Al-Risala · May 2014

شتمِ رسول کا مسئلہ

Al-Risala, May 2014

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن ، اسلام کی سب سے زیادہ مستند کتاب (source book) ہے۔ قرآن میں کچھ ایسے جرائم کا ذکر ہے جو قرآن کے نزدیک، قابلِ سزا جرم (punishable crime) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قرآن میں جہاں اس قسم کے جرائم کا ذکر ہے، وہیں واضح الفاظ میں ان کی سزا کا بھی ذکر ہے۔ اس کی ایک مثال وہ جرم ہے جس کو اسلام میں ’قَذْف‘ کہا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی متعلق آیت یہ ہے: والذين يرمون المحصنات ثم لم يأتوا بأربعة شهداء فاجلدوهم ثمانين جلدة (24:4) یعنی جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں، پھر وہ چار گواہ نہ لائیں، تو اُن کو اسّی کوڑے مارو۔

قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک پاک دامن عورت کی عصمت پر کوئی شخص بے ثبوت الزام لگائے تو وہ قرآن کی نظر میں ایک ایسا مجرم بن جاتا ہے جس کو عدالتی کارروائی کے بعد جسمانی سزا (physical punishment) دی جائے۔ اس معاملے میں قرآن نے جب جرم کا ذکر کیا تو اُسی وقت اس کی متعین سزا کا بھی ذکر کر دیا۔

اب دوسرے پہلو سے غور کیجیے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے زمانوں میں اللہ تعالیٰ نے ہر قوم اور ہر بستی میں لگا تار پیغمبر بھیجے (23:44)۔ قرآن مزید یہ بتاتا ہے کہ ان تمام پیغمبروں کے ساتھ اُن کے معاصرین نے وہی منفی روش شدید تر انداز میں اختیار کی جس کا ذکر قرآن کی مذکورہ آیت میں پاک دامن خواتین کی نسبت سے کیا گیا ہے۔ مثلاً قرآن میں فرمایا کہ: يا حسرة على العباد، ما يأتيهم من رسول إلا كانوا به يستهزؤن (36:30) یعنی بندوں پر افسوس ہے، جو رسول بھی ان کے پاس آیا، وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔

قرآن میں دو سو سے زیادہ ایسی آیتیں ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبروں کے معاصرین نے مسلسل طور پر وہی فعل کیا جس کو آج کل ’’اہانتِ رسول‘‘ کہا جاتا ہے۔ کسی نے اپنے زمانے کے پیغمبر کو

كذاب (40: 24) کہا، کسی نے اپنے زمانے کے پیغمبر کو مجنون (15: 6) کہا، کسی نے اپنے زمانے کے پیغمبر کو مفتری (16:101) کہا، کسی نے اپنے زمانے کے پیغمبر کو سفیہ (7:66) کہا، کسی نے اپنے زمانے کے پیغمبر کا استہزا کیا (36:30)، وغیرہ۔ قرآن میں کثرت سے اس قسم کے توہین آمیز کلمات کا ذکر ہے، لیکن قرآن میں کہیں بھی یہ نہیں بتایا گیا کہ ایسے لوگوں کو کوڑے مارو یا ان کو قتل کردو، قرآن میں ایسی کسی سزا کا مطلق ذکر موجود نہیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر کی تو ہین سزا کا موضوع نہیں ہے، بلکہ وہ دعوت کا موضوع ہے، یعنی جو شخص '' توہین رسالت کا ارتکاب کرے، اس کو جسمانی سزا نہیں دی جائے گی، بلکہ دلیل کی زبان میں اس سے ایسی بات کہی جائے گی جس سے اس کا ذہن ایڈریس ہو۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ’’ توہین رسالت‘‘ کا ارتکاب کرنے والوں کو دلیل کی زبان میں خطاب کرکے ان کی اصلاح کی کوشش کی جائے گی، نہ کہ اُن کو قتل کرنا یا کوڑے مارنا۔

اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: أولئك الذين يعلم الله ما في قلوبهم، فأعرض عنهم، وعظهم، وقل لهم في أنفسهم قولا بلیغاً (4:63) یعنی اُن کے دلوں میں جو کچھ ہے، اللہ اُس سے خوب واقف ہے۔ پس تم ان سے اعراض کرو اور ان کو نصیحت کرو اور ان سے ایسی بات کہو جو اُن کے دلوں میں اتر جائے ۔

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کے خلاف جو لوگ منفی روش اختیار کرتے ہیں، اُن کو سزا دینا اللہ کا کام ہے، جو اُن کے دلوں کے حال کو جانتا ہے۔ تمھاری ذمے داری یہ ہے کہ تم اُن کی ایذارسانی کو نظر انداز کرتے ہوئے ان سے درد مندانہ نصیحت کا معاملہ کرو، تم ان کو ایسے موثر انداز میں نصیحت کرو جو اُن کے ذہن کو ایڈریس کرنے والی ہو۔

اس معاملے کی ایک مثال قرآن کی سورہ الغاشیہ ہے۔ اس کی متعلق آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: ’’کیا وہ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے پیدا کیا گیا، اور زمین کو کہ وہ کس طرح بچھائی گئی۔ پس تم یاد دہانی کرو، تم صرف یاد دہانی کرنے والے ہو، تم اُن پر دارو غہ نہیں۔ مگر جس نے روگردانی کی اور انکار کیا، تو اللہ

اس کو بڑا عذاب دے گا۔ ہماری ہی طرف ان کی واپسی ہے، پھر ہمارے ذمے ہے ان کا حساب لینا‘۔ قرآن کی ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا وہ اسلوب کیا ہے جس کی تلقین پیغمبر کو کی گئی تھی۔ وہ اسلوب یہ ہے کہ لوگوں کو دلائل کے ذریعے خطاب کیا جائے۔ دین کی صداقت پر ان کو عقلی طور پر مطمئن کرنے کی کوشش کی جائے۔ مخاطب کے منفی ردعمل کے باوجود دعوت کا یہی مثبت اسلوب آخر وقت تک جاری رہے گا۔ داعی کا یہ کام نہیں کہ وہ ان کے اوپر داروغہ بن کر ان کو سزا دینے لگے۔ اس کے بعد جہاں تک سزا و جزا کا معاملہ ہے، اس کا تعلق تمام تر اللہ قیامت میں اللہ ہر ایک کو اکٹھا کرے گا اور پھر ہر ایک کے عمل کے مطابق ، اس کے لیے جزا یا سزا کا فیصلہ فرمائے گا۔

اس معاملے کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ قرآن میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ جو شخص رسول کے خلاف سب وشتم کرے، اس کو ایسا کرنے سے روکو اور اگر وہ نہ رکے تو اس کو سخت سزا دو۔ برعکس، قرآن میں اہل ایمان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم فریق ثانی کے خلاف سب وشتم نہ کرو۔ سلسلے میں قرآن کی متعلق آیت یہ ہے: ولا تسبوا الذين يدعون من دون الله فيسبوا الله عدواً بغير علم (6:108) یعنی اللہ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں، تم ان کو سب وشتم نہ کرو، ورنہ یہ لوگ حد سے گزر کر جہالت کی بنا پر اللہ کو سب وشتم کرنے لگیں گے۔

قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان کا یہ کام نہیں کہ وہ میڈیا واچ (media watch) قائم کر کے ایسے لوگوں کی تلاش کریں جس نے ان کے خیال کے مطابق، سب وشتم کا فعل کیا ہے اور پھر اس کو ہر قیمت پر قتل ڈالیں۔ اس کے برعکس، قرآن یہ تعلیم دیتا ہے کہ اہل ایمان آخری حد تک ایسی کسی روش سے بچیں جس کا نتیجہ یہ ہو کہ لوگ مشتعل ہو جائیں اور وہ دینِ اسلام اور پیغمبرِ اسلام کے خلاف سب وشتم جیسا معاملہ کریں۔ گویا کہ قرآن کی ہدایت کے مطابق، اس معاملے کی ذمے داری خود اہل ایمان کو اپنے اوپر لینا ہے، نہ کہ اس کو دوسروں کے

اوپر ڈال کر ان کی سزا کا مطالبہ کرنا۔

Printed page