جدید تعلیم کی اہمیت
Al-Risala, May 2014
By Maulana Wahiduddin Khan
جدید تعلیمی نظام کو سیکولر نظام کہا جاتا ہے، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ جدید تعلیم نئے دور کا نظامِ تعلیم تھا۔ وہ نئے دور کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وجود میں آیا تھا۔ اس کا سیکولر پہلو اس اضافی (relative) پہلو ہے، نہ کہ حقیقی (real) پہلو۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جو نئی دریافتیں ہوئیں، اُس نے زندگی کے ہر شعبے میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کر دیں۔ ان تبدیلیوں کا تعلق براہِ راست طور پر انسان کی عملی زندگی سے تھا۔ دورِ جدید میں زندگی کے تمام شعبے مکمل طور پر بدل گئے۔ ان شعبوں کو چلانے کے لیے نئے ماہرین اور نئے تربیت یافتہ افراد درکار تھے۔ جدید تعلیمی نظام گویا انھیں جدید قسم کے افراد کو تیار کرنے کا کارخانہ تھا۔ کسی قوم کے لیے اس تعلیمی نظام سے علاحدگی کا مطلب یہ تھا کہ اُس قوم کے پاس موجودہ دور کے اس جدید نقشۂ حیات کو چلانے کے لیے افراد کا موجود نہ ہوں۔ موجودہ زمانے میں امتِ مسلمہ کا کیس یہی ہے۔ اپنے قائدین کی رہنمائی میں امت نے یہ غلطی کی کہ وہ جدید تعلیمی اداروں کی عصری اہمیت کو سمجھ نہ سکے۔ انھوں نے اپنے نو جوانوں کو اس تعلیمی نظام سے دور رکھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پوری امت دورِ جدید میں بے جگہ (displaced) ہو کر رہ گئی۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی مبینہ پس ماندگی کا اصل سبب یہی ہے۔