Al-Risala · April 2014

متوازی عمل

Al-Risala, April 2014, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

امت مسلمہ کے بعد کے دور میں یہ تمام خرابیاں اس لیے پیدا ہوئیں کہ اسلام کی انقلابی اصلاحات کے حق میں فکری بنیاد موجود نہ تھی۔ اسلام نے مذہب کو دوبارہ اس کی اصل خدائی صورت میں زندہ کیا، لیکن زمانی عامل (age factor) ان اصلاحات کے موافق نہ تھا۔ قانون فطرت کے مطابق، فکری بنیاد اچانک وجود میں نہیں آتی، بلکہ وہ لمبے تدریجی عمل کے بعد وجود میں آتی ہے۔ یہ نہایت مشکل منصوبہ ہے، کیوں کہ انسانی آزادی کو باقی رکھتے ہوئے اس کو وجود میں لانا پڑتا ہے۔ اس لیے اللہ نے اس منصوبے کو ظہور میں لانے کے لیے تاریخ میں ایک متوازی عمل (parallel process) جاری فکری بنیاد کو ظہور میں لانے کا یہ متوازی عمل تقریباً ہزار سال تک جاری رہا، یہاں تک کہ وہ بیسویں صدی عیسوی میں اپنی تکمیل تک پہنچا۔ اس عمل کا آغاز پیغمبر اور اُن کے اتباع (followers) نے کیا اور آخر کار اس کی تکمیل ہزار سال بعد اہل مغرب کے ذریعے انجام پائی۔

Printed page