Al-Risala · June 2014

توبہ نصوح

Al-Risala, June 2014, pp. 15–16

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ التحریم میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تم لوگ اللہ سے توبہ نصوح کرو اور توبہ نصوح تمھارے لیے جنت میں داخلے کا سبب بنے گی (66:8)۔ نصوح سے مراد مخلصانہ توبہ (sincere repentance) ہے۔ توبہ نصوح کیا ہے، اس کو قرآن کی سورہ النساء کی دو آیتوں کے مطالعے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ وہ آیتیں یہ ہیں : إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللَّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِنْ قَرِيبٍ فَأُولَئِكَ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الْآنَ وَلَا الَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمْ كُفَّارٌ أُولَئِكَ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا (4:17-18)۔

قرآن کی ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ توبہ کی دو قسمیں ہیں— ایک ، مقبول توبہ اور دوسری ، غیر مقبول توبہ۔ مقبول توبہ وہ ہے جو حقیقی احساسِ خطا کے بعد پیدا ہو اور جو ایک ایسے نئے اور پُر عزم فیصلے کے ہم معنی ہو جس کو آدمی نے اپنے دل و دماغ کی پوری طاقت کے ساتھ کیا ہو۔ اس کے برعکس ، غیر مقبول توبہ وہ ہے جو کسی حقیقی فیصلے کے ہم معنی نہ ہو، بلکہ اس کی حیثیت صرف لپ سروس (lip service) کی ہو۔

توبہ نصوح کیا ہے، اس کی مزید وضاحت ایک حدیث سے ہوتی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن الله يقبل توبة العبد ما لم يغرغر (سنن الترمذي، رقم الحديث: 3537) یعنی اللہ غرغرہ پیش آنے تک بندے کی توبہ قبول کرتا ہے۔

جب موت کا وقت قریب آتا ہے اور انسان محسوس کرتا ہے کہ اب اس کے لیے زندگی کی مزید مہلت باقی نہیں رہی، اُس وقت ایک صاحب فکر انسان کے اندر زبردست بھونچال آجاتا ہے۔ وہ حالت ہو جاتی ہے جس کو نفسیات کی اصطلاح میں برین اسٹارمنگ (brain storming) کہا جاتا

اُس وقت اس کو شدید طور پر یہ احساس ہوتا ہے کہ میں نے اپنی عمر ضائع کردی۔ اس کو اپنا مستقبل بالکل تاریک دکھائی دینے لگتا ہے۔ کسی انسان پر اگر یہ زلزلہ خیز حالت طاری ہو جائے تو ایک لمحے کے اندر اس کو توبہ نصوح کی توفیق حاصل ہو جائے گی۔ اس کے گناہ اس کے اعمال نامے سے اچانک ڈیلیٹ (delete) ہو جائیں گے۔

یہی وہ حالت ہے جس کے بارے میں حدیث میں آیا ہے: التائب من الذنب كمن لا ذنب له (الجامع الصغير للسيوطي، رقم الحديث: 3387) یعنی گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے کہ اس نے کوئی گناہ ہی نہیں کیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک مومن حقیقی تو بہ کرے تو اللہ تعالی عین اُسی وقت اس کے گناہوں کو اس کے اعمال نامے سے حذف کردے گا۔ ایک گناہ گار شخصیت اچانک ایک بے خطا شخصیت کی صورت اختیار کر لے گی۔

تو بہ کا معاملہ سادہ معنوں میں صرف خطا اور عفو خطا کا معاملہ نہیں ہے، اس کی اہمیت اس سے زیادہ ہے۔ تو بہ ایک نفسیاتی عمل (psychological process) ہے، جس کے ذریعے ایک انسان کو موقع ملتا ہے کہ وہ مسلسل اپنی شخصیت کی تعمیر جاری رکھے، یہاں تک کہ وہ پورے معنوں میں مزکی شخصیت (purified personality) بن جائے۔

انسان کو سب سے زیادہ جو چیز جھنجھوڑتی ہے، وہ خطا کاری کا احساس ہے، نہ کہ معصومیت کا احساس۔ معصومیت کے احساس سے آدمی کے اندر ٹھہراؤ آتا ہے، جب کہ خطاری کا احساس آدمی کے اندر ایک ذہنی بھونچال پیدا کر دیتا ہے۔ یہی وہ بھونچال ہے جو آدمی کے اندر چھپے ہوئے پونشیل (potential) کو جگاتا وہ شدت کے ساتھ آدمی کے اندر اصلاح کا جذبہ پیدا کر دیتا ہے۔ اس لیے حدیث میں آیا ہے کہ اللہ کو ایسا انسان پسند ہے جو غلطی کرے اور معافی مانگے (خير الخطائين التوابون)۔ کسی شخص کے اندر اس نفسیاتی اصلاح کے جاری ہونے ہی کا شرعی نام تو بہ نصوح ہے۔ تو بہ نصوح اپنی حقیقت کے اعتبار سے محض کچھ الفاظ کی ادائیگی کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ ایک نفسیاتی بھونچال کا نام ہے۔ ایک ایسا نفسیاتی بھونچال کہ جب وہ کسی انسان کے اندر آتا ہے تو اس کی پوری شخصیت کو بدل دیتا ہے۔

Printed page