Al-Risala · May 2014

کے تعلق سے سمجھا جاتا

Al-Risala, May 2014

By Maulana Wahiduddin Khan

اس اعتبار سے دیکھئے تو موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی روش قرآن کی تعلیم کے عین خلاف ہے۔ مسلمان یہ کر رہے ہیں کہ جب بھی کوئی شخص اُن کے خیال کے مطابق، تقریر یا تحریر کے ذریعے ’’اہانتِ رسول‘‘ کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ فوراً مشتعل ہو کر اس کے خلاف جلوس نکالتے ہیں اور یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ــــ اُن تمام لوگوں کی گردن مار دو جو پیغمبر کی توہین کرتے ہیں: Behead all those who insult the Prophet. جو لوگ اِس قسم کے اشتعال انگیز جلوس نکالتے ہیں اور مفروضہ ’’مرتکبینِ اہانت‘‘ کے قتل کا مطالبہ کرتے ہیں، وہ خود سب سے بڑی اہانت کا ارتکاب کرتے رہے ہیں۔ اُن کی اِن متشددانہ کارروائیوں کا یہ سنگین نتیجہ ہوا ہے کہ آج کا انسان یہ یقین کرنے لگا ہے کہ اسلام تہذیب سے پہلے کا اسلام انسان کی آزادانہ سوچ پر پابندی لگاتا ہے، اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو فکری جرم (thought-crime) میں یقین رکھتا ہے، اسلام تشدد کا مذہب ہے، وغیرہ ــــ موجودہ زمانے میں اسلام کی اِس منفی تصویر (negative image) کے ذمہ دار تمام تر خود مسلمان ہیں، اور اِس طرح اسلام کی تصویر بگاڑنا بلاشبہ تمام جرائم میں سب سے بڑے جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہندی داں طبقے کے لئے ایک قیمتی تحفہ "پیغمبرِ اسلام حضرت محمدؐ کا جیون"

Printed page