Al-Risala · April 2014

But where does Allah get all these powers from?

Al-Risala, April 2014, pp. 52–53

By Maulana Wahiduddin Khan

انھوں نے یہ سوال مجھے بھیجا ہے۔ میں الرسالہ پڑھتا ہوں۔ آپ ”سوال وجواب“ کے کالم میں لوگوں کے سوالات کے جوابات لکھتے ہیں۔ میں اسی کالم کے حوالے سے یہ سوال آپ کی خدمت میں ارسال کر رہا ہوں اس امید کے ساتھ کہ ایسا جواب مل جائے گا جس سے وہ بچہ مطمئن ہو سکے۔ جواب آپ تحریر فرمائیں گے، میں اسے امریکا بھیج دوں گا۔ اور دوسرے قارئین بھی اس سے استفادہ کر سکیں گے۔ (عزیز احمد، اسوسییٹ پروفیسر ریٹائرڈ، ایس ایس وی کالج، ہاپوڑ، یوپی) یہ سوال ایک غیر منطقی (illogical) سوال ہے۔ منطقی طور پر اس معاملے میں اصل مسئلہ ایک موجود واقعے کی توجیہہ (explanation) کا ہے، نہ کہ خود موجود واقعے کا سبب تلاش کرنے کا۔ معاملے میں بعد موجود واقعہ (post-existing event) پر غور کرنے سے کنفیوزن ختم ہوتا ہے، جب کہ قبل موجود واقعہ (pre-existing event) صرف کنفیوزن کو بڑھاتا ہے۔ اس معاملے میں

کے سائنسی طریق (scientific method) کی پیروی کو تسلیم کرتے ہو یہی نقطہ نظر علمی نقطہ نظر (scientific outlook) ہے۔ ہماری اصل ضرورت کنفیوزن کو ختم کرنا ہے، اس معاملے میں موجود کی توجیہہ تلاش کرنے سے کنفیوزن ختم ہوتا ہے اور موجود کا سبب تلاش کرنے سے کنفیوزن میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

یہ ایک تسلیم شدہ اصول ہے کہ سائنٹفک طرزِ فکر ہی صحیح طرزِ فکر ہے۔ (quantum theory) کے مطابق، سائنس کا جدید ترین موقف یہ ہے کہ انسان کسی معاملے میں صرف احتمال (probability) تک پہنچ سکتا ہے۔

مذکورہ سوال اس اصولِ عام سے الگ نہیں۔ اگر اس سائنسی اصول کو مان لیا جائے تو بلاشبہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ خدا کی صفات پر ایمان کے معاملے میں یہ سائنسی اصول پوری طرح منطبق ہوتا ہے، کیوں کہ یہاں زیر بحث معاملے کی توجیہہ کے لیے کوئی دوسرا احتمال یا قرینہ موجود سائنسی اصول کے مطابق، جب کوئی دوسرا احتمال یا قرینہ موجود نہ ہو تو پہلا احتمال یا قرینہ میں ہوں ، اس کو بھی ساتھ، یہ دونوں باتیں ) یا ایک دوسرا رویہ، جو خود کو اپنے آپ ثابت شدہ بن جاتا ہے ۔

بھوپال میں ماہ نامہ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ حاصل کرنے کے لیے حسب ذیل پتے پر رابطہ فرمائیں: Mob. 09755300295, 07556542231 القرآن مشن کشمیر کش مذ حہ ع ت د رق کستان ک س ن ک اس کے منظ ء ت مہ کشمیر میں موجود دعوتی مواقع کو استعمال کرنے کے لیے ایک منظم دعوتی مہم چلائی جارہی ہے۔ جو حضرات اس پروگرام میں شامل ہونا چاہتے ہیں ، وہ حسب ذیل پتے پر رابطہ کریں:

Printed page