Al-Risala · April 2014

سوال و جواب

Al-Risala, April 2014, pp. 49–52

By Maulana Wahiduddin Khan

مجھے 1998 سے آپ کی کتب اور الرسالہ سے استفادے کا موقع مل رہا ہے۔ الحمد للہ آپ کی تحریروں سے بے بہا ایمانی و روحانی، علمی و فکری و اخلاقی منفعت حاصل کرتا رہا ہوں۔ آپ کا لٹریچر میرے بہترین فکری و عملی رہنماؤں میں سے ہے۔ بالخصوص اس میں روحانیت و ربانیت کی جو غیر معمولی غذا ہے، اُس سے میرے اندر بندگی اور مالک کائنات کے استحضار کا گہرا ذوق بیدار ہوا ہے جو میری زندگی میں سب سے زیادہ قیمتی اثاثہ ہے۔ اس کے علاوہ دین انسانیت کی وسعت و جامعیت کا جو ادراک

آپ کی تشریحات سے ملتا اور زندگی کے روز مرہ واقعات سے دنیا و آخرت کی گہری حقیقتوں کی یاد دہانی کو جو داعیہ بیدار ہوتا ہے اور اس کے علاوہ عمل وکردار و اخلاق سے متعلقہ دیگر فوائد جو میسر آتے ہیں، اُس پر میں بس بارگاہ رب العزت میں یہ دعا کر سکتا ہوں کہ اللہ تعالی آپ کو پوری امت وملت و انسانیت کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے۔

دسمبر 2013 کا الرساله دیکھا۔ اُس میں صفحہ 7 پر یہ تذکرہ ہے کہ ابو بکر صدیق نے صحابہ کے مشورے سے قرآن کو ایک جلد کی صورت میں تیار کرانے کے لیے کاتب وحی حضرت زید بن ثابت کو انہوں نے ڈاکٹر موریس بکائی کے الفاظ میں ڈبل چیکنگ سسٹم کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے پورا قرآن مرتب کیا۔ کتابت قرآن کی تکمیل کے بعد ان اوراق کی ایک جلد بنائی گئی ۔ یہ جلد چو کور صورت میں تھی ، اس لیے اس کا نام ربعہ رکھا گیا، یعنی چو کور سائز کی کتاب۔ اس ربعہ کا ایک مستند نسخے کے طور پر حضرت حفصہ کے گھر رکھوادیا گیا۔ اس ربعہ کی تیاری کے لیے قرآن کے جو متفرق اجزا اکھٹا کیے گئے تھے ، اُن کا ایک ڈھیر مسجد نبوی میں موجود تھا۔ صحابہ کے مشورے سے اس پورے ڈھیر کو اُس کے مالکان کو واپس نہیں کیا گیا، بلکہ اُن سب کو جلا کر ختم کر دیا گیا۔

اس کے بعد صفحہ 8 پر حضرت عثمان کے زمانے میں اختلاف قرأت کا حوالہ آیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ بہت سے صحابہ نے بطور خود لکھ کر قرآن کے اپنے اپنے مجموعے تیار کررکھے تھے جن میں بہت سے فرق موجود تھے۔ ان نسخوں کی وجہ سے حضرت عثمان کے زمانے میں قرأت قرآن کے بارے میں لوگوں میں اختلاف پیدا ہوا۔ کوئی شخص ایک انداز سے قرآن پڑھتا، اور کوئی شخص دوسرے انداز سے۔ اس لیے حضرت عثمان نے ابو بکر صدیق کے زمانے کا تیار کردہ مستند نسخہ حضرت حفصہ کے گھر سے منگوایا۔ اُس کی بہت سی نقلیں تیار کرائیں۔ مسلم ممالک کے مرکزی شہروں میں قرآن کی یہ مستند نقلیں اور معیاری نسخے بھجوائے اور پھر صحابہ کے جمع کردہ نسخوں میں قرأت قرآن میں فرق کا جو مسئلہ موجود تھا ، اُس کا حل یہ نکالا کہ ان تمام غیر سرکاری نسخوں کو اکٹھا کروایا اور پھر صحابہ کی موجودگی میں اُن کو جلا کر ختم کر دیا۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کی رائے میں اختلافِ قرأت کا مسئلہ ہے کیا ؟ ہمارے ہاں اس

حوالے سے جو روایات پائی جاتی ہیں اور پھر ہمارے مدارس میں سبعہ یا عشرہ قرات جو پڑھائی جاتی ہیں، کیا اُن کو تسلیم کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے؟ اور کیا اس طرح معنوی پہلو سے قرآن کے مطالب میں جو فرق واقع ہوتا ہو، خواہ وہ بظاہر بالکل معمولی سا ہی ہو، اس سے قرآن کی حتمیت و حاکمیت اور لاریبَ فیہ کی حیثیت میں کوئی رخنہ پیدا نہیں ہوتا؟ (اسفند یار عظمت، پاکستان) حدیث کی مختلف کتابوں میں ایک روایت آئی ہے۔ اس کو قرأتِ سبعہ کی روایت کہا جاتا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ صحابہ مختلف عرب قبائل سے تعلق رکھتے تھے۔ ان قبائل کی زبان مشترک طور پر عربی تھی، لیکن ہر ایک کا لہجہ الگ الگ تھا، جیسا کہ ہر زبان میں ہوتا ہے۔ جب قرآن لوگوں کے درمیان پھیلا تو ہر ایک اپنے اپنے قبیلے کی زبان میں اُس کو پڑھنے لگا۔

اس پر لوگوں کے درمیان اختلافات ہوئے۔ لوگ، رسول اللہ سے ایک لہجے میں قرآن کو سنتے تھے اور صحابہ اس کو دہراتے تو وہ مختلف لہجات میں اس کو دہراتے۔ یہ اختلاف بعض اوقات شدت اختیار کر لیتے تھے، یہاں تک کہ عمر فاروق نے ایک بار ایک صحابی کو اپنے سے مختلف لہجے میں قرآن کو پڑھتے ہوئے سنا تو انھوں نے کہا: کذبت۔

جب یہ اختلاف بڑھا تو لوگ اس مسئلے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے۔ نے ہر ایک کے قرآن کو پڑھوا کر سنا اور پھر ہر ایک کے لہجے کی تصویب فرمائی (فأی ذلك قرأتم أصبتم، فلا تماروا فيه) آپ نے کہا کہ تم جس طرح پڑھتے ہو، اُسی طرح پڑھو، کیوں کہ قرآن سات لہجوں میں اتارا گیا ہے (انما أنزل القرآن على سبعة أحرف) تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: فتح الباری لابن حجر العسقلانی، جلد 8، صفحہ 639۔

اس سلسلے کی مختلف روایات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سات قرأت کا مطلب، سات مطلوب قرأت نہیں ہے، بلکہ سات رعایتی قرأت ہے۔ قرآن کی مطلوب قرأت صرف وہی ہے جو قبیلہ قریش کے لہجے کے مطابق ہے۔ کیوں کہ عرب میں قریش کا لہجہ ہی اسٹینڈرڈ لہجہ سمجھا جاتا تھا۔

یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ زبان کا لہجہ ابتدائی عمر میں بن جاتا ہے۔ کوئی آدمی بعد کی عمر میں اپنے لہجے کو بدلنے پر قادر نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ فیصلہ ہوا کہ جہاں تک قرآن کی کتابت کا معاملہ ہے، اُس قریش کے اسٹینڈرڈ لہجے کے مطابق لکھا جائے گا، البتہ رعایتی طور پر لوگوں کو اجازت ہوگی کہ لوگ اپنے اپنے قبیلے کے لہجے کے مطابق، قرآن کو پڑھیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو مذکورہ حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فاقرؤاما تیسمر منہ۔

عرض ہے کہ میرا ایک پوتا 'سیف احمد سیف' امریکا میں ہے۔ اس کی عمر چھ سال ہے۔ تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کر رہا ہے۔ حال ہی میں اس نے اپنے والدین سے ایک سوال کیا۔ تناظر یہ تھا کہ والدین بچے کے سامنے اللہ تعالیٰ کی قدرتِ وقوت کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔ بچے نے دفعتاً یہ سوال پوچھا:

Printed page