Al-Risala · May 2014

جنت کی نرسری

Al-Risala, May 2014

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی انسان کے لیے اس دنیا میں سب سے پہلی جاننے کی چیز یہ ہے کہ وہ یہ دریافت کرے کہ جس ہستی نے انسان کو اور اس دنیا کو بنایا ہے، اس کی اسکیم آف تھنگس (scheme of things) کیا قرآن خدا کی کتاب ہے۔ قرآن کے مطالعے سے جو چیز معلوم ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ خدا نے سب سے پہلے ایک وسیع اور معیاری دنیا بنائی جس کا نام جنت (Paradise) ہے۔ پھر اس نے انسان کو پیدا کیا اور انسان کو اس جنت میں بسایا۔

انسان کو خدا نے مکمل آزادی (freedom of choice) عطا کی۔ انسان سے یہ مطلوب تھا کہ وہ خالق کا اعتراف کرے، وہ خود اپنے اختیار سے سلف ڈسپلنڈ (self disciplined) زندگی لیکن انسان اس امتحان میں پورا نہیں اترا۔ اُس نے آزادی کا غلط استعمال کیا۔ اس کے بعد خدا نے انسان کے بارے میں دوسرا اصول مقرر کیا۔ پہلے انسان کو عمومی بنیاد (general basis) پر جنت میں بسایا گیا تھا، لیکن جب انسان مقرر کردہ معیار پر پورا نہیں اترا تو اس کے بعد خدا نے یہ طے کیا کہ انسان کے لیے جنت کا فیصلہ انتخابی بنیاد (selective basis) پر کیا جائے، یعنی صرف اُن افراد کو جنت میں آباد کیا جائے جو سلف ڈسپلن (self discipline) کے مطلوب معیار پر پورے اتریں۔ کے لئے خدا نے ابدی جنت کے سوا ایک اور عارضی دنیا بنائی۔

یہ عارضی دنیا ہمارا موجودہ سیارہ ارض (planet earth) ہے۔ سیارہ ارض گویا ابدی جنت کو فیڈ (feed) کرنے کے لئے عارضی قسم کی ایک زندہ نرسری (living nursery) ہے۔ سیارہ ارض پر انسان گویا پودے (plants) کی مانند اگائے جاتے ہیں۔ اُن کو یہاں کے مختلف حالات میں محدود مدت کے لئے زندگی گزارنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ اس مدت میں انسان فرشتوں کے سپروژن (supervision) میں ہوتا ہے۔ فرشتے مسلسل واچ (watch) کرتے ہیں کہ کوئی انسان مختلف حالات میں کس قسم کا رسپانس (response) دے رہا ہے اور اپنے اندر کس قسم کی

پرسنالٹی کی تشکیل کر رہا ہے۔ پھر جو فرد (individual) اپنے قول و عمل سے یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ مطلوب معیار کے مطابق ہے، اس کو عارضی نرسری سے نکال کر جنت کی ابدی باغ میں نصب کر دیا جاتا ہے، تاکہ وہ وہاں جنت کے ماحول میں فروغ پائے اور ابدی طور پر ترقی کا سفر طے کرتا رہے۔ موت وہ دن ہے جب کہ کسی فرد کو سیارہ ارض سے ٹرانسفر کر کے ابدی جنت میں پہنچا دیا جائے۔ قرآن کی سورہ الذاریات میں تخلیق کا ایک اصول ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَمِنْ كُلٍّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (51:49) یعنی ہم نے ہر چیز کو جوڑے جوڑے پیدا کیا ہے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔

فطرت کا یہ نظام ہے کہ یہاں تمام چیزیں جوڑے جوڑے کی صورت میں پیدا کی گئی اسی طرح موجودہ دنیا بھی دو دنیا (pair world) کی صورت میں بنائی گئی ہے۔ (planet earth) اس کا ایک جوڑا ہے۔ اس کا دوسرا جوڑا آخرت کی دنیا ہے، جہاں جنت (Paradise) واقع ہے۔ جنت موجودہ دنیا کا تکمیلی حصہ (complementary part) ہے۔ جنت کے بغیر موجودہ دنیا نا قابل فہم ہے، لیکن جنت کے ساتھ وہ پوری طرح قابل فہم بن جاتی ہے۔ جنت کی نرسری خالق نے ایک عظیم دنیا بنائی۔ یہ دنیا ہر لحاظ سے آئیڈیل اور پرفیکٹ تھی۔ اس دنیا کا نام جنت قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنت آدم کی تخلیق سے پہلے بنائی گئی (2:35)۔ اس کے بعد خالق نے چاہا کہ وہ اُن عورتوں اور مردوں کا انتخاب کرے جو اس جنتی دنیا میں بسائے جانے کے قابل اس مقصد کے لیے خالق نے سیارہ ارض بنایا۔ یہ سیارہ ارض گویا جنتی دنیا کی نرسری نرسری اُس مقام کو کہا جاتا ہے جہاں پودے اگائے جائیں اور پھر منتخب پودوں کو وہاں سے نکال کر اُن کو باغ میں نصب کیا جائے:

Nursery: A place where plants are reared for transplantation.

موجودہ زمین اسی قسم کی ایک نرسری ہے۔ یہاں مسلسل طور پر انسان پیدا کیے جارہے ہیں۔ زمین پر وہ تمام حالات رکھے گئے ہیں جو نرسری کی حیثیت سے اس کے تقاضے پورے کرنے ہر عورت اور مرد اپنے عمل سے اپنے اندر مثبت شخصیت یا منفی شخصیت کی تعمیر کر رہے ہیں۔ موت وہ وقت ہے جب کہ ایک’’پودا‘‘ اپنی مدت پوری کرنے پر نرسری سے اکھاڑ دیا جائے، پھر اگر وہ نامطلوب شخصیت بنا ہے تو اس کو رد کر دیا جائے اور اگر اس نے اپنے اندر مطلوب شخصیت کی تعمیر کی ہے تو اس کو وہاں سے نکال کر جنت میں بسادیا جائے۔ موجودہ دنیا اس لیے ہے، تا کہ یہاں ایک فرد اپنے آپ کو اسپر پچول شخصیت کی حیثیت سے تیار (develop) کرے اور پھر جنت میں وہ اسپر پچول تہذیب کا ابدی حصہ بن جائے۔

جنت کی دنیا انسان کی اصل منزل ہے۔ موجودہ عارضی دنیا نرسری (nursery) کی مانند ہے۔ یہاں پیدا ہونے والے عورت اور مرد کی حیثیت گو یا نرسری کے پودے کی ہے۔ اس محدود مدت میں ’’پودے‘‘ صحت مندی کا ثبوت نہ دیں، ان کو اکھاڑ کر پھینک دیا جائے گا اور جو’’پودے‘‘ اپنی نشوونما کے دوران صحت مند ثابت ہوں، اُن کو باعزت طور پر موجودہ عارضی دنیا سے منتقل کر کے آخرت کی ابدی دنیا میں پہنچا دیا جائے گا، یعنی جنت کی دنیا میں۔ اس حقیقت کو ایک اور آیت میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اَلَّذِيۡ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ (67:2) یعنی اللہ، جس نے موت اور حیات کو پیدا کیا، تا کہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا عمل کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین پر بے شمار عورت اور مرد پیدا ہوتے ہیں۔ وہ محدود مدت تک زندگی گزار کر مرجاتے ہیں، یہ ساری بھیڑ خالق کا مطلوب نہیں۔ خالق کا مطلوب صرف وہ فرد ہے جو اس امتحانی دورِ حیات میں یہ ثابت کرے کہ وہ پورے معنوں میں احسن العمل (best in deeds) زمین کی حیثیت نرسری کی ہے، اس لیے یہاں ہر قسم کے پودے اگتے ہیں۔ لیکن جنت کی حیثیت مطلوب منزل کی ہے، اس لیے وہاں صرف وہی استثنائی افراد بسائے جائیں گے جن کو اُن کے ریکارڈ کی بنیاد پر منتخب کیا جائے۔

موجودہ دنیا میں جو انسان پیدا ہوتا ہے، وہ گویا نرسری کا ایک پودا ہے۔ ایک محدود مدت تک وہ اس ابتدائی دنیا میں رہتا ہے۔ اس دوران اُس کے ساتھ مختلف قسم کے حالات گزرتے ہیں۔ گویا اُس کے لیے تربیتی کورس (training course) ہیں۔ یہ حالات اس کو موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنے اندر مطلوب شخصیت کی تعمیر کرے۔ موت اس تربیتی کورس کے خاتمے کا اعلان ہے۔ جو انسان اس ملی ہوئی مدت کے دوران اپنے اندر مطلوب شخصیت کی تعمیر کرلے، اس کو نرسری سے نکال کر دوسری دنیا میں ابدی طور پر بسا دیا جاتا ہے۔ اور جو لوگ مطلوب انداز میں اپنی تعمیر نہ کرسکیں، اُن کو نرسری سے نکال کر باہر پھینک دیا جائے گا۔

اس دنیا کے لیے خالق کا نشانہ اجتماعی نہیں ہے، بلکہ انفرادی ہے۔ اس اعتبار سے، یہ کہنا درست ہوگا کہ موجودہ دنیا تعمیر نظام کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ تعمیر شخصیت کے لیے ہے۔ تعمیر شخصیت ممکن ہے، آڈیئل معنوں میں تعمیر نظام یہاں سرے سے ممکن ہی نہیں۔ انسانی زندگی کی یہی تعبیر صحیح تعبیر ہے۔ اس کے صحیح ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ اس کو ماننے کی صورت میں زندگی کے تمام سوالات کا قابل فہم جواب مل جاتا ہے:

With this description of human life, everything falls into place. تخلیق کا یہ منصوبہ قرآن وحدیث میں مختلف انداز سے بتایا گیا ہے۔ ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ آئی ہے۔ اس سلسلے کی دور وایتیں یہ ہیں: 1 - عن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لقيت إبراهيم ليلة أسرى بي - فقال يا محمد، أقرئ أمتك مني السلام، وأخبرهم أن الجنة طيبة التربة، عذبة الماء، وأنها قيعان، وأن غراسها: سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر - (سنن الترمذي، رقم الحديث: 105)

حضرت عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ معراج کی رات میں میری ملاقات حضرت ابراہیم سے ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ اے محمد، اپنی امت کو میرا سلام پہنچا دو۔ اُن کو بتاؤ کہ جنت کی مٹی بہت پاکیزہ مٹی ہے، اس کا پانی بہت میٹھا ہے اور وہ ایک ہموار میدان ہے۔ اس کا پودا سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر ہے۔ 2- عن أبي أيوب الأنصاري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة أسري به مرّ على إبراهيم، فقال من معك يا جبريل، قال: هذا محمد - فقال له إبراهيم: مرْ أمتك فليكثروا من غراس الجنة، فإن تربتها طيبة و أرضها واسعة - قال: وما غراس الجنة، قال: لاحول ولاقوة إلا بالله۔ (مسند أحمد، رقم الحديث: 7966)

حضرت ابو ایوب انصاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معراج کی رات میں حضرت ابراہیم کے پاس سے گزرے ۔ انھوں نے کہا کہ اے جبریل، یہ تمھارے ساتھ کون ہیں۔ کہا کہ یہ محمد ہیں۔ حضرت ابراہیم نے آپ سے کہا کہ اپنی امت کو بتاؤ کہ وہ جنت میں کثرت سے پودے لگائیں، کیوں کہ جنت کی مٹی بہت پاکیزہ ہے اور اس کی زمین بہت وسیع ہے۔ آپ نے پوچھا کہ جنت کا پودا کیا ہے؟ حضرت ابراہیم نے کہا کہ : لا حول ولا قوة إلا بالله۔ مذکورہ روایات میں جنت کے لیے دو الفاظ استعمال ہوئے ہیں— قيعان اور ارض دونوں کا مفہوم ایک ہے، یعنی وسیع اور ہموار زمین۔ یہ تمثیل کی زبان میں جنت کی اصل حقیقت کا بیان ہے۔ اس معاملے کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ نے یہ چاہا کہ وہ ایک اعلیٰ مخلوق پیدا کرے اور پھر اس مخلوق کو وہ اپنی اعلیٰ ترین نعمت سے نوازے۔ اس منصوبے کے تحت، اللہ نے ایک معیاری دنیا بنائی۔ یہ دنیا اپنی وسعت کے اعتبار سے، اپنے آپ میں ایک مکمل کائنات تھی۔ میں ہر قسم کے اعلیٰ امکانات رکھے گئے تھے۔ اس میں نہ صرف ہر قسم کی نعمتیں تھیں، بلکہ اس میں اعلیٰ ترقی کے ابدی مواقع موجود تھے۔

اس کے بعد اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو مکمل آزادی عطا کی۔ جنت اِسی انسان کے

فطری ہیبی ٹیٹ (natural habitat) کے طور پر بنائی گئی ہے۔ اس جنت میں انسان کا داخلہ انتخاب (selection) کی بنیاد پر مقرر کیا گیا۔ موجودہ سیارہ ارض اس مقصد کے لیے سلیکشن گراؤنڈ یا نرسری کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان کو پیدا کر کے اس کو مکمل آزادی دے دی گئی ہے۔ آزادی کے اس ماحول میں جو عورت یا مرد اپنے آپ کو جنت کی دنیا میں بسائے جانے کا مستحق ثابت کریں ، اُن کو منتخب کر کے یہ موقع دیا جائے گا کہ وہ جنت میں آباد ہو کر مزید ترقی کی منزلیں اس کے برعکس، جو افراد زمینی زندگی کے امتحان میں ناکام ہو جائیں ، اُن کو رد کر کے کائناتئی کوڑے خانے میں پھینک دیا جائے۔

مذکورہ حدیث رسول میں تمثیل کی زبان میں بتایا گیا ہے کہ جنت کا معاملہ کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جنت اللہ کے سچے بندوں کے رہنے کی بہترین جگہ ہے۔ وہ ایک عالی شان رہائش گاہ ہے، مگر اپنی ابتدائی صورت میں وہ ایک غیر آباد جگہ ہے۔

اس ابدی جنت کی آبادکاری کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام کیا کہ موجودہ سیارہ ارض کو ایک نرسری یا سلیکشن گراؤنڈ کے طور پر بنایا۔ موجودہ زمین پر جو عورت اور مرد پیدا ہوتے ہیں، وہ گویا نرسری میں لگائے جانے والے پودے ہیں۔ ان پودوں میں جو پودا یہ ثابت کرے گا کہ وہ صحت مند پودا (healthy plant) ہے، اس کو دنیا کی نرسری سے نکال کر جنت کے زیادہ بہتر اور ابدی مقام پر نصب کر دیا جائے گا، تاکہ وہ وہاں کے بہتر ماحول میں پرورش پا کر مزید ترقی کرے اور ابدی طور پر جنت کے شاداب باغ کا حصہ بن جائے۔

اس حدیث میں جن کلمات (سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، ولا حول ولا قوة إلا بالله) کا ذکر ہے، وہ باعتبارِ لفظ مراد نہیں ہیں، بلکہ وہ بہ اعتبار معنی مراد ہیں، یعنی ان الفاظ میں جس آئڈیالوجی کا ذکر ہے، یہ الفاظ جس معرفت کی نمائندگی کرتے ہیں، وہ جس طرزِ فکر (way of thinking) کو بتاتے ہیں، اُس کے مطابق، اپنی سوچ کو بنانا، اس کے مطابق، اپنی شخصیت کی تعمیر کرنا، ان کلمات کی اسپرٹ کو اپنے دل و دماغ میں اتارنا، یہاں تک کہ آدمی ربانی صفات والا

انسان بن جائے ۔ جو آدمی قبل از موت دور حیات میں ان کلمات کے تقاضے کے مطابق، اپنے آپ کو ڈھال لے گا، وہ بعد از موت دور حیات میں خدا کے اُس باغ میں بسنے کا مستحق قرار پائے گا جس کو جنت (Paradise) کہا جاتا ہے۔

قرآن میں جنت کا ذکر تفصیل کے ساتھ آیا ہے۔ قرآن ایک اعتبار سے، جنت کا تعارف یہ تعارف اتنے مؤثر انداز میں ہے کہ اس کو پڑھنے والا آدمی گویا جنت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے لگتا ہے۔ اگر آپ اس اعتبار سے، قرآن کا تتبع کریں اور جنت کی آیتوں کو یکجا کر کے اس کا مطالعہ کریں تو آپ کے اندر شدید طور پر یہ جذبہ ابھرے گا کہ آپ جنت کو اپنی منزل بنالیں، آپ کی تمام سرگرمیوں کا رخ جنت کی طرف ہو جائے گا۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: لِمِثْلِ هٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ (61:

Printed page