سیکولرزم کا نظریہ
Al-Risala, May 2014
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم سیاسی نظام میں بادشاہ کو مطلق اختیار حاصل ہوتا تھا۔ جدید جمہوریت میں اس کی گنجائش باقی نہ رہی۔ اس کے بعد حالات کے تحت ایک نیا نظریہ پیدا ہوا جس کو سیکولرزم کہا جاتا ہے۔
سیکولر ازم کا مطلب لادینیت نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ملکی انتظام کے سوا دوسرے امور میں اسٹیٹ کا رویہ عدم مداخلت (non-interference) کا ہوگا۔
یہ ایک دور رس انقلابی واقعہ تھا جو تاریخ میں پہلی بار پیش آیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زندگی کے تمام غیر سیاسی شعبے مثلاً مذہب، تعلیم، اقتصادیات، وغیرہ حکومت کی گرفت سے آزاد ہو گئے۔ اب لوگوں کو یہ موقع مل گیا کہ وہ ان غیر سیاسی شعبوں میں آزادانہ طور پر اپنے منصوبے کی تکمیل کر سکیں۔ نقطہ نظر سے بلاشبہ یہ ایک عظیم واقعہ تھا۔ یہ گویا سنت حدیبیہ کا عالمی احیا تھا۔ ساتویں صدی عیسوی میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فائدہ اس طرح حاصل ہوا تھا کہ آپ کو فریق ثانی کی تمام شرطوں کو یک طرفہ طور پر ماننا پڑا تھا۔ موجودہ زمانے میں حدیبیہ جیسے فائدے مزید اضافے کے ساتھ غیر مشروط طور پر حاصل ہو گئے ہیں۔ اب اگر کوئی شرط ہے تو وہ صرف یہ کہ اہل ایمان کسی کے خلاف تشدد (violence) نہ کریں۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ کوئی شرط نہیں، کیوں کہ اہل ایمان اپنے عقیدے کے تحت پہلے ہی سے تشدد کو قابل ترک قرار دیئے ہوئے ہیں۔ انطباقی سائنس کے ذریعے موجودہ زمانے میں انسان کو ایک عظیم نعمت حاصل ہوئی ہے، یعنی جدید ٹکنالوجی کے بے شمار فائدے ہیں۔ یہ فائدے عملاً تمام انسانوں کے لیے عام ہیں، لیکن اہل ایمان کے لیے وہ ہزاروں گنا زیادہ بڑے فائدے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کیوں کہ اہل ایمان اس ٹکنالوجی کی مدد سے اپنی دنیا کی بھی پر امن تعمیر کر سکتے ہیں، اسی کے ساتھ وہ تعلیم دین اور دعوت الی اللہ کے کام میں اس ٹکنالوجی کو استعمال کر سکتے ہیں اور اس طرح وہ اُس ربانی کام کو انجام دے سکتے ہیں جو اُن کے لیے آخرت کی ابدی سعادتوں کا دروازہ کھولنے والا ہے۔