تہذیب کے دو دور
Al-Risala, April 2014, pp. 43–46
By Maulana Wahiduddin Khan
تہذیب کے دو دور جن کا ذکر اوپر کیا گیا، اُن کا حوالہ قرآن میں صراحتاً موجود ہے۔ پہلا دور جو قوانینِ فطرت کی جزئی دریافت کے ذریعے موجودہ دنیا میں ظہور میں آئے گا، اس کا ذکر قرآن کی سورہ حم السجدہ میں ان الفاظ میں آیا ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53) یعنی عن قریب ہم اُن کو اپنی نشانیاں (signs) دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی، یہاں تک کہ اُن پر پوری طرح آشکارا ہو جائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے۔ قرآن کی اس آیت میں قوانینِ الہیہ پر مبنی تہذیب کے اُس دور کا ذکر ہے جو موجودہ دنیا میں پیش آنے والا تھا۔ قرآن کی یہ پیشین گوئی انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں سائنس کے ظہور کی صورت میں واقعہ بن چکی ہے۔ سائنس کی دریافتوں نے یہ کیا ہے کہ آفاق وانفس میں جو خدائی نشانیاں (signs of God) موجود تھیں، اُن کو جزئی طور پر دریافت کیا اور اس طرح انسان کے لیے تبیینِ حق کے نئے مواقع کھول دئے ۔ ان دریافتوں کے ذریعے انسان کو ایک نیا فریم ورک (framework) اس کے ذریعے یہ ممکن ہو گیا کہ انسان خالص علمی اور عقلی سطح پر اللہ کی معرفت حاصل کرے۔ قوانینِ الہیہ پر مبنی تہذیب کا دوسرا عظیم تر ظہور آخرت کے دورِ حیات میں پیش آئے گا۔ تہذیب کے اس دوسرے دور کو ربانی تہذیب کہا جا سکتا ہے۔ یہ دور اپنے تمام کمالات کے ساتھ ابدی طور پر جاری رہے گا۔ اس دوسرے دور تہذیب کا ذکر قرآن کی سورہ الکہف میں ان الفاظ میں آیا ہے: إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا خَالِدِينَ فِيهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا ﴿ قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ
تَنْفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا (18:107-109) یعنی بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے عمل صالح کیا، اُن کے لیے فردوس کے باغوں کی ضیافت ہے۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہ وہاں سے نکلنا نہ چاہیں گے۔ کہو کہ اگر سمندر میرے رب کی نشانیوں کو لکھنے کے لیے روشنائی ہو جائے تو سمندر ختم ہو جائے گا، اس سے پہلے کہ میرے رب کے کلمات ختم ہوں، اگر چہ ہم اس کے ساتھ اسی کی مانند اور سمندر ملا دیں۔
قرآن کی ان آیات پر غور کیجیے۔ سب سے پہلے فرمایا کہ ”جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے عمل صالح کیا‘، یعنی جن لوگوں نے دریافت کی سطح پر اللہ کی معرفت حاصل کی اور پھر اس معرفت کے مطابق، اپنی عملی زندگی کو ربانی زندگی بنا دیا۔ اس کے بعد فرمایا کہ ”اُن کے لیے فردوس کے باغوں کی ضیافت ہے‘‘، یعنی آخرت میں اُن کو اللہ کے آفاقی گیسٹ ہاؤس (universal guesthouse) میں ابدی طور پر رہنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ ’’اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہ وہاں سے نکلنا نہ چاہیں گے‘‘۔
انسان کا مزاج یہ ہے کہ اگر اس کو یکساں قسم کی مادی نعمتیں دی جائیں تو یہ نعمتیں خواہ کتنی ہی زیادہ ہوں، کچھ دنوں کے بعد وہ ان کی یکسانیت کی بنا پر بورڈم (boredom) کا شکار ہو جائے گا، وہ اُن سے محظوظ نہ ہو سکے گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ ’’وہ جنت سے نکلنا نہ چاہیں گے‘‘۔ اس طرح کی کیفیت پیدا ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اہل جنت کو مادی نعمتوں کے سوا ایک اور چیز حاصل ہو اور وہ ہے— بار بار نئی چیزوں کا ملنا، بار بار نئی دریافتوں کا تجربہ پیش آنا، مسلسل طور پر فکری ارتقا کا جاری رہنا جن کی بنا پر اہل جنت کی تخلیقیت (creativity) کبھی ختم نہ ہوگی۔ اہل جنت کی شخصیت میں یہ ارتقا معرفت خداوندی میں ارتقا کے ذریعے پیش آئے گا۔
جنت میں تخلیقی سرگرمیوں (creative activities) کے جو اتھاہ مواقع ہوں گے، اُن کو آیت کے اگلے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، اور وہ ہے اہل جنت کے ذریعے ’کلمات اللہ‘ کی ابدی ان فولڈنگ (eternal unfolding)— قرآن کے مطابق ’کلمات اللہ‘ کی تعداد لا محدود ہے۔
سائنس کے ذریعے ان کلمات اللہ کا جزئی ظہور (partial unfolding) ہوا، جس کے نتیجے میں دنیا کی تہذیب وجود میں آئی۔ آخرت میں اہل جنت کے ذریعے کلمات اللہ کا کامل ظہور ہو گا۔ اس کے نتیجے میں وہ دور کمال وجود میں آئے گا جس کو جنتی تہذیب کہا جاتا ہے۔ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر انسان جو یہاں پیدا ہوتا ہے، وہ اپنے آپ کو تیاری میں لگا دیتا ہر آدمی اپنے اندر کسی نہ کسی شعبے کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہر آدمی آخری حد تک یہ کوشش کرتا ہے کہ اس کے اندر کوئی خاص ہنر مندی (skill)، کوئی خاص لیاقت (qualification)، کوئی خاص مہارت (expertise) پائی جائے، تاکہ وہ موجودہ دنیا میں قائم شدہ تہذیب کے نقشے میں کوئی اعلیٰ مقام حاصل کر سکے۔ ہر عورت اور مرد زندگی کی اس حقیقت کو جانتے ہیں اور اس کے لیے پوری طرح سرگرم رہتے ہیں۔
یہی معاملہ آخرت میں بننے والی بلند تر تہذیب کا ہے۔ وہاں بھی سرگرمیاں ہوں گی، وہاں بھی مناصب ہوں گے، وہاں بھی ہر قسم کے اعلیٰ شعبے ہوں گے۔ جنتی دنیا کے ان اعلیٰ مواقع کو حاصل کرنے کے لیے بھی تیار ذہن اور تربیت یافتہ افراد درکار ہیں۔ موجودہ دنیا ایک اعتبار سے، اسی اعلیٰ تیاری کی تربیت گاہ ہے۔
موجودہ دنیا کے حالات میں لوگوں کو یہ موقع دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اندر وہ ربانی صلاحیت پیدا کریں جو اُن کو اس قابل بنائے کہ وہ آخرت میں بننے والی بر تر تہذیب کے مناصب کے لیے منتخب کیے جاسکیں اور پھر ابدی طور پر نہ صرف آرام و عیش کی زندگی گزاریں، بلکہ ایک ایسے تہذیبی سفر کا حصہ بن جائیں جس کی ترقیاں کبھی ختم نہ ہوں۔ یہ لامحدود خوشی (endless pleasure) کی زندگی ہوگی، جو اللہ کی خصوصی رحمت سے اہل جنت کو حاصل ہوگی۔
موجودہ دنیا میں کسی آدمی کو جو عزت کا مقام ملتا ہے، وہ اس بنیاد پر ملتا ہے کہ اس نے تہذیب کے تقاضوں کے مطابق، اپنے آپ کو کتنا تیار کیا ہے۔ یہی معاملہ آخرت کی جنتی تہذیب میں بھی ہوگا۔ موجودہ دنیا کی تہذیب میں ہر آدمی کو ڈاکٹر، انجینئر، اسکالر اور کلنکل ایکسپرٹ، وغیرہ کی نسبت سے
مقامات ملتا ہے۔ آخرت میں عارف، متقی اور خاشع وغیرہ کی نسبت سے اس مقام اصل ہوگا، دنیا میں مقام ملتا ہے۔ آخرت میں عارف، سعی اور خاشع، وغیرہ کی نسبت سے اس کو مقام حاصل ہوگا۔ آدمی کو دنیوی تقاضے کے مطابق تیاری کی نسبت سے اپنا مقام استعمال ملتا ہے۔ آخرت میں ہر آدمی کو اروریوں کے طابعیاروں کی بات ہے۔
ربانی تقاضے کے مطابق تیاری کی نسبت سے اپنا مقام استعمال ملے گا۔ تہذیب (civilization) کہا ہے۔ تہذیب اپنی حقیقت کے اعتبار ت میں ، ہمارا ر سے، کلمات الہیہ کے تہذیب (civilization) لیا ہے۔ تہذیب، اپنی حقیقت کے اعتبار سے، کلماتِ الہیہ کے ظہور کا نام ہے۔ قیامت سے پہلے کے دورِ حیات میں یہ ظہور جزئی طور پر ہوگا اور قیامت کے بعد کے دورِ حیات میں کامل طور پر۔ موجودہ دنیا میں انسان کو آزادی حاصل تھی، اس لیے موجودہ دنیا میں کلماتِ الہیہ کے جزئی ظہور سے جو تہذیب بنی، اس میں انسانی فساد کی بنا پر منفی اجزا شامل ہو گئے۔ لیکن آخرت میں کلماتِ الہیہ کے کامل ظہور سے جو تہذیب وجود میں آئے گی، وہ انسانی فساد سے پوری طرح پاک ہوگی۔ اس لیے آخرت میں ظہور میں آنے والی تہذیب تمام تر مثبت اجزا پر مبنی اسی لیے اس کو جنتی تہذیب کہا گیا ہے۔
قرآن میں جنت کے حوالے سے ارشاد ہوا ہے کہ: لِمِثْلِ هٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ (37:61) یعنی انسان کو چاہیے کہ وہ موجودہ دنیا کو ایک موقع (opportunity) کے طور پر لے ۔ اپنے آپ کو اس اعتبار سے تیار کرے کہ وہ آخرت میں بننے والی جنتی تہذیب میں اپنے لیے باعزت جگہ پا سکے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ موجودہ دنیا دارالعمل ہے اور آخرت کی دنیا دارالجزا۔ بہ بات ہے ؟ اس لیے ہے ؟ یہ ہورہا ہے ؟ ہو رہا ہے ؟ یا ہو رہا ہے ؟ ں آتا ہے ؟ سندھ میں کا لگتا ہے ؟ تنقید تو نہیں ہوتی ؟
حیدر آباد میں صدر اسلامی مرکز کا تلگو ترجمہ قرآن حسب ذیل پتے پر دستیاب ہے :