید نے سجدے سے سر اٹھایا اور اس نے حکم دیا اور یہودی کی ضرورت پوری کر دی گئی۔ پھر جب ہارون رشید لوٹا تو اس سے کہا گیا کہ اے امیر المومنین، کیا آپ ایک یہودی کے قول پر اپنی سواری سے اتر گئے۔ نے کہا کہ نہیں، بلکہ مجھے اللہ تعالی کا یہ قول یاد آیا: وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ ۚ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ (2:206) یعنی جب اُس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر تو وقار اُس کو گناہ پر جما دیتا ہے۔ پس ایسے شخص کے لیے جہنم کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔