Al-Risala · June 2014

دہشت گردی کا مسئلہ

Al-Risala, June 2014, pp. 43–45

By Maulana Wahiduddin Khan

دہشت گردی (terrorism) کیا ہے۔ دہشت گردی اور جنگ (war) کے درمیان بہت اس لیے دہشت گردی کی ایسی تعریف کرنا ضروری ہے جس میں دہشت گردی کو جنگ سے الگ کیا جاسکے۔ دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ جنگ باقاعدہ طور پر قائم شدہ حکومت کی طرف سے کی جانے والی کارروائی کا نام ہے، اور دہشت گردی اُس مسلح کارروائی کو کہا جاتا ہے جو غیر ریاستی افراد(non-state actors) کے ذریعے انجام دی گئی ہو۔ ریاست کی طرف سے کیا جانے والا تشدد اپنے حق کا غلط استعمال ہے، اور غیر ریاستی تنظیم کی طرف سے کیا جانے والا تشدد ایک ایسا کام ہے جس کا سرے سے ان کو حق ہی نہیں۔

اس تعریف (definition) کے مطابق، دہشت گردی اسلام میں سراسر ناجائز ہے۔ کہ اسلام کا اصول یہ ہے کہ: الرحیل للامام ( جنگ کا اعلان صرف حاکم وقت کا ایک خصوصی حق غیر ریاستی افراد اگر کسی فرد یا کسی ادارے سے شکایت ہے تو اُن کے لیے صرف ایک ہی آپشن (option) ہے، یہ کہ وہ پُرامن انداز کے پابند رہتے ہوئے اپنے نقطہ نظر کا اظہار کریں۔ افراد کو کسی بھی عذر (excuse) کی بنا پر مسلح کارروائی کی اجازت نہیں۔ غیر ریاستی افراد یا ادارہ اگر کسی معاملے میں مسلح کارروائی کا طریقہ اختیار کریں تو اسی کا نام دہشت گردی ہے۔ غیر ریاستی افراد اگر اپنی مسلح کارروائی کو جہاد کا نام دیں تو جہاد کا نام دینے سے اُن کا عمل جہاد نہیں بن جائے گا، اِس کے باوجود وہ فساد قرار پائے گا۔ اللہ کی نظر میں ایسے لوگ مفسد قرار پائیں گے، نہ کہ مصلح۔ ایک قائم شدہ حکومت اسلام کے مطابق، نیز عالمی طور پر تسلیم شدہ اصول کے مطابق، جنگ کرنے کا حق رکھتی ہے۔ لیکن یہ حق ایک لازمی شرط کے ساتھ مشروط ہے، وہ یہ کہ یہ جنگ صرف دفاع (defence) کے لیے ہونا چاہیے، یعنی اُس وقت جب کہ ایک ملک دوسرے ملک کے اوپر جارحیت اِس قسم کی جارحیت کے خلاف جنگ کرنا ہر حکومت کا حق ہے، بشرطیکہ یہ ثابت ہو جائے کہ

جارج ملک نے بالقصد جارحانہ کارروائی کا معاملہ کیا ہے۔

اسلام کے مطابق ظلم یا دشمنی کے حوالے سے ایک قائم شدہ حکومت بھی کسی کے خلاف جنگ نہیں چھیڑ سکتی۔ اگر کسی حکومت کو یہ شکایت ہو کہ اس کے خلاف کسی کی طرف سے دشمنی کا عمل کیا جارہا ہے، تب بھی اس کو پرامن حدود میں رہ کر اپنی جوابی تدبیر کرنا چاہیے۔ ظلم یا دشمنی کا حوالہ کسی حکومت کو یہ جواز فراہم نہیں کرتا کہ وہ اس کے خلاف مسلح کارروائی شروع کر دے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (34 :41) یعنی بھلائی اور برائی دونوں یکساں نہیں ہیں۔ تم برائی کو اُس چیز سے دفع کرو جو زیادہ ہرتر ہے، تو تم دیکھو گے کہ وہی شخص جس کے اور تمھارے درمیان عداوت ہے، گویا وہ ایک سرگرم دوست بن گیا ہے۔

قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دشمنی اور دوستی دونوں اضافی الفاظ ہیں۔ خالق نے ہر انسان کو فطرتِ سلیم پر پیدا کیا ہے۔ بظاہر اگر کوئی شخص ظلم یا دشمنی کرتا ہوا نظر آئے تو اس کو بھی بالقوۃ دوست (potential friend) کے روپ میں دیکھنا چاہیے۔ اپنی طرف مثبت روش کے ذریعے یہ کوشش کرنا چاہیے کہ بالقوۃ دوست آپ کا بالفعل دوست (actual friend) بن جائے۔ قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: الصلح خير (4:128) یعنی مصالحت کا طریقہ بہترین طریقہ ہے۔ اسی طرح حدیث رسول میں آیا ہے کہ: إن الله يعطي على الرفق، مالا يعطي على العنف (صحیح مسلم، رقم الحديث: 2593) یعنی اللہ نرمی پر وہ دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔

’صلح‘ اور ’رفق‘ کو ایک لفظ میں امن (peace) کہہ سکتے ہیں۔ اسلام میں امن پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ بہ حال میں امن کا طریقہ اختیار کرو، خواہ امن قائم کرنے کے لیے تم کو یک طرفہ صبر کا طریقہ اختیار کرنا پڑے ۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں صلح حدیبیہ اسی قسم کی تدبیر امن کی ایک واضح مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسلام میں امن کو اتنی زیادہ اہمیت

کہا کہ یہ صحیح ہوگا کہ اس کے بارے میں کچھ جاح کیوں دی گئی ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام میں امن کی حیثیت سماجی اعتبار سے، خیر اعلیٰ (summom bonum) کی ہے۔

اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی کام کو انجام دینے کے لیے امن کی ضرورت ہوتی ہے، حتی کہ پر امن حالات کے بغیر نماز اور روزہ جیسی چیزیں بھی حسن و خوبی کے ساتھ انجام نہیں دی جاسکتیں۔ دعوت اور اصلاح، اسلام کا اہم فریضہ ہے، مگر دعوت اور اصلاح کا کام مؤثر طور پر صرف اُس وقت انجام پاسکتا ہے، جب کہ حالات معتدل ہوں اور فریقین کے درمیان پر امن فضا پائی جاتی ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ قانونِ فطرت کے مطابق، جنگ سرے سے کوئی آپشن نہیں۔ ذریعے کوئی مثبت نتیجہ حاصل کرنا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ پہلی عالمی جنگ (world war) اور دوسری عالمی جنگ، دونوں تاریخ کی عظیم ترین جنگیں تھیں، مگر دونوں جنگیں صرف عالمی تباہی پر ختم ان جنگوں سے کسی بھی فریق کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلح تصادم (armed conflict) ہر حال میں بربادی کا ذریعہ ہے۔ خواہ یہ مسلح تصادم ریاست کے ذریعے انجام پایا ہو یا کسی غیر ریاستی تنظیم (NGO) کے ذریعے ۔ کشن گنج (بہار) میں مولانا الیاس مطبوعات، اللاحلاح منج (بہار) ماہ نامہ الرسالہ اور مطبوعاتِ الرسالة حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں: CPG Messege Forum At+P.O. Bahadurganj, Main Road, Dist. Kishanganj. Pin-855101, Bhihar Mob. 9470272115, 9430900563 اسلامی ممکنه کونو ابل کٹابی ( نوع ۶۰۰۷ ، که روان ری ۔ ، خلوۃ، حصہ) کہ کتابوں میں نایاب ہیں ۔ حد یہ ہے کہ اس کا پہلا حصہ بھی شائع ہوگئی ہیں ۔ ملنے کا پتہ حسب ذیل ہے :

Printed page