لامحدود صلاحیت
Al-Risala, May 2014
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کے اندر لامحدود صلاحیت ہے۔ ایک جدید تحقیق کے ذریعے یہ معلوم ہوا ہے کہ انسان اگر اپنی آنکھوں کو بند کر کے سوچے تو اس کے اندر ایک نئی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اُس وقت وہ زیادہ بہتر طور پر معلومات کو جذب کرنے کے قابل ہو جاتا ہے: One can absorb information better by closing one’s eyes. یہ تحقیق اور اس طرح کی دوسری تحقیقات یہ بتاتی ہیں کہ انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے لامحدود صلاحیتیں رکھیں ہیں۔ قدیم زمانے میں معذور افراد کے لیے اندھا اور گونگا اور بہرا اور لولا اور لنگڑا جیسے الفاظ بولے جاتے تھے۔
اس طرح کے الفاظ سے یہ تاثر قائم ہوتا تھا کہ معذوری صرف معذوری ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے ہر زبان میں ناکارہ یا اپاہج (disabled) جیسے الفاظ استعمال ہوتے تھے، مگر جدید تحقیقات کے بعد اب ایسے افراد کو مختلف طور پر اہل (differently-abled) شخص کہا جاتا ہے۔ یہ فطرت کا نظام ہے۔ جب کوئی شخص اپنے کسی جسمانی عضو کو کھو دیتا ہے تو اس کے اندرونی صلاحیتیں جاگ اُٹھتی ہیں۔ بظاہر جسمانی معذوری کے باوجود وہ بڑے بڑے کام انجام دیتا ٹامس الواڈیسن، لوئی بریل، ہیلن کلر، اسٹیفن ہاکنگ، وغیرہ اسی کی مثالیں ہیں: Close eyes to absorb information Want some important piece of information to sink in. Closing your eyes might do the trick, Researchers from University of Edinburgh found that a few minutes of 'wakeful resting allows information to be absorbed and it works best with verbal information rather than numbers. (The Times of India, New Delhi, July 25, 2012, p. 19)
فطرت کے اس قانون پر غور کیجیے تو اس سے ایک حدیث قدسی کی معنویت سمجھ میں آتی ہے۔
طر زان اضلات طر زان اضلات ۳ لِلْمُتَّقِينَ )۴() ہِلالِ خَالدِ اس کے الفاظ یہ ہیں: إذا ابتليت عبدي بحبيبتيه فصبر، عوضته منهما الجنة (صحيح البخاري، رقم الحديث: 5653) یعنی جب میں اپنے ایک بندے کو ابتلا میں ڈالتا ہوں اور اس کی دونوں آنکھیں لے لیتا ہوں، پھر وہ صبر کرتا ہے، تو اس صبر کے بدلے میں اس کو جنت دے دیتا ہوں۔ اس روایت میں ابتلا کا لفظ آیا ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے اس کا مطلب تجربہ (experience) ہے، یعنی جب کسی بندے کو بینائی سے محرومی کا تجربہ ہوتا ہے، پھر وہ مایوسی کے بجائے صبر کر لیتا ہے۔
صبر کا مطلب برداشت ہے، لیکن یہاں صبر کا مطلب یہ ہے کہ وہ بینائی سے محرومی کے اس تجربے کو مثبت معنی (positive sense) میں لیتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی ذہنی صلاحیتیں بیدار ہو جاتی ہیں۔ اس کے اندر چھپے ہوئے امکانات انفولڈ (unfold) ہونے لگتے ہیں۔
اس قسم کا مثبت تجربہ اُس انسان کو پیش آتا ہے جس کا شعور بیدار ہو۔ فطرت کے قانون کے مطابق، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتیں بروئے کار آنے لگتی ہیں۔ کے باوجود وہ بڑے بڑے کام انجام دینے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اس طرح کے افراد کی مثالیں قدیم تاریخ میں بھی موجود ہیں اور جدید تاریخ میں بھی۔