Al-Risala · May 2014

امت مسلمہ کا کیس

Al-Risala, May 2014

By Maulana Wahiduddin Khan

قانونِ فطرت کے مطابق، امت مسلمہ کی بعد کی نسلوں میں وہی زوال آنا مقدر تھا جو اس سے پہلے بنی اسرائیل پر آیا۔ زوال کی یہ حالت اپنی آخری صورت میں انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں کھل کر سامنے آگئی۔

اب امت کے رہنماؤں کو وہی کرنا تھا جو اس سے پہلے حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کے ساتھ کیا تھا، یعنی زمانے کے اعتبار سے امت کو ایک تربیتی کورس سے گزارنا، تاکہ اُن پر قرآن کی یہ آیتِ صادق آجائے: لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيَى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ (8:42)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امت کے جو نا قابلِ اصلاح افراد ہیں، وہ ختم ہو جائیں اور جو قابلِ اصلاح افراد ہیں، وہ بیدار ہو کر مطلوب رول ادا کرنے کے قابل ہوسکیں۔

غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ موجودہ زمانے میں اس طریقِ علاج کا بہترین میدان وہ تھا جس کو سیکولر تعلیم کا نظام کہا جاتا ہے۔ یہی تعلیمی نظام مکمل طور پر مسابقت (competition) کے اصول پر قائم تھا۔ یہاں دوسری قوموں کی طرف سے چیلنج کا مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھنا تھا۔ یہاں کا فارمولا یہ تھا کہ۔ مقابلہ کر کے زندہ رہو یا مرجاؤ: Compete or perish اس اعتبار سے، موجودہ زمانے کا سیکولر تعلیمی نظام گویا تعلیمی طریقِ علاج (educational therapy) کا میدان بن گیا تھا۔ ضرورت تھی کہ قوم کے تمام نوجوانوں کو اس طریق علاج کے پر اسس سے گزارا جائے۔ لیکن مسلمانوں کے علما اور رہنماؤں نے اس حکمت کو انھوں نے اس معاملے کی حکمت سے بے خبر رہتے ہوئے یہ اعلان کر دیا کہ یہ تعلیمی نظام تمام تر اینٹی مسلم نظام ہے۔ چناں چہ کسی نے اس نظام کو قتل گاہ قرار دیا، اور کسی نے اس کو 'ذہنی ارتداد کا کارخانہ قرار دیا، وغیرہ۔

موجودہ سیکولر تعلیمی نظام میں چیلنج اور مسابقت کا مطلوب ماحول پوری طرح موجود تھا۔

میں ایک چیز مفقود تھی، وہ تھی مسلم نوجوانوں کی دینی تعلیم و تربیت۔ اس مسئلے کا حل قرآن میں، بنی اسرائیل کے حوالے سے ان الفاظ میں موجود تھا: وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةً یعنی اپنے گھروں کو مذہبی تعلیم و تربیت کا مرکز بنا دو۔

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو یہی کرنا تھا۔ وہ یہ کہ مدرسے کی تعلیم کے علاوہ، مسلم نوجوانوں کی باقاعده تعلیم (formal education) وہ سیکولر تعلیم گاہوں میں دلوائیں اور اسی کے ساتھ وہ اپنے گھروں کو انفارمل ایجوکیشن (informal education) کا مرکز بنا دیں۔ تا کہ دونوں تقاضے بحسن و خوبی پورے ہوسکیں۔

مگر مسلم رہنماؤں نے اس کے برعکس، یہ کیا کہ انھوں نے قومی بنیاد پر مسلمانوں کے الگ تعلیمی ادارے قائم کیے۔ یہ تعلیمی ادارے، جہاں صرف مسلمانوں کے لیے تعلیم کا انتظام تھا، وہ فطری طور پر مسابقت اور چیلنج سے خالی تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بہت جلد یہ ادارے مسلم گھیٹو (Muslim ghetto) بن کر رہ گئے۔

موجودہ زمانے کے مسلمان اپنے زوال کی بنا پر اس قابل نہیں رہے تھے کہ وہ خود اپنے الگ قومی ادارے چلائیں۔ اس طرح کے ادارے قائم کرنے کا مطلب یہ تھا کہ زوال یافتہ افراد کو حقیقی لیاقت کے بغیر، بڑی بڑی پوزیشن دے دی جائے۔ چناں چہ ان اداروں میں اسلام تو نہیں آیا، البتہ ایک زوال یافتہ قوم کا قومی کلچر فروغ پانے لگا۔ یہی حال اُن ملکوں کا ہوا جو اسلام کے نام پر بنائے ان ملکوں میں زوال یافتہ افراد کو اچانک بڑے بڑے عہدے مل گئے اور انھوں نے پورے ملک کو زوال یافتہ کلچر کا جنگل بنا دیا۔

Printed page