حقیقت پسندانہ مزاج
Al-Risala, June 2014, pp. 24–26
By Maulana Wahiduddin Khan
نئی دہلی میں انڈیا گیٹ کا علاقہ بہت خاص علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ شام کے وقت یہاں لوگ سیر و تفریح کے لیے آتے ہیں۔ ایک بار میں نے دیکھا کہ ایک شخص وہاں آیا۔ اس کے ساتھ اس کی بیوی اور اس کا بچہ تھا۔ بچے نے اپنے باپ سے آئس کریم کی فرمائش کی۔ باپ نے فوراً اپنی جیب سے ایک نوٹ نکالا۔ اس نے آئس کریم کا ایک پیکٹ خریدا اور پھر تینوں کھڑے کھڑے آئس کریم کھانے میں نے اُس آدمی کے چہرے کو دیکھا تو اس کے چہرے پر فخر کی چمک تھی۔ گویا کہ خاموش انداز میں وہ یہ کہہ رہا تھا کہ میری جیب میں پیسہ ہے اور میں اپنے پیسے سے آئس کریم خرید کر اپنے بچے کی فرمائش پوری کر سکتا ہوں۔ یہ پورا واقعہ اُس کے نزدیک ’’میں‘‘ کا کارنامہ تھا۔ اس کے لیے اُسے کسی اور کا احسان مند ہونے کی ضرورت نہیں۔
یہی تمام انسانوں کا حال ہے۔ تمام عورت اور مرد اسی احساس میں جی رہے ہیں۔ نے لوگوں کے اندر سے تواضع (modesty) کا جذبہ چھین لیا ہے۔ ہر آدمی کا کیس کبر(arrogance) کا کیس بننا ہوا ہے۔ ہر عورت اور مرد کا صرف ایک مذہب ہے، اور وہ ایگو ازم اس ایگو کلچر نے ہر ایک کو خود پسند اور سرکش اور متکبر بنا دیا ہے۔ لوگوں کا یہ مزاج صرف اُس وقت تک چھپا رہتا ہے، جب تک ان کی انا کو چھیڑا نہ جائے۔ انا کو چھیڑتے ہی ہر آدمی بتا دیتا ہے کہ وہ کبر کا کیس تھا، اگرچہ وہ بظاہر متواضع (modest) بنا ہوا تھا۔ یہ مزاج سر تا سر غیر حقیقت پسندانہ مزاج ہے۔ اگر آدمی حقیقت واقعہ پر غور کرے تو وہ کبھی بھی متکبر نہ بنے۔ کیوں کہ اس دنیا میں کسی کے لیے متکبر بنا مضحکہ خیز حد تک بے معنی ہے۔ چناں چہ کوئی سائنٹسٹ کبھی متکبر نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اُس کا میدانِ مطالعہ علومِ قطعیہ (exact sciences) ہوتے اس بنا پر اس کے اندر اپنے آپ حقیقت پسندی کا مزاج آ جاتا ہے۔
ہر سائنٹسٹ، شعوری یا غیر شعوری طور پر جانتا ہے کہ اس کو کامل طور پر حقیقتِ واقعہ کی پابندی
اگر وہ حقیقت واقعہ سے ذرا بھی ہٹے تو وہ مطلوب نتیجے تک پہنچنے سے محروم رہ جائے گا۔ کہ ایگزیکٹ سائنس، اس کے اندر ایگزیکٹ تھنکنگ کا مزاج بناتی ہے۔ اور ایگزیکٹ تھنکنگ ہی کا دوسرا نام حقیقت پسندی ہے۔
اب انڈیا گیٹ کے مذکورہ واقعہ کو لیجیے۔ آدمی کے اندر فخر کا جذبہ کیوں آیا۔ لیے کہ اس کے اندر سائنسی مزاج، بالفاظ دیگر، حقیقت پسندانہ مزاج موجود نہ تھا۔ اگر اس کے اندر صحیح مزاج موجود ہوتا تو آئس کریم کا پیکٹ اس کے تواضع میں اضافہ کرتا نہ کہ فخر اور گھمنڈ میں، جیسا کہ عملاً پیش آیا۔
آئس کریم کیا ہے۔ آئس کریم ایک عظیم تحفہ ہے۔ آئس کریم کو وجود میں لانے میں ایک طرف نیچر کا طویل کائناتی عمل شامل ہے، اور دوسری طرف انسان کی تہذیبی جدوجہد کا لمبا سفر اس کو وجود میں لانے میں سرگرم رہا ہے۔ اس طرح ناقابلِ یقین حد تک ایک پر از واقعات تاریخ کے نتیجے میں وہ وقت آیا کہ ایک شخص کو خوب صورت کیس میں پیک کی ہوئی آئس کریم حاصل ہو سکے۔ ایک سائنسی نظریے کے مطابق، تقریباً دس بلین سال پہلے وسیع کائنات گیسوں سے بھری ہوئی اس کے بعد لمبے عمل کے نتیجے میں ہائڈروجن اور آکسیجن مخصوص تناسب میں ایک دوسرے کے اس کے نتیجے میں پانی وجود میں آیا۔ اس کے بعد لمبی مدت تک زمین پر پانی برستا رہا۔ کے نتیجے میں زمین پر پانی کے ذخیرے اکٹھا ہو گئے۔ اس کے بعد حیوانات وجود میں آئے۔ انسان اس زمین پر آباد ہوا۔
اس طرح لمبی مدت کے عمل کے نتیجے میں دودھ دینے والے جانور پیدا ہوئے۔ تہذیب کا عمل شروع ہوا۔ انسانی تہذیب ہزاروں سال تک ایک ارتقائی سفر طے کرتی رہی۔ حیوانات سے دودھ حاصل کیا۔ پھر اس دودھ کے مختلف مرکبات بنائے۔ پھر جدید صنعت ظہور میں اس کے بعد یہ ممکن ہوا کہ دودھ کو آئس کریم کی شکل میں ڈھالا جاسکے۔ اور اس کو خوب صورت
پیکٹ میں پیک کر کے بازار میں لایا جائے ۔
عالم فطرت اور انسانی تہذیب دونوں کے اس لمحے مشترک عمل پر غور کیا جا۔ جے تو معلوم ہو گا کہ آج عامِ فطرت اور انسانی تہذیب دونوں کے اس بے مثال عمل پر غور لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ آج جب ایک آدمی چند روپے دے کر بازار سے آئس کریم کا پیکٹ حاصل کرتا ہے تو اس پورے عمل (process) کے مقابلے میں آدمی کا اپنا حصہ ایک فی بلین سے بھی بہت زیادہ کم ہوتا ہے۔ حالت میں حقیقت پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی کے ہاتھ میں جب آئس کریم کا پیکٹ آئے تو وہ سرتاپا تواضع میں ڈھل جائے ۔ دو طرفہ احسان مندی کے جذبے سے اُس کی گردن جھک جائے ۔ فخر اور گھمنڈ کا کوئی ذرہ بھی اس کے دل میں باقی نہ رہے۔
یہ صرف آئس کریم کا معاملہ نہیں۔ اس دنیا میں ہر چیز کا معاملہ یہی ہے۔ کوئی بھی چھوٹی یا بڑی چیز جس کو آدمی استعمال کرتا ہے، وہ اسی طرح انسان کے لیے ایک عالمی عطیہ کی حیثیت ایک طرف فطری سپورٹ (natural support) اور دوسری طرف تہذیبی سپورٹ (civilizational support)، ان دونوں قسم کے عظیم سپورٹ کے ذریعے یہ ممکن ہوتا ہے کہ کوئی مرد یا عورت اس زمین پر آباد ہو اور اپنے لیے ایک کامیاب زندگی حاصل کر سکے۔ اس واقعے کا ادراک انسان کے لیے بے حد اہم ہے۔ اسی ادراک کے نتیجے میں انسان کے اندر وہ اعلیٰ صفت پیدا ہوتی ہے جس کو تواضع کہا جاتا ہے۔ یہی تواضع انسان کی اصل پہچان ہے۔ اندر وہ صفت پیدا ہوتی ہے کہ وہ رواں ہو جاتا ہے۔ نہیں ہیں راس اساں آدمی کے اندر تواضع نہیں ، وہ گویا کہ انسان بھی نہیں۔