افراد، نہ کہ مجموعہ
Al-Risala, May 2014
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانے میں مسلم علما اور رہنماؤں نے بہت سی تحریکیں چلائیں، لیکن ہر تحریک اپنے مطلوب
نشانے کو حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ اس ناکامی کا بنیادی سبب یہ تھا کہ ہر ایک نے غلط مفروضے سے اپنے کام کا آغاز کیا۔ انھوں نے موجودہ مسلمانوں کو خیر امت فرض کر لیا اور اسی مفروضے پر وہ اپنی منصوبہ بندی کرنے لگے، حالاں کہ موجودہ مسلمان صرف ایک زوال یافتہ گروہ بن چکے تھے۔ یہ ایک مشترک غلطی تھی جس میں یہ تمام حضرات مبتلا رہے- اس بنا پر اُن کا حال اُس معمار جیسا ہو گیا جو کچی اینٹوں کو پختہ اینٹ سمجھ کر قلعے کی تعمیر شروع کر دے۔ ایسے معمار کا یقینی انجام صرف یہ ہے کہ اس کا قلعہ کبھی تعمیر نہ ہو سکے۔
یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے ۔ وہ یہ کہ کوئی زوال یافتہ قوم دوبارہ اس طرح اصلاح قبول نہیں کرتی کہ پوری قوم بطور مجموعہ اصلاح یافتہ ہو جائے (21:95)۔ ایسا نہ ماضی میں کبھی ہوا اور آئندہ کبھی ہو سکتا ہے۔ اس بنا پر اصلاح کے کام میں خواہ پورے مجموعے کو خطاب کیا گیا ہو، لیکن ہمیشہ کچھ افراد ہی اُس سے اصلاح قبول کرتے ہیں۔ اس لیے تحریک کی کامیابی کا معیار ہمیشہ افراد قوم ہوتے ہیں، نہ کہ مجموعہ قوم۔