Al-Risala · April 2014

جنتی تہذیب

Al-Risala, April 2014, pp. 40–43

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ یاسین میں اہل جنت کے ذکر کے تحت یہ الفاظ آئے ہیں: اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِيْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَ (36:55) یعنی بے شک، اہل جنت آج ایک عظیم مشغلے میں ہوں گے، خوش۔ ہر آئینہ اہل بہشت امروز درکارے باشند، شاداں:

Surely the dwellers of Paradise shall on that day be in an occupation quite happy. آخرت میں سچے اہل ایمان کو جنت میں داخلہ ملے گا۔ وہاں وہ ابدی طور پر خوشیوں کی زندگی جنت ہر اعتبار سے، پرفیکٹ (perfect) ہوگی۔ وہاں ہر اعتبار سے، اہل جنت کے لیے فل فل مینٹ (fulfilment) کا سامان ہوگا۔ وہاں اہل جنت نہ کبھی حزن کا شکار ہوں گے اور نہ وہ کبھی اکتاہٹ (boredom) میں مبتلا ہوں گے۔

تاہم جنت صرف آرام وعیش کی جگہ نہ ہوگی، بلکہ اسی کے ساتھ وہ اہل جنت کے لیے ایک اعلیٰ ترین سرگرمی کا مقام ہوگا۔ مذکورہ آیت میں اس حقیقت کو بتانے کے لیے شغل کا لفظ آیا ہے۔ لفظی معنی مشغلہ (activity) کے ہیں۔ شغل کا لفظ اس آیت میں نکرہ استعمال ہوا ہے۔ کے مطابق، تنکیر برائے تفخیم ہوتی ہے۔ اس لیے یہاں شغل سے مراد ہے ایک عظیم مشغلہ۔ اس عظیم مشغلہ سے کس قسم کا مشغلہ مراد ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد وہی مشغلہ ہے جو دنیا کی زندگی میں انسان کے لیے عظیم مشغلہ تھا۔ یہی مشغلہ بہت زیادہ اضافہ کے ساتھ آخرت میں بھی ابدی طور پر جاری رہے گا۔ اس مشغلہ کو دنیا میں قوانین فطرت کی دریافت (discovery of natural laws) کہا جاتا ہے، اسی کو قرآن میں کلمات اللہ (31:27) کہا گیا دنیا میں کلمات اللہ کی دریافت ابتدائی طور پر ہوئی تھی۔ آخرت میں دوبارہ کلمات اللہ کی دریافت ابدی طور پر اور غیر مختتم طورپر جاری رہے گی۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے کلمات نا قابلِ قیاس حد تک زیادہ ہیں، اتنے زیادہ کہ اگر اُن کو لکھا جائے تو وہ ضبط تحریر میں نہ آسکیں ۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَلَوْ أَنَّ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (31:27) یعنی اگر زمین میں جو درخت ہیں، وہ قلم بن جائیں اور سمندر، سات مزید سمندروں کے ساتھ روشنائی بن جائیں، تب بھی اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔ بے شک اللہ زبر دست ہے، حکمت والا ہے۔

’کلماتِ اللہ‘ کا لفظی مطلب ہے اللہ کی باتیں (words of God)۔ اللہ کا کلمہ سادہ طور پر صرف کلمہ نہیں ہوتا، وہ ایک محکم فیصلہ یا اٹل قانون ہوتا ہے۔ کلماتِ اللہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں مختلف مقامات پر ’امر رَب‘ یا ’امر اللہ‘ کہا گیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، اس کو قوانین الٰہیہ (divine laws) کہا جاسکتا ہے۔ موجودہ زمانے میں اہل سائنس اس واقعے کو قوانینِ فطرت (laws of nature) کہتے ہیں۔

یہی قوانین الٰہیہ یا قوانینِ فطرت ہیں جن کی بنیاد پر کائنات کی تخلیق ہوئی اور یہی قوانین ہیں جن کے تحت نہایت محکم انداز میں کائنات کا پورا نظام مسلسل طور پر چل رہا ہے۔ یہی قوانین انسان کے لیے اس کی تمام فکری اور عملی ترقیوں کا ماخذ ہیں۔ انھیں قوانین میں تدبر کر کے انسان معرفت حاصل کرتا انھیں قوانین میں تدبر کر کے انسان تخلیق کی معنویت کو دریافت کرتا ہے۔ انھیں قوانین میں تدبر کر کے انسان اللہ کی عظمت (glory) سے آشنا ہوتا ہے۔ انھیں قوانین میں تدبر کر کے انسان کے اندر وہ صفات پیدا ہوتی ہیں جن کو اللہ کے لیے حب شدید اور خوف شدید کہا جاتا ہے۔ انھیں قوانین پر تدبر کر کے آدمی اپنے اندر وہ ربانی شخصیت پیدا کرتا ہے جو اللہ کو مطلوب ہے۔ یہ قوانین الہیہ اتنی زیادہ تعداد میں ہیں کہ انسان ابد تک اُن میں تدبر کرتا رہے اور وہ کبھی ختم نہ ہوں۔ یہی قوانین یا قوانینِ فطرت ہی تمام علوم کا خزانہ ہیں۔ موجودہ زمانے میں جس ظاہرے کو تہذیب (civilization) کہا جاتا ہے، وہ انھیں قوانین الہیہ یا قوانینِ فطرت کی جزئی دریافت کے

نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔ سائنس کے علوم تمام تر انھیں قوانین میں غور وفکر کے ذریعے حاصل ہوئے ہیں۔ یہی قوانین، حکمت (wisdom) کا خزانہ ہیں۔ حقیقت ہے کہ ان قوانین کے ساتھ انسان انسان ہے۔ اگر ان قوانین کو انسان سے جدا کر دیا جائے تو انسان صرف ایک حیوان بن کر رہ جائے گا۔ جو چیز انسان کو انسان بناتی ہے، وہ اس کی صرف یہ خصوصیت ہے کہ وہ فطرت کے قوانین کو دریافت کرکے اُن کو اپنے لیے استعمال کرتا ہے۔

امریکی مصنف الون ٹافلر (Alvin Toffler) کی ایک کتاب ’فیوچر شاک‘ (Future Shock) ہے، جو پہلی بار 1970 میں امریکا سے شائع ہوئی۔ اس نے اس کتاب میں کہا تھا کہ ہمارا انڈسٹریل ایج (industrial age) مزید ترقی کر کے اب سپر انڈسٹریل ایج (super industrial age) میں داخل ہونے والا ہے۔ مغربی مصنف نے اپنی یہ پیشین گوئی بیسویں صدی میں کی تھی، لیکن صدی کے آخر میں اس کا یہ خواب منتشر ہوگیا۔ (ecological problems) نے بتایا کہ زمین پر انسانی تہذیب کی آخر حد آ چکی ہے۔ پر انسانی تہذیب کا سفر مزید آگے جاری رہنے والا نہیں۔

تہذیب کیا ہے۔ تہذیب تمام تر قوانین فطرت پر مبنی ایک ظاہر ہ ہے۔ قوانین فطرت سے الگ تہذیب کا کوئی وجود نہیں۔ جب یہ واقعہ ہے کہ قوانین الہیہ یا قوانین فطرت کی کوئی حد نہیں تو لازمی طور پر یہ بھی ہونا چاہئے کہ تہذیب کی ترقی کی کوئی حد نہ ہو، تہذیب کی ترقی کا سفر ابدی طور پر یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن ہم کو رہنمائی دیتا ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ تہذیب انسانی کا سفر موجودہ دنیا کے دور حیات میں ختم نہ ہوگا، بلکہ وہ مزید ترقی کے ساتھ زیادہ اعلیٰ صورت میں آخرت کے ابدی دور حیات میں جاری رہے گا۔

قرآن میں یہ بات، نعوذ باللہ، بطور بوسٹنگ (boasting) نہیں ہے، بلکہ وہ بطور پیشین گوئی ہے، یعنی اس قرآنی بیان میں دراصل یہ اعلان کیا گیا ہے کہ وہ وقت آنے والا ہے جب کہ تہذیب کا نامکمل سفر اپنی تکمیل کو پہنچے۔ موجودہ دنیا میں ’کلمات اللہ‘ کا جو اظہار جزئی صورت میں ہوا ہے،

آخرت کی دنیا میں اس کا اظہار کامل صورت میں ہوگا۔

قرآن یہ خوش خبری دیتا ہے کہ انسانی تہذیب کا سفر ادھورا نہیں رہے گا، بلکہ وہ مزید ترقی کے ساتھ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ ارتقا کا جو موقع انسان کو حیات دنیا میں نہیں ملا تھا، وہ آخرت کی زندگی میں مزید اضافے کے ساتھ اس کو حاصل ہو جائے گا۔

Printed page