Al-Risala · June 2014

This is the beginning of the end.

Al-Risala, June 2014, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

1799 مسلمانوں کے عروج کے خاتمے کی علامت ہے۔ دوسری طرف، یہی 1799 مسلمانوں کے زوال کے آغاز کی علامت ہے۔ اس کے بعد پوری مسلم دنیا میں احیاء ملت کے نام سے زبردست سرگرمیاں شروع ہوگئیں۔ مگر لمبی مدت کی غیر معمولی قربانیوں کے باوجود احیاء ملت کی یہ دو سو سالہ جد و جہد اپنے مطلوب نتیجے کے اعتبار سے، سرتا سر ناکام رہی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس کا نقطہ آغاز ہی درست نہ تھا۔ اُس وقت اٹھنے والے مسلم رہناؤں کے لیے جو فوری ریفرنس (immediate reference) تھا، وہ مسلمانوں کی سیاسی تاریخ تھی۔ چناں چہ مسلم احیا کی تحریک عملاً مسلمانوں کے سیاسی غلبہ کے احیا کی تحریک بن گئی۔ حالاں کہ احیا کا صحیح طریقہ یہ تھا کہ مسلمان تاریخ سے گزر کر دورِ نبوت تک پہنچیں اور وہ سنت رسول کے احیا کو اپنا نشانہ بنائیں، نہ کہ مسلم تاریخ کے احیا کو۔

اِسی غلطی کا یہ نتیجہ ہے کہ اس دور میں اٹھنے والی مسلم تحریکوں کا نشانہ فکر اسلامی کا احیا نہ رہا، بلکہ اس کا مایہ بہ نہ اس دور میں اے راہیں عملاً مسلمانوں کی سیاسی تاریخ کا احیا اُن کا نشانہ بن کر رہ گیا۔ ساہ مالیا رہا نہ ملہ

Printed page