قرآن کا پیغام
Al-Risala, June 2014, pp. 29–32
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ مریم میں قرآن کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ (19:97) یعنی قرآن اس لیے اتارا گیا ہے کہ وہ اہلِ تقویٰ کے لیے بشارت ثابت ہو۔ مطلب اچھی خبر (good news) ہے۔ قرآن، خدا کی ایک مستند کتاب ہے۔ قرآن تمام انسانوں کو ایک اچھی خبر دینے والا ہے۔ وہ اچھی خبر یہ ہے کہ انسان اگر دنیا کی محدود زندگی میں حسنِ عمل کا طریقہ اختیار کرے تو وہ موت کے بعد کی زندگی میں ابدی جنت میں جگہ پائے گا۔
قرآن کے مطابق، یہ اچھی خبر اُن افراد کے لیے ہے جو دنیا کی زندگی میں تقویٰ کی روش اختیار جنت عمومی طور پر ہر انسان کو نہیں ملے گی، وہ صرف اُس انسان کو ملے گی جو دنیا کی زندگی میں تقویٰ کا ثبوت دے (3:133)۔ جنت ایک معیاری دنیا ہے۔ اس معیاری دنیا میں جگہ پانے کی شرط صرف ایک ہے، اور وہ تقویٰ ہے۔ قرآن کے مطابق، یہی وہ منصوبہ تخلیق (creation plan) ہے جس کے لیے انسان کو پیدا کر کے اس کو محدود مدت کے لیے سیارہ ارض (planet earth) پر بسایا سیارہ ارض انسان کے لیے کوئی عیش گاہ نہیں ہے، وہ مذکورہ مقصد کے لیے مقام انتخاب (selection ground) ہے۔ یہاں وہ افراد چنے جارہے ہیں جو اپنی اعلیٰ صفات کی بنا پر جنت جیسی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔ یہی بات قرآن کی سورہ الملک میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے: اَلَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً (67:2) یعنی اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تا کہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے: He created death and life so that He might test you, and find out which of you is best in conduct. اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا کی ہیں، وہ وسیع تر تقسیم (division) میں دو ہیں مادی دنیا مادی دنیا سے مراد وہ پوری وسیع کائنات ہے جس کو نیچر (nature) کہا جاتا ہے۔
مکمل طور پر خدا کے مقرر کئے ہوئے قانون (divine laws) کے تحت کام کر رہی ہے۔ وہ خدا کے قانون سے ادنیٰ انحراف نہیں کرتی۔ مگر انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان پوری کائنات میں ایک استثنا کی حیثیت رکھتا ہے، وہ یہ کہ انسان کو انتخاب کی آزادی (freedom of choice) عطا کی گئی ہے۔ انسان کو کامل اختیار حاصل ہے کہ وہ خود اپنی سوچ کے مطابق، اپنے قول و عمل کا فیصلہ یہ بات قرآن کی مختلف آیتوں میں بتائی گئی ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: ”کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں، حالاں کہ اُسی کے حکم میں ہے جو کوئی آسمان اور زمین میں ہے، خوشی سے یا ناخوشی سے، اور سب اُسی کی طرف لوٹائے جائیں گے“ (83 :3)۔ سلسلے میں قرآن کی ایک اور آیت کا ترجمہ یہ ہے: ”اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کو چاہے گا، تو وہ دین اُس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نا کام انسانوں میں سے ہوگا“ (85 :3) قرآن کی اِس آیت میں لفظِ اِسْلام (submission) استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خالق کی جو اطاعت بقیہ کائنات سے جبری (compulsory) طور پر مطلوب ہے، انسان سے یہ مطلوب ہے کہ اسی اطاعت کو وہ کامل آزادی کے ساتھ اپنی زندگی میں اختیار کرے۔ قرآن کی مذکورہ آیت کے مطابق، جنت کی بشارت متقی انسانوں کے لیے ہے۔ لفظی مطلب ہے— ڈرنے والا یا بچنے والا۔ ڈرنا یا بچنا کیا ہے، یہ دراصل حساسیت (sensitivity) کا ایک ظاہر ہ ہے۔ جب آدمی کسی چیز کے بارے میں بہت زیادہ باشعور ہو جائے تو فطری طور پر وہ اس کے بارے میں بہت زیادہ حساس (sensitive) ہو جاتا ہے۔ انسان کی زندگی میں سب سے بڑا رول اسی حساسیت کا ہے۔ آدمی جس چیز کے بارے میں حساس نہ ہو، وہ اس کو نظر انداز کرے گا، اور جس چیز کے بارے میں وہ حساس ہو، وہ چیز اس کا کَنْسَرن (concern) بن جائے گی۔ مزاج کے مطابق، اُس کو وہ سب سے زیادہ قابلِ توجہ سمجھنے لگے گا۔
قرآن کا پیغام یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو ڈسٹریکشن سے بچائے۔ وہ اپنے شعور کو اتنا زیادہ بیدار کرے کہ اپنی زندگی میں خدا کی اطاعت ہی اُس کا سب سے بڑا کَنْسَرن (sole concern)
بن جائے ، کوئی دوسری چیز اس کی حساسیت کا مرکز نہ بنے۔
قرآن کی اس آیت میں دراصل اُس چیز کا حکم دیا گیا ہے جس کو ایک لفظ میں صحیح طرزِ فکر کہا گیا انسانی زندگی کی درستگی کا سارا مدار اس پر ہے کہ اس کے اندر صحیح طرزِ فکر پیدا ہو جائے۔ قول اور عمل کے معاملے میں اپنے آپ کو پوری طرح قانونِ خداوندی کے مطابق بنا لے۔ ایسے آدمی کا حال کیا ہوگا، اُس کو قرآن میں مختلف مقامات پر بتایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَلا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۖ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْؤُولًا (36 :17) یعنی تم اُس چیز کے پیرو نہ بنو جس کا تمھیں علم نہیں۔ کان اور آنکھ اور دل سب کی، آدمی سے پوچھ ہوگی۔
قرآن کی اس آیت میں دراصل اُس چیز کا حکم دیا گیا ہے جس کو ایک لفظ میں صحیح طرزِ فکر کہا گیا انسانی زندگی کی درستگی کا سارا مدار اس پر ہے کہ اس کے اندر صحیح طرزِ فکر پیدا ہو جائے۔ قول اور عمل کے معاملے میں اپنے آپ کو پوری طرح قانونِ خداوندی کے مطابق بنا لے۔ انسان کو سننے کی طاقت ، دیکھنے کی طاقت اور سوچنے کی طاقت اس لیے دی گئی ہے، تا کہ انسان اُن کا استعمال کر کے اپنے لیے اِس صحیح روش کو جان سکے جس کو قرآن میں صراطِ مستقیم کہا گیا ہے۔ صراطِ مستقیم سے ہٹنا، اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی نے اپنی ملی ہوئی صلاحیتوں کو درست طور پر استعمال ایسا آدمی اللہ تعالی کے یہاں قابلِ مواخذہ (accountable) قرار پائے گا ، کوئی بھی عذر اُس سے قبول نہیں کیا جائے گا (57 :30)۔ اسی طرح حیاتِ انسانی کا ایک اصول یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو کبر (arrogance) کی نفسیات سے بچائے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں: وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحاً ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ (18 :31) یعنی تم زمین میں اکڑ کر نہ چلو ۔ بے شک اللہ کسی اکڑنے والے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ قرآن کی اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کے لیے سب سے بُری اخلاقی صفت کیا ہے، وہ کبر ہے حقیقت یہ ہے کہ کبر تمام برائیوں کا سرچشمہ ہے۔ اس کے برعکس ، تواضع (modesty) تمام بھلائیوں کا
سرچشمہ قرآن کا مطلوب انسان وہ ہے جو متواضع ہو اور کبر کی نفسیات سے مکمل طور پر خالی ہو۔ قرآن کی سورہ الفجر میں بتایا گیا ہے کہ انسان کے ساتھ جو خوش گوار یا نا خوش گوار تجربات پیش آتے ہیں، وہ صرف ابتلا (test) کے لیے ہوتے ہیں، مگر انسان ایسے واقعات کو منفی معنی میں لے اگر اس کے ساتھ خوش گوار واقعہ پیش آئے تو وہ ’أکرمن‘ کی نفسیات میں مبتلا ہو جاتا ہے، یعنی احساس برتری (superiority complex) کی نفسیات میں۔ اس کے برعکس، اگر اُس کے ساتھ کوئی نا خوش گوار واقعہ پیش آئے تو وہ ’اہانن‘ کی نفسیات میں مبتلا ہو جاتا ہے، یعنی احساس کم تری (inferiority complex) کی نفسیات میں (16-89:15)۔
قرآن کے مطابق، یہ دونوں چیزیں انسان کو ہلاک کرنے والی ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ انسان کے ساتھ کوئی خوش گوار واقعہ پیش آئے، تب بھی وہ اعتدال کی حالت پر قائم رہے۔ اور اگر اس کے ساتھ کوئی نا خوش گوار واقعہ پیش آئے، تب بھی وہ اعتدال کی حالت پر قائم رہے۔ جو انسان اس طرح معتدل شخصیت کا ثبوت دے، اس کو قرآن میں النفس المطمئنة (89:27) کہا گیا ہے، یعنی کا مپلیکس فری انسان (complex-free soul)۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ کسی انسان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اُس کو موت کے بعد کی ابدی زندگی میں جنت میں داخلہ مل جائے۔ اس سلسلے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ لِمِثْلِ هٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ (61-37:60) یعنی یقیناً یہی بڑی کامیابی ہے۔ ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے مطابق، انسان کا گول (goal) کیا ہونا چاہئے، وہ گول صرف ایک ہے، اور وہ جنت ہے۔ جنت سادہ طور پر صرف ایک عیش گاہ نہیں جنت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ رب العالمین کا پڑوس ہے، اور بلاشبہ کسی انسان کے لیے اس سے بڑی کوئی کامیابی نہیں ہو سکتی کہ اس کو ابدی زندگی میں اپنے رب کا پڑوس (neighbourhood) حاصل ہو جائے۔ جنت کی یہ خصوصیت قرآن کی اس دعا سے معلوم ہوتی ہے: رَبِّ اَبْنِ لِيْ عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ (66:11) یعنی اے میرے رب، میرے لیے تو اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے۔