شخصی حکومت
Al-Risala, January 2014, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم زمانے میں ہزاروں سال سے ساری دنیا میں حکومت کا وہ نظام قائم تھا جس کو شخصی بادشاہت (Monarchy) کہا جاتا ہے۔ شخصی بادشاہت بہت جلد شخصیت پرستی (personality cult) میں تبدیل ہو جاتی تھی۔ اور پھر شخصیت پرستی رفتہ رفتہ بت پرستی (idol worship) کی صورت اختیار کر لیتی یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانے میں ایسا ہوا کہ شخصی حکومتیں آخر کار مشرکانہ حکومتیں بن گئیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ کے معاصر بادشاہ فرعون نے کہا کہ: أنا ربکم الأعلى (79:24)۔ قدیم زمانے میں شخصی حکومت کا نظام سب سے بڑی برائی (greatest evil) بن کر ابھرا۔ یہ انسانی آزادی کا سب سے زیادہ سنگین استعمال تھا۔ دنیا میں اس نظام کو جمہوری انقلاب کے ذریعے سیاسی طور پر ختم کیا گیا۔ آخرت میں باعتبارِ حقیقت اُس کی مجرمانہ حیثیت کا اعلان کیا جائے گا۔ حقیقت ہے جس کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : يقبض الله تبارك وتعالى الأرض يوم القيامة ويطوي السماء بيمينه ثم يقول أنا الملك، أين ملوك الأرض (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 4994)۔