Al-Risala · May 2014

کلماتِ ذکر کی حقیقت

Al-Risala, May 2014

By Maulana Wahiduddin Khan

مذکورہ روایات میں پانچ کلمات کا ذکر ہے۔ وہ کلمات یہ ہیں سبحان اللہ، والحمد للہ،

ولا إلہ إلا اللہ، واللہ اکبر، ولا حول ولا قوۃ إلا باللہ۔ ان کلمات کے جو الفاظ ہیں، وہ محض الفاظ نہیں ہیں، بلکہ وہ گہرے معانی کو بتا رہے ہیں اور یہ الفاظ اپنے انھیں گہرے معانی کے اعتبار سے مطلوب ہیں، نہ کہ محض الفاظ کے اعتبار سے، یعنی اُن کا فائدہ محض اُن کی لفظی تکرار میں نہیں ہے، بلکہ ان کی اسپرٹ یا ان کی معنویت کو اپنانے میں ہے۔

لا حول ولا قوۃ کیا ہے ۔ وہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اللہ تمام طاقتوں کا مالک 'سبحان اللہ' کیا ہے سبحان اللہ اس حقیقت کی دریافت ہے کہ خدا ہر قسم کے عیب اور نقص سے کامل طور پر پاک ہے۔ الحمد للہ کیا ہے۔ الحمد للہ دراصل یہ ہے کہ ایک صاحب معرفت آدمی اللہ کے کمالات کو دریافت کرکے اس کا شعوری اعتراف کرے۔ لا إلہ إلا اللہ کیا لا إلہ إلا اللہ دراصل تمام معبودوں کو رد کرکے اللہ کو معبودِ حقیقی کے طور پر دریافت کرنے کا دوسرا اللہ اکبر کیا ہے۔ یہ وہ عارفانہ کلمہ ہے جو ایک شخص کی زبان سے اُس وقت بے تابانہ طور پر نکل پڑتا ہے، جب کہ وہ تدبر کے نتیجے میں اللہ کے مقام عظمت کو دریافت کرے۔ یہ کلمات دراصل ذکرِ الہی کے کلمات ہیں۔ ذکر کی حقیقت معرفت ہے اور معرفتِ الہی بلاشبہ سب سے بڑی نیکی (virtue) ہے۔ لیکن معرفت کوئی سادہ چیز نہیں۔ معرفت سے پہلے دریافت ہے۔ دریافت سے پہلے تدبر ہے، تدبر سے پہلے یکسوئی (concentration) ہے، یکسوئی سے پہلے سنجیدگی آدمی سب سے پہلے سنجیدگی کا ثبوت دیتا ہے، پھر وہ اپنے ذہن کو غیر متعلق چیزوں سے یکسو کرتا ہے، اس کے بعد وہ غور وفکر کرتا ہے، جس کو تدبر کہا جاتا ہے۔ تدبر اس کو دریافت تک پہنچاتا ہے اور دریافت معرفت تک۔ سنجیدہ تفکر کے ان مراحل سے گزرنے کے بعد جب کسی انسان کو اللہ رب العالمین کی معرفت حاصل ہوتی ہے تو اس کے ذہن میں ایک فکری بھونچال آتا ہے، اس کے اندر حقیقت شناسی کا ایک سیلاب امڈ پڑتا ہے۔ یہ ربانی کیفیت جب ایک انسان کی زبان سے بے تابانہ طور پر ظاہر ہوتی ہے تو اسی کا نام ذکر الہی ہے۔

یہ کلمات دراصل اُس شعوری عمل (intellectual process) کو بتاتے ہیں جو ایک

صاحبِ ایمان کے اندر موجودہ دنیا میں جاری ہوتا ہے۔ موجودہ دنیا میں زندگی گزارتے ہوئے ایک صاحبِ ایمان پر مختلف احوال اور تجربات گزرتے ہیں۔ اگر اس کے اندر ایمانی شعور زندہ ہو تو یہ تمام احوال و تجربات اس کے لیے رزق رب کا ذریعہ بنتے رہیں گے۔ آخر کار وہ اُس مطلوب انسان کا درجہ حاصل کر لے گا جو آخرت کی جنت میں داخلے کے لیے ایک مستحق امیدوار (deserving candidate) کی حیثیت رکھتا ہے۔

Printed page