نقل و حرکت
Al-Risala, June 2014, pp. 21–22
By Maulana Wahiduddin Khan
کسی تحریک (movement) کی کامیابی کے لیے صرف آئیڈیالوجی کافی نہیں۔ لیے ایسی چیز بھی ضروری ہے جو عملی مظاہرے کی حیثیت رکھتی ہو۔ اس کی ایک صورت نقل و حرکت ہے۔ اس نقل و حرکت کو قرآن میں سیاحت (9:112) کہا گیا ہے۔ قدیم یونان میں ایک گروپ تھا جس کو مشائین (travellers) کہا جاتا تھا۔ یہ لوگ مسلسل طور پر پیدل سفر کرتے تھے اور اس طرح لوگوں کے درمیان اپنے افکار پھیلاتے تھے۔ حضرت مسیح کے بعد سینٹ پال نے اس طریقے کو اختیار کرتے ہوئے مسیحیت کو مختلف ملکوں میں پھیلایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو غزوات اور سرایا پیش آئے، وہ بھی ایک اعتبار سے اسی زمرے میں آتے ہیں۔ مسلم صوفیا کا طریقہ بھی یہی تھا کہ وہ اپنے مریدوں کے ساتھ سفر کرتے تھے اور جگہ جگہ اپنا حلقہ (order) بناتے تھے۔ موجودہ زمانے میں تبلیغی جماعت نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا ہے اور اسی بنا پر اس کو ’’مسجد وار تحریک‘‘ کہا جاتا ہے۔ الرساله مشن کی توسیع کے لیے بھی نقل و حرکت کے طریقے کو بڑے پیمانے پر اختیار کرنا ضروری اب اللہ کے فضل سے ہر شہر اور ہر بستی میں قارئین الرسالہ کے حلقے بن چکے ہیں۔ ضرورت ہے کہ الرسالہ مشن کے لوگ سفر کر کے ہر جگہ پہنچیں، وہ ہر مقام پر قارئین الرسالہ سے ملیں، اُن کو متحرک کریں، ان کو منظم کریں، ہر جگہ ہفتہ وار اجتماعات کا نظم کریں، ہر جگہ لائبریری قائم کریں، وغیرہ۔ نے اس کو ممکن بنا دیا ہے کہ اب نقل و حرکت کے کام کو مزید اضافے کے ساتھ کیا جائے، یعنی نہ صرف جسمانی نقل و حرکت، بلکہ الیکٹرانک نقل و حرکت بھی۔
موجودہ زمانے میں کمیونیکیشن کی ترقی نے نقل و حرکت کے کام کو بہت آسان بنا دیا ہے۔ الرساله مشن سے وابستہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس امکان کو بھرپور طور پر استعمال کریں۔ نقل و حرکت کے بغیر اگر الرساله مشن حسابی رفتار (arithmetic progression) سے آگے بڑھ رہا ہے تو نقل و حرکت کے بعد وہ ہندسی رفتار (geometric progression) سے آگے بڑھنے لگے گا۔
دعوتی نقل و حرکت کا یہ کام ممبئی کے حلقہ الرسالہ نے عملاً شروع کر دیا ہے۔ وہ منظم انداز میں اس کام کو انجام دے رہے ہیں۔ وہ مہاراشٹر یہ کے مختلف مقامات پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ اس دعوتی کام کے لیے وہ جدید ٹکنالوجی کا پورا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اُن کو اس کام میں ہر جگہ لوگوں کا تعاون حاصل ہو رہا ہے۔ اس طرح اس علاقے میں یہ دعوتی مشن تیزی سے آگے بڑھ رہا اس معاملے میں جو لوگ ممبئی والوں کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، وہ حسب ذیل ٹیلی فون پر اُن سے ربط قائم کر سکتے ہیں— محبوب بھائی: 09619163993 دعوتی نقل و حرکت کا یہی وہ کام ہے جس کو قرآن میں سیاحت کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن میں ’السائحون والسائحات‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیاحت کا یہ کام اہلِ ایمان مردوں اور اہلِ ایمان عورتوں دونوں کو یکساں طور پر انجام دینا ہے۔ دونوں سے یہ مطلوب ہے کہ وہ دعوتی مشن کے کام میں دوسرے طریقوں کے علاوہ نقل و حرکت کے طریقوں کو وہ دعوت کے عمل کو ایک متحرک عمل بنا دیں۔
سیاحت کا مطلب ہے— سفر کرنا (to travel)۔ سفر ایک عام انسانی ضرورت ہے۔ چھوٹا بھی ہوتا ہے اور بڑا بھی۔ سفر قریب کی منزل کے لیے بھی ہوتا ہے اور دور کی منزل کے لیے بھی۔ سفر کی نوعیت کا تعلق خود سفر سے نہیں ہے، بلکہ مسافر سے ہے۔ مسافر کا جو مقصد حیات ہو، اُسی سے اس کے سفر کا مقصد بھی متعین ہوتا ہے۔ مثلاً تاجر کا سفر تجارت کے لیے ہوتا ہے۔ کا سفر تفریح کے لیے ہوتا ہے، وغیرہ۔ مومن اپنے عقیدے کے اعتبار سے، ایک صاحبِ مشن انسان ہوتا ہے۔ مومن کی زندگی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اُس نے جس سچائی کو دریافت کیا ہے، اس سچائی کو وہ تمام دنیا والوں تک پہنچائے۔ یہی وہ صفت ہے جو مومن کی سیاحت کو ایک دعوتی سیاحت بنا دیتی ہے۔ وہ جہاں جاتا ہے، اس کا مشن بھی اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ سفر کے ہر مرحلے میں اس کا دعوتی مشن جاری رہتا ہے۔ اس معاملے میں عورت اور مرد کا کوئی فرق نہیں۔ مومن اور مومنہ دونوں ہمیشہ دعوتی توسیع کے اس کام میں سرگرم رہتے ہیں۔ (14 اپریل 2014)