چند مثالیں
Al-Risala, April 2014, pp. 27–28
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام سے پہلے خدا کا عقیدہ ایک رسمی قسم کا مبنی بر قلب (heart-based) عقیدہ تھا، اسلام نے خدا کے عقیدہ کو ایک زندہ شعور کے طور پر مبنی بر ذہن (mind-based) عقیدے کی حیثیت سے زندہ کیا، لیکن وقت کا عمومی شاکلہ اس کے موافق نہ تھا، اس لیے بہت جلد ایسا ہوا کہ مسلمانوں کے درمیان خدا کا عقیدہ زندہ عقلی شعور کے طور پر باقی نہ رہا۔ وہ دوبارہ مبنی بر قلب قسم کا رسمی عقیدہ بن کر رہ گیا۔
اسلام سے پہلے ہر مذہب میں عبادت کا تصور موجود تھا، لیکن ان کی عبادت محض ایک مبنی بر فارم عمل بنی ہوئی تھی۔ اسلام نے دوبارہ عبادت کو مبنی بر اسپرٹ (spirit-based) عبادت کی حیثیت سے زندہ کیا، لیکن چند نسلوں کے بعد دوبارہ قدیم مزاج واپس آگیا اور خدا کی عبادت محض کچھ رسمی اعمال کا مجموعہ بن کر رہ گئی۔ یہی معاملہ پیغمبر کے عقیدہ (رسالت) کا بھی تھا۔ پچھلی امتوں نے بعد کے زمانے میں اپنے پیغمبروں کو اتنا زیادہ بڑھایا کہ خدا اور پیغمبر میں صرف نام کا فرق باقی رہا۔ وہ برائی ہے جس کو پیغمبر اسلام نے پیشگی طور پر ان الفاظ میں بیان فرمایا تھا: لا تطروني كما أطرت النصارى عيسى بن مريم (صحيح البخاري، رقم الحديث: 3445)
بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے درمیان فضیلت کے نام پر ایسے عقیدے رائج ہوئے جس کے بعد عملاً پیغمبر اسلام کی تصویر بھی وہی بن گئی جو پچھلی امتوں کے یہاں رائج تھی، یعنی خدا اور پیغمبر کے درمیان صرف نام کا فرق باقی رہا۔
اسی طرح پچھلے مذاہب میں مقدس جنگ (holy war) کا تصور تھا۔ اسلام نے اس تصور کو اسلام میں قتال اور جہاد کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا گیا۔ قتال صرف دفاعی جنگ کے لیے مخصوص ہو گیا اور جہاد کو پر امن دعوتی جدوجہد (25:52) کے ہم معنی قرار دیا گیا۔ لیکن بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے درمیان قتال کو جہاد کا عنوان دے دیا گیا۔ اس طرح مقدس جنگ کا تصور مسلمانوں کے درمیان دوبارہ لوٹ آیا۔
اسی طرح اسلام میں اجتماعی نظام کو شوری (42:38) کے تابع کیا گیا تھا، یعنی کسی خارجی معیار کے بجائے لوگوں کی عمومی رائے کی بنیاد پر اجتماعی نظام کا فیصلہ کرنا۔ لیکن بعد کے زمانے میں قدیم خاندانی حکمرانی (dynasty) کا طریقہ واپس آ گیا۔ شخصی حکمرانی کا یہ ذہن بعد کے زمانے کے مسلمانوں پر اتنا زیادہ غالب ہوا کہ اگر کسی مسلم ملک میں بظاہر جمہوریت کو اختیار کیا گیا تو وہ بھی عملاً آمریت(dictatorship) بن کر رہ گئی۔
اسی طرح اسلام میں قدیم تصور کے برعکس، مذہبی آزادی کو اختیار کیا گیا، لیکن چند نسلوں کے بعد عملاً اس کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ اس کے مظاہر آج بھی مسلمانوں کے اندر مختلف صورتوں میں دیکھے جا سکتے مثلاً فرقہ وارانہ تشدد، تکفیر کے فتوے، مرتد اور شاتم رسول کے لیے سزائے قتل، وغیرہ۔ اس قسم کے تمام مظاہر بلاشبہہ قدیم زمانے کے مذہبی جبر کی نئی صورتیں ہیں۔