Al-Risala · May 2014
زوال کی آخری مثال
Al-Risala, May 2014
By Maulana Wahiduddin Khan
دورِ زوال کے بارے میں حدیث میں بہت سے انتباہات آئے ہیں۔ اُن میں سے ایک انتباہ وہ ہے جو اس حدیثِ رسول میں ملتا ہے: لا ترجعوا بعدي كفاراً ، يضرب بعضكم رقاب بعض (صحيح البخاري، رقم الحديث (1739) یعنی میرے بعد تم کافر نہ ہو جانا کہ ایک شخص دوسرے
شخص کی گردنیں مارنے لگے۔ اس حدیث میں ”کفار“ کا لفظ فقہی معنی میں نہیں ہے، یہ دراصل تہدیدی زبان (language of hammering) ہے۔ یہاں شدت کے انداز میں بتایا گیا ہے کہ زوال جب اپنی آخری حد تک پہنچتا ہے تو امت کا حال کیا ہوتا ہے۔ اُس وقت لوگوں کے اندر خوفِ خدا کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اسی بے خوف نفسیات کی بنا پر وہ ایسا فعل کرنے کے لیے جری ہو جاتے ہیں جو قرآن کی صراحت کے مطابق، مبینہ طور پر ایک جہنمی فعل (4:93) ہے، یعنی ایک مومن کا دوسرے مومن کو ناحق قتل کرنا۔