استبدال قوم
Al-Risala, April 2014, pp. 28–37
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں فطرت کے جو قوانین بتائے گئے ہیں، اُن میں سے ایک قانون وہ ہے جس کو
استبدال (replacement) کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی آیت کے الفاظ یہ ہیں: ﴿وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ﴾ (47:38) یعنی اگر تم پھر جاؤ تو اللہ تمھاری جگہ دوسری قوم کو لے آئے گا، پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے:
If you turn back, He will bring in your place another people, who will not be like you. استبدال قوم کا یہ قانون فطرت کا ایک عمومی قانون ہے۔ اس کا تعلق مذہبی قوم سے بھی ہے اور غیر مذہبی قوم سے بھی۔ اسلام کی انقلابی اصلاحات کے لیے جس فکری بنیاد کی ضرورت تھی، اس کو مسلمان پورے طور پر وجود میں نہ لا سکے۔ مسلمان بعد کے زمانے میں قدیم مذہبی تصورات کے زیر اثر اس بنا پر وہ اس مقصد کے لیے اہل نہ تھے۔ چناں چہ اللہ کا یہ فیصلہ ہوا کہ اس متوازی رول کا ذریعہ وہ ایک ایسی قوم کو بنائے جو اس عمل کو اس کی تکمیل تک پہنچا سکے۔ اہل مغرب کا تائیدی رول پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی کے طور پر یہ بات بتادی تھی کہ اللہ تعالیٰ ایک سیکولر قوم سے دین کی تائید کا کام لے گا (إن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر)۔ اہل مغرب کی تاریخ کا غیر جانب دارانہ مطالعہ بتاتا ہے کہ اہل مغرب نے جو تہذیب برپا کی اور جس کو مغربی تہذیب کہا جاتا ہے، وہ سیکولر مغرب کے ذریعے اسی تائید دین کی مثال ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مغربی تہذیب کے ذریعے جو نئے علوم اور نئے حالات پیدا ہوئے، وہ اپنے عملی نتیجے کے اعتبار سے، اسلام کے حق میں فکری بنیاد فراہم کرنے والے تھے، تاکہ رسول اور اصحاب رسول کا جاری کردہ عمل اپنے تکمیلی مرحلے تک پہنچ سکے۔ اس تکمیلی عمل کے چند پہلو یہاں بیان کیے جاتے ہیں:
جدید تہذیب کے تحت جو میڈیکل سائنس وجود میں آئی، اس نے تاریخ میں پہلی بار اُس نظریے کو ختم کر دیا جس کو سوچنے والا دل (thinking heart) کہا جاتا تھا۔ اب یہ پوری طرح
ثابت ہو گیا ہے کہ دل انسانی جسم میں صرف گردش خون (circulation of blood) کا ذریعہ ہے۔ اس معاملے میں جدید میڈیکل سائنس یہاں تک پہنچی ہے کہ اُس نے مصنوعی دل (artificial heart) ایسے مریض جن کے دل عملاً نان فنکشنل (non-functional) ہونے والے تھے، اُن کے جسم میں ڈاکٹروں نے مصنوعی دل نصب کر دیا۔ یہ مصنوعی دل عملاً فطری دل کا بدل بن گیا۔ مریضوں کا دل عملاً معطل تھا، اُن کے جسم میں دل کی جگہ ایک مادی ڈیوائس (material device) نصب کیا گیا، اس کے باوجود اُن کا دماغ پہلے کی طرح کام کر رہا تھا۔ اُن کا حافظہ، اُن کے سوچنے کی صلاحیت، کسی کمی کے بغیر، پہلے کی طرح برقرار تھی۔ اس طرح تجرباتی طور پر ثابت ہو گیا کہ تفکیر کے عمل (thinking process) کا تعلق انسان کے دل سے نہیں ہے، بلکہ اس کے دماغ سے ہے۔ یہ ایک بہت بڑا واقعہ ہے جس سے قدیم زمانے کا انسان مکمل طور پر بے خبر تھا۔ اسلام میں معرفت کو قدیم تصور کے برعکس، دل کے بجائے دماغ پر مبنی قرار دیا گیا۔ قرآن میں دماغ (mind) کے لیے مختلف الفاظ آئے ہیں۔ مثلاً قلب، فواد، عقل، لب، حجر، نہی۔ واضح ہو کہ قلب کا لفظ عربی زبان میں عقل کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے (لسان العرب: 687/1)۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں اس سلسلے میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں، وہ سب تفکیری عضو (thinking organ) کے معنی میں ہیں، قرآن میں گردش خون کے ذریعے کے طور پر کسی عضو کا ذکر نہیں۔ پچھلے ہزار سال کے دوران مسلمانوں میں فکری ارتقا نہ ہو سکا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلمان فکری عمل کا سر چشمہ غلط طور پر دل کو قرار دیے ہوئے تھے۔ جدید دریافت نے یہ راستہ کھول دیا ہے کہ مسلمانوں میں فکری ارتقا کا عمل حقیقی سطح پر جاری ہو سکے۔ قدیم زمانے میں تمام مذاہب میں معرفت حق (realization of truth) کا منبع (source) دل کو سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے قدیم زمانے میں مراقبہ (meditation) کے طریقے رائج ہوئے، مگر ان طریقوں کے ذریعے قدیم زمانے کے لوگوں کو کبھی حقیقی معنوں میں معرفت حق کا تجربہ نہیں ہوا، کیوں کہ دل صرف گردش خون کا ذریعہ تھا۔ معرفت صرف تفکیر اور تدبر کے ذریعے حاصل ہو سکتی ہے، جس کا مرکز انسان کا دماغ ہے۔ دل سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
رسول اور اصحابِ رسول کے مختصر زمانے کے بعد خود امتِ مسلمہ میں یہی دل پر مبنی تصورِ معرفت دوبارہ لوٹ آیا۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے ہزار سال کے دوران امتِ مسلمہ حقیقی معرفت سے تقریباً محروم رہی۔ موجودہ زمانے میں جدید میڈیکل سائنس کے ذریعے جو نیا دور آیا، اُس نے پہلی بار یہ کیا کہ دل پر مبنی معرفت کے افسانہ (myth) کو ختم کر دیا۔ اب تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہو گیا کہ مبنی بر ذہن (mind-based) معرفت کو ڈیولپ کیا جائے اور معرفتِ الہی کے اعلیٰ درجات تک پہنچنے کی کوشش کی اِس اعتبار سے، جدید میڈیکل سائنس قدیم نظریے کی تصحیح کی حیثیت رکھتی ہے۔ 2- قدیم زمانے میں ساری دنیا میں مطلق العنان بادشاہت (despotism) کا طریقہ اس سیاسی کلچر کے تحت ساری دنیا میں مذہبی جبر کا کلچر عام تھا۔ جدید مغربی تہذیب کے تحت پہلی بار ایسا ہوا کہ دنیا میں جمہوریت کا زمانہ آیا۔ جمہوریت ایک اعتبار سے، سیاسی طاقت کی عدم مرکزیت (decentralization) کا کلچر ہے۔ اِس کلچر کے تحت مذہب کے معاملے کو سیاسی اقتدار سے الگ کر دیا گیا۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار مذہبی آزادی کو ایک مسلمہ بین اقوامی اصول (international norm) کے طور پر مان لیا گیا اور اقوام متحدہ (UNO) کے تحت تمام قوموں نے اس کی متفقہ تصدیق کر دی ۔ اسلام ایک دعوتی مشن ہے اور اسلام کے دعوتی مشن کی عالمی تکمیل کے لیے ضروری تھا کہ دنیا میں مذہبی آزادی کو ایک مسلمہ بین اقوامی اصول کے طور پر مان لیا گیا ہو۔ یہ واقعہ پہلی بار مغربی تہذیب کے دور میں کامل طور پر انجام پایا ہے۔
3- قدیم زمانے میں مذہب کی بنیاد صرف عقیدہ (belief) ہوا کرتا تھا۔ انسان ایک عقلی وجود (rational being) ہے۔ ضرورت تھی کہ انسان کو ایسا مذہب دیا جائے جو اس کے عقلی ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ لیکن اِس مقصد کے لیے عقلی ڈیٹا (rational data) درکار تھا جو کہ قدیم زمانے میں دستیاب نہ تھا۔ مغربی تہذیب کے تحت پیدا ہونے والی سائنس نے فطرت (nature) میں تحقیق کے ذریعے یہ عقلی ڈیٹا فراہم کیا۔ اِس طرح تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ دینِ خداوندی کے عقائد کو عقلی بنیاد (rational ground) پر قابل فہم (understandable) بنایا جا سکے۔ اِس حقیقت کا اعلان
قرآن مجید میں پیشگی طور پر ان الفاظ میں کیا گیا تھا: سَنُرِيهِمْ اَيٰتِنَا فِي الْاَفَاقِ وَفِيْ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقّ (41:53)۔
قرآن کی اس آیت میں آفاق اور انفس سے مراد تمام وہ مادی اور غیر مادی تخلیقات ہیں جو وسیع کائنات میں پائی جاتی ہیں۔ اس پورے مجموعے کو فطرت (nature) کہا جاتا ہے۔ فطرت کی اس دنیا میں بے شمار ربانی نشانیاں (signs of God) موجود تھیں۔ ضرورت تھی کہ ان نشانیوں کو دریافت کیا جائے، تاکہ امر حق خود انسانی مسلمات کی بنیاد پر مدلل ہو سکے۔ خدائی نشانیوں کی ان فولڈنگ کا یہ کام ہزاروں سال سے نہیں ہوا تھا۔ موجودہ زمانے میں مغربی تہذیب نے پہلی بار سائنسی تحقیقات کے ذریعے ان نشانیوں کو کھولا اور ان کو انسان کے لیے ایک معلوم واقعہ بنایا۔ یہ موافق دلائل فطرت (nature) میں آیات الہی کے طور پر موجود تھے، وہ مخفی حالت میں تھے۔ مغربی سائنس نے قوانین فطرت کے نام سے جن حقائق کو دریافت کیا ہے، وہ دراصل یہی دلائل ہیں۔ اس کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ اسلام کے علمِ کلام (theology) کو قیاسات کے بجائے برہانیات کی بنیاد پر قائم کی جائے۔
قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا۔ اُس وقت قرآن میں یہ کہا گیا تھا کہ: تَبٰرَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعٰلَمِينَ نَذِيراً (25:1)۔ اس آیت کے مطابق، یہ مطلوب تھا کہ قرآن کی تعلیمات کو زمین پر بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچایا جائے۔ قدیم زمانے میں عملاً ایسا ہونا ممکن نہ تھا۔ اس عالمی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ضروری تھا کہ پوری دنیا کا جغرافیہ معلوم ہو۔ پرنٹنگ پریس اور کمیونیکیشن کا دور دنیا میں آجائے، ساری دنیا میں بہ آسانی سفر کرنا ممکن ہو جائے، لوگوں کے درمیان کھلاپن (openness) کی فضا موجود ہو، ترقی یافتہ زبانیں دنیا میں پائی جاتی ہوں، وغیرہ۔
عالمی دعوت کو ممکن بنانے کے لیے یہ تمام چیزیں لازمی طور پر ضروری ہیں۔ قدیم زمانے میں یہ اسباب موجود نہ تھے، اس لیے قدیم زمانے میں اسلام کی عالمی اشاعت کا یہ نشانہ عملاً پورا نہیں ہو سکتا انیسویں صدی کے بعد کے زمانے میں پہلی بار یہ اسباب حاصل ہوئے ہیں اور ان اسباب کا
حصول براہ راست مغربی تہذیب کے ذریعے ممکن ہوا۔
قرآن اصلا ایک کتاب دعوت ہے، لیکن دعوت کی نکات کو مدلل کرنے کے لیے قرآن میں بہت سے حوالے دئے گئے ہیں جن کا تعلق تاریخ یا عالم فطرت سے ہے۔ مگر ساتویں صدی کے ربع اول میں ان حوالوں کی ضروری تفصیلات معلوم نہ تھیں۔ اس بنا پر قرآن کے یہ حوالے عملاً صرف عقیدہ کا مسئلہ (matter of belief) بنے ہوئے تھے۔ اس قسم کی مثالیں قرآن میں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ مثلاً قرآن میں کائنات کے آغاز کے لیے ایک حوالہ یہ ہے: أَوَ لَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقاً فَفَتَقْنٰہُمَا (21:30)۔ اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان جب بطن مادر میں ہوتا ہے تو وہ تین پردوں (فی ظلمات ثلاث) کے درمیان ہوتا ہے (39:6)۔ قرآن میں فرعون کے جسم کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةٌ (10:92)۔ قرآن میں کثرت سے اس طرح کے حوالے پائے جاتے ہیں۔ کہ اُن کے متعلق تاریخی اور سائنسی معلومات دریافت کی جائیں، تاکہ قرآن کے یہ بیانات انسان کے لیے پوری طرح قابل فہم ہو جائیں۔ یہ کام بھی پہلی بار مغربی علوم کے ذریعے انجام پایا ہے۔ قدیم زمانے میں مذہبی جبر عام تھا۔ اس بنا پر دعوت حق کا کام معتدل انداز میں نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ صورت حال ایک سیاسی سبب کی بنا پر تھی۔ قدیم زمانے کے حکمراں اپنا حق حکمرانی (mandate) مذہب کی بنیاد پر حاصل کرتے تھے، اس لیے وہ اس کو برداشت نہیں کرتے تھے کہ اُن کے علاقے میں سلطنت کے مذہب کے سوا کوئی اور مذہب پایا جائے۔ مذکورہ آیت میں اظہارِ دین کا ایک پہلو یہ تھا کہ حق حکمرانی کے معاملے کو مذہب سے جدا کر دیا جائے۔ دورِ اول میں جو اسلامی انقلاب آیا، اُس نے تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری کیا۔ یورپ کی جمہوریت اسی عمل کی مغربی جمہوریت نے یہ کیا کہ حق حکمرانی کے معاملے کو مذہب سے الگ کر کے اس کو عوامی رائے سے وابستہ کر دیا۔ اس کے نتیجے کے طور پر دنیا میں پہلی بار مذہبی امن کا دور آگیا۔ اس دور کی باقاعدہ تکمیل اقوام متحدہ کی صورت میں ہوئی ۔ جس کے تحت مذہب کے معاملے میں تشدد کو بطور اصول
ممنوع قرار دے دیا گیا۔ یہ واقعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے گویا دورِ جدید میں حکمتِ حدیبیہ کی عالمی توسیع ہے جو اسلامی دعوت کے حق میں ایک عظیم نعمت کی حیثیت رکھتی ہے۔
مغربی دنیا کے سیکولر اہلِ علم نے اسلام کا مطالعہ اپنے اصول کے مطابق، خالص موضوعی انداز میں کیا۔ اس بنا پر وہ اسلام کے کئی ایسے پہلو کو دریافت کر سکے جو مسلم اہلِ علم سے اعتقادی مطالعے کی بنا پر مخفی تھے۔ مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مشن کے سلسلے میں غیر معمولی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس مقابلے میں پیغمبر اسلام کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کامیابی کو مسلم اہلِ علم عام طور پر ”فضیلتِ رسول“ کے خانے میں ڈالے ہوئے ہیں۔ اس کامیابی کو فضیلتِ رسول کے خانے میں ڈالنے کا نقصان یہ ہے کہ عام مسلمانوں کو اس سے کوئی سبق نہیں ملا۔ اس طریق مطالعہ سے عام مسلمانوں کو صرف فخر کی غذا ملی۔ وہ اپنے پیغمبر کو فخرِ موجودات“ کہنے لگے۔ لیکن مغرب کے سیکولر اہلِ علم نے ان واقعات کا تجزیہ غیر جانب دارانہ ذہن کے ساتھ کیا تو انھوں نے ایک ایسی حقیقت دریافت کی جس میں تمام مسلمانوں، بلکہ تمام انسانوں کے لیے کامیابی کا اعلیٰ اصول موجود تھا۔ مثلاً ایک برٹش رائٹر (E. E. Kellet) نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرے کے تحت لکھا ہے کہ۔ انھوں نے مشکلات کا مقابلہ اس عزم کے ساتھ کیا کہ وہ نا کامی سے کامیابی کو نچوڑیں:
He faced adversity with the determination to wring success out of failure. یہ صرف ایک تاریخی تجزیہ نہیں، اس سے زندگی کا ایک اہم اصول دریافت ہوتا ہے، وہ یہ کہ انسان کو اُن کے خالق نے ایک انوکھی صلاحیت کے ساتھ پیدا کیا ہے، اور وہ ہے اپنے مائنس کو اپنے پلس میں تبدیل کر لینا ۔
انسانی شخصیت کا یہ امکان (potential) فطرت کا ایک عظیم عطیہ ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل کے ذریعے اس انسانی فطرت کا ایک کامیاب مظاہرہ کیا، مگر مسلمان اپنے
عقیدت مندانہ مطالعے کی بنا پر اس پہلو کو بطورِ سنتِ رسول اپنی زندگیوں میں شامل نہ کر سکے۔ سیرت نگاروں نے سیرتِ نبوی کے اس پہلو کو دریافت کرکے مسلمانوں کو یہ موقع دیا کہ وہ اس کو اختیار کریں اور اس کے ذریعے اپنے منصوبوں کو حقائق کی بنیاد پر قائم کرکے اس کو کامیاب بنائیں۔ مغربی تہذیب کا دینِ خداوندی کے حق میں سب سے بڑا تائیدی رول یہ ہے کہ اس نے اہلِ اسلام کے لیے وہ ضروری اسباب فراہم کیے جن کو استعمال کرکے وہ دورِ آخر کے اُس اہم ترین رول کو کامیابی کے ساتھ ادا کرسکیں، جس کو حدیث میں شہادتِ اعظم کہا گیا ہے۔ شہادتِ اعظم سے مراد دعوتِ اعظم اس دعوتِ اعظم کے دو پہلو ہیں— نظری اعتبار سے، اس کا اعلیٰ حجت (superior reason) پر قائم ہونا، اور وسعت کے اعتبار سے، اس کے دائرے کا عالمی (global) ہونا۔
صحیح مسلم میں ایک لمبی روایت آئی ہے۔ اس روایت میں دورِ آخر کے ایک اہم رول کا ذکر بطورِ پیشین گوئی کیا گیا ہے۔ اس کی بابت حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هذا أعظم الناس شهادة عند رب العالمين (صحیح مسلم، رقم الحديث: 5230) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اللہ رب العالمین کے نزدیک سب سے بڑی شہادت ہوگی۔ اس حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ’شہادت‘ سے مراد جسمانی قتل نہیں ہے، بلکہ اُس سے مراد نظریاتی معنوں میں ایک عظیم دعوتی رول ہے جو دورِ آخر میں انجام پائے گا۔ سے مراد انسانی تاریخ کے آخری زمانے کا ایک فائُنل دعوتی رول ہے۔ اس دعوتی رول کی صراحت اگر چہ حدیث میں موجود نہیں ہے، لیکن قرآن وحدیث میں ایسے اشارات موجود ہیں جن پر غور کرکے اس رول کو متعین کیا جاسکتا ہے۔
1- شہادتِ اعظم کے نظری پہلو کو سمجھنے کے لیے قرآن کی اس آیت سے رہنمائی ملتی ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)— قرآن کی اس آیت میں ’آیات‘ سے مراد تخلیق میں چھپی ہوئی نشانیاں ہیں۔ ان نشانیوں کو موجودہ زمانے میں
مغربی سائنس دانوں نے غیر معمولی تحقیق کے ذریعے دریافت کیا۔ اس طرح دینِ خداوندی کی تاریخ میں ایک نیا دور آگیا۔ قبل از سائنس دور (pre-scientific era) میں جو ایمان پیغمبروں کے بتائے ہوئے عقیدہ (belief) کی حیثیت رکھتا تھا، وہ بعد از سائنس دور (post-scientific era) میں خود انسان کے اپنے دریافت کردہ علوم کے تحت ایک ثابت شدہ حقیقت بن گیا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قدیم زمانے میں کائنات ایک پر اسرار ظاہرہ بنی ہوئی تھی۔ زمانے میں نہ عالم اکبر (macro world) کو دیکھنے کے لیے دوربین موجود تھی اور نہ عالم اصغر (micro world) کو دیکھنے کے لیے خورد بین دستیاب تھی۔ موجودہ زمانے میں اعلیٰ سائنسی نوعیت کے مشاہدے اور تجربے کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ کائنات میں نہایت اعلیٰ درجے کی ذہین ڈیزائن موجود یہ دریافت اس مذہبی تصور کو یقینی بنادیتی ہے کہ یہ کائنات ایک باشعور خالق کی ایک باشعور تخلیق ہے۔ (ملاحظہ ہو: The Intelligent Universe by Fred Hoyle)
شہادت کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کا تعلق عالمی دعوت (global dawah) سے ہے۔ اسلام اول دن سے سارے انسانوں کے لیے ایک دینِ رحمت کی حیثیت رکھتا تھا، لیکن اسلام کے پیغام کو سارے انسانوں تک پہنچانا قدیم زمانے میں ذرائع کے اعتبار سے عملاً ممکن نہ تھا۔ زمانے میں مغربی سائنس نے پہلی بار اُن تمام ذرائع کو انسان کی دسترس میں دے دیا جن کو استعمال کر کے اسلام کی عالمی دعوت کو ایک واقعہ بنایا جا سکتا ہے۔
اس کی ایک مثال موجودہ زمانے میں اُس ذریعے کی ایجاد ہے جس کو الیکٹرانک کمیونیکیشن کہا جاتا یہ دریافت اب نہایت ترقی یافتہ سائنس بن چکی ہے۔ اس دریافت کا ایک جز موبائل فون ہے۔ اس دریافت کے تحت موجودہ زمانے میں وہ آلہ تیار ہوگیا ہے جس کو اسمارٹ فون (smartphone) کہا جاتا ہے۔ یہ اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ ہر آدمی اس کو اپنی جیب میں رکھ سکتا ہے۔ اسمارٹ فون میں بظاہر لامحدود گنجائش (capacity) ہوتی ہے۔
موجودہ زمانے میں تمام بڑے بڑے ادارے اپنے کتابوں کو اپ لوڈ کر کے انٹرنیٹ اور
اسمارٹ فون پر ڈال رہے ہیں۔ اس دریافت نے ایک نئے دعوتی امکان کو واقعہ بنا دیا ہے۔ اب یہ ممکن ہوگیا ہے کہ قرآن کے ترجمے مختلف زبانوں میں تیار کیے جائے۔ یہ ترجمے ایسی زبان میں ہوں جو قاری کے لیے بہ آسانی قابل فہم ہوں۔ پھر قرآن کے ان ترجموں کو انٹرنیٹ پر ڈال دیا جائے اس کے بعد زمین پر بسنے والے ہر انسان کے لیے یہ ممکن ہوجائے گا کہ وہ اپنی جیب سے اسمارٹ فون نکالے اور اس کے ایک سوئچ کو ٹچ کرے اور پورے قرآن کا ترجمہ اس کی اپنی قابل فہم زبان میں اس کے سامنے آجائے-دعوت دعوت کا یہ عالمی ذریعہ آج مغربی سائنس کی بنا پر عملاً ایک واقعہ بن چکا ہے۔ غالباً دور آخر کا یہی وہ دعوتی امکان ہے جس کا ذکر بطور پیشین گوئی ایک حدیث رسول (لايبقى على ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام بعز عزيز وذل ذليل) میں کیا اس حدیث میں 'کلمہ اسلام' سے مراد قرآن ہے۔ یہ ایک قابل غور بات ہے کہ حدیث میں إدخال الكلمة في كل القلوب' کا لفظ نہیں آیا ہے، بلکہ حدیث میں إدخال الكلمة في كل البيوت' کا لفظ آیا ہے۔ اس کا مطلب واضح طور پر یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوگا کہ کرۂ ارض پر بسنے والے تمام لوگ اسلام میں داخل ہوجائیں، بلکہ جو واقعہ ہوگا، وہ یہ کہ ہر چھوٹے بڑے گھر میں جہاں کوئی انسان رہتا ہے، وہاں قرآن داخل ہوجائے گا، خواہ انسان چاہے یا نہ چاہے۔ مذکورہ حدیث کے آخر میں عزت اور ذلت کے الفاظ اپنے لفظی معنی میں نہیں ہیں، بلکہ وہ اسی معنی میں ہیں کہ آدمی چاہے یا نہ چاہے، ہر حال میں ایسا ہوگا کہ خدا کا کلام اس کے گھر میں داخل ہوجائے گا انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون کی ایجاد کے بعد یہی واقعہ اپنی کامل صورت میں عملاً ظہور میں آگیا ہے۔
ادارۂ المورد (لاہور، پاکستان) کی اردو اور انگریزی مطبوعات (میزان، برہان، البیان، وغیرہ) گڈ ورڈ بکس میں دستیاب ہیں۔ ان کو یہاں سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
صدر اسلامی مرکز کے ویڈیو لیکچرز حسب ذیل ویب سائٹ پر بھی دیکھے جاسکتے ہیں: