Al-Risala · January 2014

خلافت کے تین دور

Al-Risala, January 2014, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں خلافت کے معنیٰ ’اسلامی خلافت‘ کے نہیں ہیں۔ قرآن کے مطابق، وہ تمام لوگ خلائف في الأرض (10:14) ہیں جن کو مختلف زمانوں میں با اختیار رول ملا، خواہ وہ اپنے عقیدے کے اعتبار سے، مذہبی ہوں یا غیر مذہبی۔ تاریخ میں جن لوگوں کو باری باری خلافتِ ارضی کا

رول ادا کرنے کا موقع ملا، اُن کو تین گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

مشرکین کی خلافت یہ دور قدیم زمانے سے لے کر ساتویں صدی عیسوی تک جاری رہا۔ موحدین کی خلافت یہ مسلم سلاطین کا دور ہے۔ یہ دور تقریباً آٹھویں صدی سے لے کر اٹھارھویں صدی تک قائم رہا۔

سیکولر لوگوں کی خلافت یہ دور انیسویں صدی عیسوی میں شروع ہوا اور اب تک قائم ہے۔ قدیم زمانے میں جن مشرک گروہوں کو خلافت ارضی کا رول ادا کرنے کا موقع ملا، انھوں نے اپنی آزادی کا نہایت غلط استعمال کیا۔ ان کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ انھوں نے ناحق طور پر ساری دنیا میں جبر کی حکومت (despotic rule) کا نظام قائم کر دیا۔ اس دور میں انسان کو مذہبی آزادی حاصل نہ تھی۔ اس دور میں ہر جگہ وہ کلچر قائم تھا جس کو مذہبی تشدد کا دور کہا جاتا ہے۔ اس مشرکانہ دور میں آزادانہ سوچ (free thinking) کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ اس بنا پر فکری ارتقا کا عمل پوری طرح ختم ہو گیا تھا۔ علم کی ترقی عملاً ناممکن ہوگئی تھی۔ اس کا ایک شدید نقصان یہ تھا کہ فطرت (nature) میں تحقیق کا کام پوری طرح رک گیا تھا۔ اللہ کو یہ مطلوب تھا کہ انسان فطرت میں چھپے ہوئے قوانین کو دریافت کرے، تاکہ انسان پر اعلیٰ معرفت کے دروازے کھلیں، دعوتی عمل کو زیادہ مؤثر طور پر انجام دینا ممکن ہو جائے۔ مگر مشرکانہ اقتدار کے زمانے میں اس قسم کا عمل پوری طرح بند ہو گیا اللہ نے کثیر تعداد میں پیغمبر بھیجے، تاکہ وہ انسان کو بتائیں کہ وہ اپنی آزادی کو غلط استعمال کر کے اللہ کے منصوبے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔ لیکن پیغمبروں کی پر امن دعوتی کوشش عملاً غیر مؤثر ہو گئی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے تخلیقی منصوبے کی بنا پر انسان کی آزادی کو تو ختم نہیں کیا، البتہ یہ فیصلہ کیا کہ خلافت ارضی کا رول مشرکین سے چھین لیا جائے اور اس کو موحدین کے حوالے کر دیا جائے۔ یہی خدائی فیصلہ تھا جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ (8:29)۔ قرآن کی اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، اُس کو اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو وہ یہ ہوگی کہ دورِ شرک اپنے وجود کا جواز ختم کر چکا ہے، اس کو توڑ کر دورِ توحید کا آغاز کرو،

تاکہ انسان کے اوپر اللہ کی ابدی رحمتوں کے دروازے کھلیں۔

جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر اور آپ کے پیروؤں نے واقعتاً ایسا ہی کیا۔ پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں نے دورِ قدیم کی تقریباً آباد دنیا میں وہ کام کیا جس کو ایک مبصر نے ان الفاظ میں بیان کیا پیغمبر اور اُن کے پیروؤں نے قدیم زمانے کے پورے سیاسی نقشے کو بدل دیا۔ اِس طرح خلافت ارضی کا رول مسلمانوں یا موحدین کے ہاتھ میں آ گیا۔ مسلمانوں نے اِس عہد میں جو رول ادا کیا، وہ کوئی نظام قائم کرنا نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ نظام قائم کرنا امت مسلمہ کا نشانہ ہی مسلم عہد میں جو کام انجام پایا، اس کے دو بڑے پہلو تھے— ایک تھا دنیا میں آزادی کا دور لانا اور دوسرے، علومِ فطرت کے انکشاف کا دروازہ کھولنا۔

قرآن میں کہا گیا تھا کہ: أمرهم شورى بينهم (42:38)— یہ آیت کسی محدود معنی میں اِس آیت میں دراصل ایک مطلوب عالمی انقلاب کی خبر دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ دنیا سے شخصی حکومت کا دور ختم ہو اور اس کے بجائے جمہوری حکومتوں کا دور آئے، تاکہ انسان کو یہ موقع ملے کہ وہ آزادی کے ساتھ سوچ سکے، تاکہ انسان کے پوٹینشل کی انفولڈنگ ہو، تاکہ انسان کو فطرت کے رموز کی دریافت کا موقع ملے، تاکہ ربانی تہذیب کو قلم بند کرنے کا وہ دور شروع ہو جس کا ذکر قرآن میں ان شاہانہ الفاظ میں کیا گیا ہے: وَلَوْ أَنَّ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (31:27) جمہوریت کا دور دور جمہوریت دراصل دورِ آزادی کا دوسرا نام ہے۔ اللہ کے تخلیقی نقشے کے مطابق، زمین پر آزادانہ ماحول کا باقی رہنا بے حد ضروری ہے۔ انسان سے جورول مطلوب ہے، وہ صرف آزادی کے ماحول میں ممکن ہے۔ جمہوریت کا یہ دور مسلم عہد میں شروع ہوا۔ وہ پراس کے روپ میں آگے بڑھتا رہا، یہاں تک کہ 1789 میں انقلابِ فرانس کی صورت میں اس کی تکمیل ہوئی۔ جمہوریت (democracy) انسانی تاریخ کا ایک عظیم مرحلہ ہے۔ اِس دور میں پہلی بار

ایسا ہوا ہے کہ آزادی اور امن انسان کا اپنا چوائس (choice) بن گیا ہے۔ اس سے پہلے ایسا تھا کہ کسی انسان کو آزادی اور امن صرف اُس وقت ملتا تھا، جب کہ حاکم وقت اس کو بطور عطیہ اُسے دے دے۔ اب یہ معاملہ کسی دینے والے کا عطیہ نہیں رہا، بلکہ وہ ہر انسان کا مطلوب حق (absolute right) بن کسی بھی شخص یا گروہ کے لیے ممکن نہیں کہ وہ اس حق کو آپ سے چھین لے۔ موجودہ زمانے میں بہت سے لوگ ملیں گے جو یہ شکایت کریں گے کہ اُن کو آزادی اور امن کے ماحول میں کام کرنے کے مواقع حاصل نہیں۔ ایسے لوگ بلاشبہ زندگی کے راز سے بے خبر ہیں۔ موجودہ زمانے میں آزادی اور امن کی جو نعمت ملی ہے، اس کو استعمال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اس حکمت کو جانے کہ اس کو اپنے عمل کے لیے ایسا نشانہ مقرر کرنا ہے جو دوسرے سے ٹکراؤ کیے بغیر جاری کیا جا سکے۔ اگر آپ اپنے لیے ایسا نشانہ مقرر کریں جو دوسروں کی زندگی میں خلل ڈالنے والا ہو تو آپ کے حصے میں صرف شکایت اور پروٹسٹ آئے گا، لیکن اگر آپ اپنے عمل کے لیے ایسا نشانہ مقرر کریں جو کسی حال میں دوسروں کے لیے مسئلہ (problem) نہ بنے، تو آپ ساری عمر کام کرتے رہیں گے اور کبھی آپ کو دوسروں کے خلاف شکایت نہ ہوگی۔

یہی وہ راز ہے جو قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے: (الصلح خير 4:128)۔ کا مطلب یہ ہے کہ تم ایسا نشانہ مقرر کرو جس میں دوسروں سے ٹکراؤ نہ پیش آتا ہو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تمھارے لیے اس دنیا میں خیر ہی خیر ہوگا۔ تمھارے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ تم دوسروں کے خلاف شکایت سے محفوظ رہتے ہوئے اپنے کام کو مکمل کرو۔ جو آدمی شکایت کی زبان بولے، وہ صرف یہ اعلان کر رہا ہے کہ اس نے اپنے لیے غلط نشانے کا انتخاب کیا تھا۔ یہ معاملہ خود اپنے نشانے کی غلطی کا معاملہ ہے، نہ کہ دوسروں کے ظلم یا دشمنی کا معاملہ۔

مسلم دورِ سلطنت میں دوسرا جو بڑا کام ہوا، وہ یہ کہ فطرت کو پرستش کے موضوع سے ہٹا کر تحقیق کا موضوع بنا دیا گیا۔ یہ عمل بھی تدریجی طورپر جاری ہوا اور آخر کار اُس علمی انقلاب تک پہنچا جس کو سائنسی انقلاب (scientific revolution) کہا جاتا ہے۔ اس سائنسی انقلاب نے اُس پیشین گوئی کو

واقعہ بنا دیا جس کی خبر قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی تھی: سَنُرِيهِمْ اَيٰتِنَا فِي الْاَفَاقِ وَفِيْ اَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ موجودہ زمانے میں جمہوری انقلاب اور سائنسی انقلاب کی صورت میں جو انقلابات ظہور میں آئے، وہ پوری طرح اسلام کے حق میں تھے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جدید دور (modern age) پورے معنوں میں ایک موافق اسلام دور اس دور کا آغاز مسلمانوں کے سیاسی عروج کے زمانے میں ہوا، لیکن اس دور کی تکمیل تاریخ کے اُس تیسرے دور میں ہوئی جس کو اوپر کی تقسیم میں ’’سیکولر لوگوں کی خلافت‘‘ کہا گیا ہے۔ امت مسلمہ کا نیا رول قرآن کی سورہ آل عمران میں فطرت کے ایک اصول کو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: قُلِ اللَّهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ اِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (3:26) یعنی تم کہو، اے اللہ، سلطنت کے مالک، تو جس کو چاہے، سلطنت دے اور جس سے چاہے، سلطنت چھین لے۔ اور تو جس کو چاہے، عزت دے اور جس کو چاہے، ذلیل کرے۔ تیرے ہاتھ میں ہے سب خوبی۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خلافتِ ارضی کسی گروہ کی اجارہ داری (monopoly) نہیں۔ رول ہے جس کو اللہ اپنے منصوبے کے تحت کبھی ایک گروہ کو دیتا ہے، کبھی دوسرے گروہ کو۔ جب کسی گروہ کو خلافتِ ارضی ملے تو اس کو یہ دریافت کرنا چاہیے کہ اس کو یہ رول کس مقصد کے لیے دیا گیا ہے۔ جب اس سے خلافتِ ارضی چھین لی جائے تو اُس وقت بھی اس کو جاننا چاہیے کہ یہ منصب کیوں اُس اس حقیقت سے بے خبری کا یقینی نقصان یہ ہے کہ متعلقہ گروہ کو اللہ کی نصرت نہ ملے اور نتیجہ وہ ہر اعتبار سے ناکام ہوکر رہ جائے۔

آٹھویں صدی عیسوی میں مسلم ایمپائر قائم ہوا۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ اب خلافتِ ارضی کا رول مسلمانوں کو دیا گیا ہے۔ وہ رول یہ تھا کہ دنیا سے قدیم طرز کی بادشاہت (kingship) کا خاتمہ کر دیا یہ کام مسلمانوں کے ذریعے عالمی پیمانے پر انجام پایا۔ صدیوں تک مسلمانوں کا حال یہ تھا کہ وہ

جس ملک میں داخل ہوئے، وہاں انھوں نے قدیم طرز کی سیاسی آمریت کا خاتمہ کر دیا۔ لیکن پھر وہ وقت آیا کہ مسلم سلطنتوں کا زوال شروع ہوا۔ انیسویں صدی کا آغاز مسلمانوں کے سیاسی غلبے کے خاتمے کا اعلان پوری دنیا میں ایک کے بعد ایک، مسلم سلطنتیں مغربی اقوام سے مغلوب ہو کر رہ گئیں۔ اس کے بعد مسلمانوں نے بڑے پیمانے پر یہ کوشش کی کہ وہ اپنی سیاسی عظمت کو دوبارہ حاصل کر سکیں، لیکن دوسوسالہ جدوجہد کے باوجود وہ اپنی ان کوششوں میں مکمل طور پر نا کام رہے۔

یہ کوئی سادہ واقعہ نہ تھا۔ یہ عملاً مسلمانوں کے رول میں تبدیلی کا اعلان تھا۔ میں مسلمانوں کا سیاسی رول ختم ہو چکا تھا۔ اب اُن سے جو رول مطلوب تھا، وہ دوسرا رول تھا، اور وہ تھا — جدید امکانات کو استعمال کر کے عالمی سطح پر دین خداوندی کی اشاعت۔ دورِ جدید میں اللہ نے اپنی مصلحت کے تحت اہل مغرب کو یہ موقع دیا کہ وہ نئے وسائل کی دریافت کر کے اُن کو عام کریں۔ اہل مغرب کے ذریعے دنیا میں پہلی بار وہ چیزیں آئیں جو عالمی دعوت کے لیے ضروری ہیں۔ مذہبی آزادی، کھلا پن، عالمی آمدورفت، پرنٹنگ پریس، عالمی کمیونیکیشن، وغیرہ۔ یہ نئے حالات اس بات کا اشارہ تھے کہ اب امت مسلمہ کا رول بدل گیا ہے۔ اب اُن کا رول یہ ہے کہ نئے مواقع کو استعمال کرتے ہوئے وہ اسلام کے فطری پیغام کو تمام قوموں اور تمام انسانوں تک پہنچادیں۔ عجیب بات ہے کہ تقریباً پوری امت اس عظیم حقیقت سے بے خبر رہی۔ انھوں نے رول کی اس تبدیلی کو نہیں وہ اپنی گزری ہوئی سیاسی عظمت کی واپسی کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے اپنے مفروضہ دشمنوں سے لڑائی یہ عمل خدائی منصوبے کے خلاف تھا، اس لیے اس کو خدا کی مدد حاصل نہیں ہوئی اور وہ مکمل طور پر نا کام ہو گیا۔ امتِ مسلمہ کے اس نئے رول کو حدیث میں بطور پیشین گوئی ان الفاظ میں بیان کر دیا گیا تھا: لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر و لا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام ۔

Printed page