Al-Risala · April 2014

Ph09246294664 E-Mail:aijazadil19@yahoo.com

Al-Risala, April 2014, pp. 46–48

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ترجمہ گڈ ورڈ بکس ( نئی دہلی ) میں بھی دستیاب ہے۔

سوال و جواب میں نے اماں کو کاپی تھمائی، پھر تھوڑی دیر بعد پوچھا، "اماں! تم نے سوال تو خادم کر شک اس کا الرسالہ کا ایک قاری ہوں ۔ براہِ کرم حسب ذیل سوالات کی وضاحت کریں شکریے کا موقع عنایت فرمائیں :

قرآن کا اسلوب شذراتی ہے، یا قرآن ایک منظم کلام ہے؟

مشن کلچر اور اکیڈمک کلچر کے درمیان کیا فرق ہے؟

توحید اور تزکیہ کا مفہوم کیا ہے؟

( ایک قاری الرساله، اسلام آباد، پاکستان )

1 - قرآن کو سنتے یا پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس میں ترتیب کا انداز نہیں، بلکہ عام طورپر فریگمنٹری (fragmentary) انداز ہے۔ قرآن کے اسلوب کے بارے میں بہت سے اہل علم کے سامنے یہ سوال رہا ہے۔ مولانا حمید الدین فراہی (وفات: 1930) نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ پورا قرآن ایک منظم کلام ہے۔

ذاتی طور پر میرا خیال یہ ہے کہ قرآن ایک مجموعۂ شذرات کی صورت میں ہے۔ مقصد کے اعتبار سے یہی اسلوب زیادہ مفید ہے۔ قرآن کا مقصد ذہنِ انسان کی تعمیر ہے۔ صرف ترکیزی فکر (focused thinking) سے حاصل ہوسکتا ہے۔ شذراتی اسلوب سے ترکیزی فکر کا فائدہ بخوبی طور پر حاصل ہوتا ہے۔ لمبی مسلسل عبارت میں فوکس پھیل جاتا ہے، جب کہ چھوٹے چھوٹے شذرات کی صورت میں ذہن کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ ایک پوائنٹ پر فوکس کر کے غور وفکر میرے ذاتی تجربے کے مطابق ، ذہن سازی یا فکری تشکیل کا فائدہ شذراتی انداز سے حاصل ہوتا ہے۔ چناں چہ جب میں نے 1976 میں ماہ نامہ الرسالہ نکالا تو اس کو بھی اسی شذراتی کے خاص اندازہ ہے، جہاں پہ یہ کتاب ایک نئے اسلوب میں نکالا، یعنی ہر صفحے میں ایک سوچنے والی بات۔

مولانا حمید الدین فراہی کا ماننا تھا کہ نظم قرآن فہم قرآن کی کلید ہے۔ وہ اس موضوع پر نظام القرآن کے نام سے ایک تفسیر لکھ رہے تھے، مگر وہ اس کو مکمل نہ کر سکے۔ لیکن ان کے شاگرد رشید مولا نا امین احسن اصلاحی (وفات: 1997) نے اسی اسلوب پر ایک مکمل تفسیر تدبر قرآن لکھی جو 9 جلدوں پر مشتمل ہے۔

نظم کو فہم قرآن کا ایک پہلو کہا جا سکتا ہے، لیکن اُس کو فہم قرآن کی کلید کہنا درست نہیں، جب آپ قرآن کا مطالعہ اس طرح کریں کہ آپ کا ذہن نظم بین الآیات اور نظم بین السُّور پر لگا ہوا ہو تو فطری طور پر آپ کے ذہن کا فوکس پھیل جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ قرآن کی فوکسڈ اسٹڈی (focused study) نہ کر سکیں گے، اس طریق مطالعہ میں آپ کو قرآن کے کچھ فنی پہلو تو ملیں گے، لیکن تقوی کا پہلو حذف ہو جائے گا جو کہ مطالعہ قرآن کا اصل مقصود ہے۔

مشن کلچر اور اکیڈمک کلچر دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اکیڈمک کلچر تنوع (diversity) پر قائم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، مشن کلچر توحُد پر قائم ہوتا ہے۔ علمی اور تحقیقی ادارے میں افکار کا تنوع ایک قابل قبول بات ہوتی ہے، لیکن مشن کا مزاج افکار کے تنوع کو برداشت نہیں کرتا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ تبلیغی جماعت نے مولانا ابوالحسن علی ندوی اور مولا نا محمد منظور نعمانی کو برداشت نہیں کیا، حالاں کہ دونوں اصولی طور پر تبلیغ سے اتفاق رکھتے تھے۔ اسی طرح جماعت اسلامی ہند نے ڈاکٹر عبدالحق انصاری اور ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کو قبول (accept) نہیں کیا، حالاں کہ دونوں اصولی طور پر جماعت اسلامی سے اتفاق کرتے تھے۔ یہ کلچر مذہبی مشن کا بھی ہے اور سیکولر مشن کا بھی۔ مثلاً گاندھی کو برتر از کانگریس (greater than Congress) کہا جاتا تھا۔ جواہر لال نہرو نے اپنی آٹو باؤ گرافی میں لکھا ہے کہ کانگریس کمیٹی میں بعض اوقات ایسا ہوتا تھا کہ گاندھی جی کے نقطہ نظر سے ہم لوگوں کو اتفاق نہیں ہوتا تھا۔ اُس وقت گاندھی جی ایک جملہ بولتے تھے۔ اس کے بعد سب لوگ اُن سے متفق ہو جاتے تھے۔ وہ جملہ یہ ہوتا تھا:

Printed page