Al-Risala · May 2014

اقوام متحدہ

Al-Risala, May 2014

By Maulana Wahiduddin Khan

قدیم زمانے میں انسانی آبادی مختلف الگ الگ حصوں میں بٹی ہوئی تھی۔ اُس وقت وہ وسائل موجود نہ تھے جس کے ذریعے یہ ممکن ہو کہ دنیا کے تمام انسانوں کی عالمی تنظیم قائم کی جاسکے۔

زمانے میں نئے حالات نے ساری دنیا کو ایک گلوبل ولیج (global village) کی حیثیت دے دی ہے۔ اب زمین کے ایک کونے میں بسنے والا انسان زمین کے دوسرے کونے میں بسنے والے انسان سے کامل طور پر مربوط ہے۔ حالات کے اس نئے تقاضے کے تحت 1920 میں ایک عالمی تنظیم قائم ہوئی جس کا نام لیگ آف نیشننس (League of Nations) تھا۔ اس کے بعد 1945 میں زیادہ بڑے پیمانے پر ایک اور عالمی تنظیم قائم ہوئی جس کا نام اقوام متحدہ ہے۔ اقوام متحدہ اپنے مختلف اداروں کے ساتھ اب ایک مستحکم عالمی تنظیم بن چکی ہے اور اس میں دنیا کے تمام ممالک شامل ہیں جن کی تعداد تقریباً دو سو ہے۔ اقوام متحدہ موجودہ زمانے میں ایک بین اقوامی نعمت (international blessing) کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے بہت سے اجتماعی فائدے ہیں۔ مثلاً موجودہ زمانے میں اقوام متحدہ کے عالمی پلیٹ فارم کی بنا پر تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ دنیا کے تمام ملکوں نے باقاعدہ طور پر اور سرکاری طور پر یہ تسلیم کر لیا کہ ان کے شہریوں کو مکمل معنوں میں مذہبی آزادی حاصل ہوگی۔ آزادی کے اس حق کے ذریعے موجودہ زمانے میں کام کے ایسے مواقع (opportunities) کے دروازے کھل گئے ہیں جو اس سے پہلے پوری تاریخ میں انسان کے اوپر یکسر بند پڑے ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ کے ذریعے حاصل ہونے والے انسانی حقوق بلاشبہ ایک عظیم نعمت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس نعمت سے بے خبر صرف وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اپنی قومی خواہشوں میں جیتے ہوں اور اس کو خود ساختہ طور پر معیار کا درجہ دئے ہوئے ہوں۔ موجودہ زمانے میں دنیا کے نظام میں جو دور رس تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں، وہ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے لائے جانے والے انقلاب کا منتہا (culmination) ہیں۔ عیسوی میں رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے عرب اور اطراف عرب میں جو انقلاب آیا، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک تاریخی انفجار (historical explosion) کے ہم معنی تھا۔ یہ اللہ کا ایک منصوبہ تھا جس کے ذریعے تاریخ میں ایک نیا عمل (process) شروع ہوا۔ مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے بیسویں صدی عیسوی میں اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا۔ اس انقلاب کا

مقصد دنیا میں کوئی معیاری نظام (ideal system) قائم کرنا نہ تھا، بلکہ یہ تھا کہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، انسان کی آزادی کو پوری طرح برقرار رکھتے ہوئے دنیا میں ایسا ماحول قائم کیا جائے جس میں اللہ کی پیدا کی ہوئی ہر چیز ہر انسان کے لیے ہو جائے۔

اسی کے ساتھ دینی نقطہ نظر سے یہ مطلوب تھا کہ اہل ایمان کے لیے ایک طرف یہ ممکن ہو جائے کہ وہ کھلے طور پر اعلیٰ معرفت کے درجات طے کر سکیں اور اسی کے ساتھ اُن کو اس بات کی کامل آزادی حاصل ہو کہ وہ دعوت الی اللہ کے پرامن کام کو آخری حد تک انجام دے سکیں۔ یہ تمام مطلوب فائدے موجودہ زمانے میں کامل طور پر حاصل ہو گئے ہیں۔ اب انسان کے اوپر حصول معرفت کے بھی تمام دروازے کھل چکے ہیں اور دعوتی عمل کے تمام مواقع بھی۔ یہ کام اتنے بڑے پیمانے پر ہوا ہے کہ یہ کہنا کسی مبالغے کے بغیر درست ہے کہ ــ دورِ جدید اسلام کا دور ہے۔ اکیسویں صدی میں قرآن کی وہ پیشین گوئی آخری حد تک پوری ہو چکی ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی تھی: هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا (48:28) یعنی اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، تا کہ وہ اُس کو تمام دینوں پر غالب کر دے، اور اللہ کافی گواہ ہے۔

قرآن کی اس آیت میں وقتی اعتبار سے کسی سیاسی واقعے کا ذکر نہیں ہے، اس میں اللہ کے ایک تاریخی منصوبے کا ذکر ہے جس کو ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہونا تھا اور پھر لمبے عمل کے بعد اپنی تکمیل تک پہنچنا تھا۔ بیسویں صدی عیسوی میں یہ خدائی منصوبہ اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا۔ اب اہل ایمان کا کام صرف یہ ہے کہ وہ ان عالمی مواقع کو جانیں اور ان کو بھر پور طور پر استعمال کریں۔ عصری اسلوب میں فکر انگیز کتابیں، ماہ نامہ الرسالہ اور دعوتی لٹریچر حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں: A. H. M. Danyal (President, Centre for Peace)

Mahatwana, Phulwarisharif, Patna-601505, Bihar Mob. 09308477841, 09852208744

Printed page