جنت کی دنیا
Al-Risala, January 2014
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت کیا ہے، قرآن کے مطابق، جنت وہ وسیع دنیا ہے جس کا کیمپس پوری کائنات کے برابر جنت وہ معیاری جگہ ہے جہاں تمام محدودیتیں (limitations) اور نامواقف اسباب (disadvantages) ختم ہو جائیں گے۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں انسان اس قابل ہوگا کہ وہ زمان ومکاں سے ماورا چیزوں کا احاطہ کر سکے۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں انسان براہ راست طور پر اللہ رب العالمین کو دیکھے گا اور اس سے کلام کرے گا۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں انسان کی نگاہ پوری انسانی تاریخ کا احاطہ کر سکے گی۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں پوری تاریخ کے تمام منتخب بندے یکجا کیے جائیں گے۔ وہ جگہ ہے جہاں انسان کے لیے ممکن ہوگا کہ وہ اعلی معیاری مناظر کا مشاہدہ کرے، وہ اعلی معیاری نغموں کو سنے، وہ اعلی معیاری ذائقوں کا ٹیسٹ لے سکے۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں انسان کا لامحدود دماغ انفولڈ (unfold) ہوگا۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں آلاء اللہ اور کلمات اللہ کو قلم بند کیا جائے گا۔ جگہ ہے جہاں انسان کو کامل معنوں میں فل فل مینٹ لے گا۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں انسان کو اللہ کی قربت حاصل ہوگی۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں ہر قسم کی اعلی سرگرمیاں موجود ہوں گی، لیکن یہ تمام سرگرمیاں معیاری معنوں میں پر مسرت سرگرمیاں (joyful activities) ہوں گی، وغیرہ۔ اس طرح کی معیاری دنیا (perfect world) میں قیام کے لیے اعلیٰ ترین سطح کے تیار افراد صرف اعلی سطح کی تیار شدہ شخصیت ہی اس قابل ہے کہ اس کو جنت جیسی دنیا میں جگہ ملے۔ موجودہ دنیا اِسی قسم کی اعلیٰ شخصیتوں کے بننے کا مقام ہے۔ اس قسم کی اعلی شخصیت کسی کو پیدائشی طور پر یہ ہر انسان کا اپنا کام ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنے آپ کو باشعور بنائے اور پھر پورے اہتمام کے ساتھ وہ اپنے اندر اس قسم کے انسان کی تشکیل کرے۔
مذکورہ قسم کی جنتی شخصیت بلاشبہ صرف ایک صاحب ایمان کے اندر بنتی ہے، مگر صاحب ایمان سے مراد وہ شخص ہے جس کو معرفت کے درجے میں ایمان حاصل ہو، وہ اپنے اندر اتنا زیادہ تخلیقی فکر
پیدا کرے کہ وہ خود دریافت کردہ معرفت(self-discovered realization) پر کھڑا ہو سکے۔ اس کے اندر وہ آفاقی ذہن پایا جائے جو ساری کائنات کو اپنے ربانی رزق کا دسترخوان بنا سکے، جس کی مثبت سوچ(positive thinking) اتنی بڑی ہوئی ہو کہ وہ منفی آئٹم(negative item) کو بھی مثبت آئٹم(positive item) میں تبدیل کر سکے۔ اس کا عبادتی شعور اتنا ترقی یافتہ ہو کہ وہ اس طرح اللہ کی عبادت کرے، جیسے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔
انسان کی تخلیق کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: اَلَّذِيۡ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (67:2)۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق، موجودہ دنیا میں انسان کو اس لیے بسایا گیا ہے کہ یہاں احسن العمل افراد کا انتخاب کیا جاسکے- یہ عمل پوری انسانی تاریخ میں جاری خدائی نظام کے تحت اس دنیا میں ہر فرد کا مکمل ریکارڈ تیار کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ کیوں کہ آزادی کے ماحول ہی میں معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کون شخص احسن العمل تھا اور کون شخص احسن العمل نہ تھا۔ قدیم زمانے میں مذہبی جبر کا جو نظام قائم تھا، وہ اس میں رکاوٹ تھا کہ کوئی فرد آزادانہ طور پر اپنی شخصیت کی مثبت تعمیر کرے اور اپنے آپ کو احسن العمل بنائے۔ یہ نظام، اللہ کے تخلیقی منصوبے کے خلاف تھا۔ اس لیے قرآن میں اس کو فتنه کہا گیا ہے اور اہلِ ایمان کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ اللہ کی خصوصی مدد کے ذریعے اس ناموافق نظام کو توڑ دیں، تاکہ ہر انسان کو یہ موقع مل جائے کہ وہ اگر چاہے تو اپنے آپ کو احسن العمل کی حیثیت سے تیار کرے ۔ (13 ستمبر 2013)