قومی فخر نہیں
Al-Risala, July 2014, pp. 13–17
By Maulana Wahiduddin Khan
دور اول میں جو لوگ اسلام میں داخل ہوئے، اُن کے لیے اسلام ایک ذاتی دریافت وہ خوفِ خدا اور فکرِ آخرت میں جینے والے لوگ تھے۔ تقریباً سوسال کے بعد مسلمانوں کی یہ پہلی نسل ختم ہوگئی۔ اس کے بعد نسلی مسلمانوں کا دور آیا۔
اس دور کے لوگوں نے جس ماحول میں آنکھ کھولی، اُس میں اہل اسلام کو سیاسی دبدبہ حاصل ہو چکا پہلے دور میں اگر اسلام دریافتِ خداوندی کے ہم معنی تھا تو دوسرے دور میں اسلام ایک پولیٹیکل ایمپائر کے ہم معنی بن چکا تھا۔ یہ دوسرا دور قریب ایک ہزار سال تک جاری رہا۔ اس ہزار سال کے اندر مسلم فکر کا جو ارتقا ہوا، وہ خلافت کے نام پر سیاسی عظمت (political glory) پر مبنی تھا۔ کے تمام ادارے، مسلم نسلوں کو فخر اور عظمت کا سبق دینے لگے۔ وہ دوسروں کے مقابلے میں اپنے آپ کو برتر سمجھنے لگے۔ بعد کی مسلم نسلوں میں ، شعوری یا غیر شعوری طور پر، یہ ذہن بن گیا کہ ہم ہر اعتبار سے دوسری قوموں سے افضل ہیں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
مگر اٹھارھویں صدی عیسوی میں ایک نیا انقلاب آیا۔ قانونِ فطرت کے تحت، اب مسلم ایمپائر مسلمان زندگی کے ہر میدان میں دوسروں سے پیچھے جانے لگے۔ اب مغربی قوموں نے سیاسی اور تہذیبی برتری کا درجہ حاصل کر لیا۔ اچانک مسلمانوں کے ساتھ یہ فکری حادثہ پیش آیا کہ جس دنیا میں وہ دوسروں کے مقابلے میں برتری کے احساس میں جی رہے تھے، وہاں وہ مجبور ہو گئے کہ دوسروں کے مقابلے میں کم تری کے احساس میں زندگی گزاریں۔ بیسویں صدی عیسوی کے نصف اول میں یہ صورتِ حال پوری طرح واضح ہوگئی۔ اُس وقت مسلم دنیا میں بڑی تعداد میں مصلحین (reformers) پیدا ہوئے، مگر اس نئے مرحلے میں ہمارے رہنماؤں سے یہ بھیانک غلطی ہوئی کہ وہ ردِ عمل کی نفسیات کے میرے علم کے مطابق، اس دور کا کوئی ایک بھی مسلم رہنما ایسا نہیں ہے جو ردِ عمل کی نفسیات سے اوپر اُٹھ کر معاملے کو سمجھے اور خالص مثبت انداز میں مسلمانوں کو فکری رہنمائی دے۔
حقیقت یہ ہے کہ تبدیلیٔ اقتدار کا یہ معاملہ، فطرت کے ایک قانون (3:140) کے تحت ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں غلبہ واقتدار بھی، دوسری دُنیوی چیزوں کی طرح، امتحان کا ایک پرچہ (test paper) ہے۔ اقتدار کے اوپر کسی ایک قوم کی اجارہ داری (monopoly) نہیں ہو سکتی، وہ کبھی ایک قوم کے پاس رہے گا اور کبھی دوسری قوم کے پاس۔ فطرت کا یہی قانون تھا جس کا نفاذ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اوپر ہوا۔
ایسے وقت میں مسلم رہنماؤں کو صرف ایک کام کرنا تھا، وہ یہ کہ وہ مسلمانوں کے اندر خود احتسابی (introspection) کا مزاج پیدا کریں۔ وہ مسلمانوں کو اصلاح اور تعمیر اور استحکام کے داخلی کاموں میں لگائیں۔ وہ مسلمانوں کو جدید تعلیم میں زیادہ سے زیادہ آگے بڑھائیں۔ وہ مسلمانوں کو جدید سائنس اور جدید صنعت اور تجارت کے میدان میں ترقی کرنے کا سبق دیں۔ وہ مسلمانوں کو یہ بتائیں کہ سیاسی اقتدار کے باہر سیکڑوں قیمتی مواقع (opportunities) ہیں جو اُن کے لیے پوری طرح کھلے ہوئے ہیں، اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ سیاسی ٹکراؤ کا راستہ چھوڑ کر پُرا من تعمیر کا طریقہ وہ ماضی کو بھُلا کر مستقبل کی نئی تعمیر کو اپنا نشانہ بنائیں۔ اِس دور کے مسلم رہنماؤں کے لیے ضروری تھا کہ وہ مسلمانوں کو تعمیری رہنمائی دیں، یعنی پُرا من طور پر داخلی تعمیر واستحکام کا راستہ بتانا۔ مگر ہر ایک نے مسئلے کو صرف ایک خارجی مسئلہ سمجھا۔ ہر ایک نے مسلمانوں سے کہا کہ دوسرے لوگ ظالم اور غاصب ہیں تم اُن سے لڑ کر اپنے لیے زندگی کا حق حاصل کرو، یعنی انھوں نے تعمیری رہنمائی کے بجائے عسکری رہنمائی دی۔ اس معاملے میں عرب لوگوں کو اپنے موجودہ مزاج کے تحت صرف ایک ماڈل نظر آیا، اور وہ صلاح الدین ایوبی (وفات: 1193) کا ماڈل تھا۔ عرب ذہن کی نمائندگی کرتے ہوئے عرب شاعر الزرکلی نے کہا:
ہاتِ صلاح الدین، ثانیةً فینا جددی حطّین، أو شبه حطّینا صلاح الدین کو دوبارہ ہمارے پاس لاؤ، اور حطین کا معرکہ یا حطین جیسا معرکہ دوبارہ گرم کرو۔ امیر شکیب ارسلان (وفات: 1946) نے اپنی مشہور کتاب : لماذا تأخر المسلمون
وتّقدّم غیرهم (1938) میں مسلماںوں کو دوبارہ عسکری معرکہ آرائی پر ابھارا ہے اور عسکری اقدام کو کامیابی کا راز بتایا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے حسب ذیل شعر نقل کیا ہے:
تأخّرتُ أستبقى الحياة، فلم أجد لنفسى حیاۃً، مثل أن أتّقدّما میں زندہ رہنے کے لیے (میدانِ جنگ) سے پیچھے رہا، لیکن میں نے اپنے لیے کوئی زندگی نہ پائی۔ زندگی تو صرف آگے بڑھنے والوں کے لیے ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بعض غیر مسلم مصنفین نے دورِ جدید کے مسلم ذہن کی جو تصویر پیش کی ہے، وہ عسکریت (militancy) کی تصویر ہے۔ اس سلسلے میں رام موہن گاندھی نے اقبال کا یہ مصرعہ نقل کیا ہے: ہر مسلمان رگِ باطل کے لیے نشتر تھا اس مصرعے کا انگریزی ترجمہ انھوں نے حسب ذیل الفاظ میں کیا ہے:
For every vein of falsehood, every Muslim was a knife. اس دور کے تمام مسلم رہنما ردّ عمل کی نفسیات کا شکار ہو گئے تھے، اس لیے وہ صرف منفی رُخ پر انھوں نے انتہائی غیر دانش مندانہ طور پر یہ کیا کہ غیر مسلم قوموں کو اسلام دشمن قرار دے کر، مسلمانوں کو اُن سے متنفر کر دیا۔ مسلمان اس قابل نہ رہے کہ وہ نئی ابھرتی ہوئی قوموں کے بارے میں مثبت رائے قائم کریں، وہ اُن سے نئی حقیقتوں کو سیکھیں۔
اس نئی صورت حال کے پیش آنے کے بعد، اصل ضرورت یہ تھی کہ مسلمانوں کو بتایا جائے کہ غیر مسلم اقوام کا کیس اُن کے خلاف دشمنی کا کیس نہیں، بلکہ وہ اُن کے لیے چیلنج کا کیس ہے۔ عمومی قانون کے تحت، ان قوموں نے مسلمانوں کو چیلنج دیا ہے، اور اب مسلمانوں کا کام یہ ہے کہ وہ مثبت ذہن کے ساتھ اس کا سامنا کریں۔ وہ پورے معاملے پر نظر ثانی کر کے نئی منصوبہ بندی کے تحت دنیا میں دوبارہ اپنا مقام بنائیں۔ یہی مسلمانوں کی صحیح رہنمائی تھی، مگر منفی نفسیات میں مبتلا رہنما مسلمانوں کو یہ صحت مند رہنمائی دے سکے اور پوری مسلم دنیا منفی سوچ اور غصہ اور نفرت میں مبتلا ہو کر رہ گئی۔ بیسویں صدی کے نصفِ اوّل میں پوری مسلم دنیا میں بڑی تعداد میں مسلم رہنما پیدا ہوئے، مگر
ان تمام مسلم رہنماؤں کا کیس مشترک طور پر وہی تھا جو اوپر بیان ہوا۔ عرب دنیا میں اس زمانے میں سید جمال الدین افغانی، سید قطب، امیر شکیب ارسلان، وغیرہ نے یہی کام کیا۔ میرے علم کے مطابق، رہنماؤں کی لمبی فہرست میں کوئی بھی اس معاملے میں استثنا (exception) کی مثال نہیں۔ یہ منفی رہنمائی مسلمانوں کو جہاد کے نام پر تشدد تک لے گئی، اور جب مسلمان دوسروں کو ہلاک کرنے پر قادر نہ ہو سکے تو انھوں نے خود کش بم باری (suicide bombing) کے ذریعے خود اپنے آپ کو ہلاک کرنا شروع کر دیا۔
اس صورت حال کا ایک انوکھا ظاہر وہ ہے جس کو میں نظریاتی خود فریبی سے تعبیر کروں گا۔ موجودہ زمانے میں آپ کو بہت سے مسلمان ملیں گے جو یہ کہیں گے کہ ہم کو سید قطب کی تحریروں اور ابوالاعلیٰ مودودی کی کتابوں اور احمد دیدات کے کیسٹس کے ذریعے نیا ایمان حاصل ہوا ہے۔ حضرات کے افکار سے ہم کو دوبارہ اسلام ملا ہے، ورنہ ہم اسلام سے دور چلے گیے تھے۔ میں نے ان حضرات کے کیس پر بہت غور کیا۔ میرے نزدیک یہ مسلم رہنما منفی خوراک دیتے ہیں، نہ کہ مثبت خوراک۔ پھر کیسے ایسا ہوا کہ اُن کی باتوں سے کچھ لوگوں کو مثبت اسلام مل گیا۔ کے بہت سے لوگوں سے میری ملاقاتیں ہوئیں۔ گہرے جائزے کے بعد آخری طور پر جو بات میری سمجھ میں آئی، وہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو جو چیز ملی ہے، وہ قومی اسلام ہے نہ کہ حقیقی اسلام۔ میں بہت سے مسلمان، خاص طور پر مسلم نوجوان، اس احساس میں جی رہے تھے کہ دوسری قوموں نے اُن کا قومی فخر اُن سے چھین لیا ہے۔ مسلح جہاد کے باوجود وہ اپنے اس قومی فخر کو دوبارہ حاصل نہ کر سکے۔ اس دوران میں یہ ہوا کہ کچھ ایسے لوگ نکلے جو الفاظ کی دنیا میں ان کے جذبات فخر کی تسکین فراہم کر رہے تھے۔ کسی نے بتایا کہ مغرب کی سائنسی ترقی مسلم دماغوں کی خوشہ چینی کے ذریعے ہوئی کسی نے مسلمانوں کی سیاسی فتوحات پر کتابیں لکھ کر اُن کو ماضی کی عظمت دوبارہ یاد دلائی۔ بتایا کہ اسلام کا نظام دنیا کے تمام نظاموں سے زیادہ اعلیٰ اور برتر (superior) ہے۔ کسی نے بتایا کہ مغربی تہذیب ایک ایسا درخت ہے جو صرف زہریلے پھل دے سکتا ہے۔ کسی نے بتایا کہ مغربی
تہذیب اپنی موت آپ مررہی ہے، تاکہ مسلمانوں کو دوبارہ ان کا بلند مقام حاصل ہوجائے۔ بتایا کہ دنیا کا اسٹیج مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کا انتظار کر رہا ہے: اُٹھ، کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے موجودہ زمانے میں شاعروں اور خطیبوں اور انشا پردازوں کے علاوہ، ایک اور طبقہ پیدا ہوا جسے کو مسلم ڈیبیٹر (مناظر) کہا جاسکتا ہے۔ انھوں نے شان دار اسٹیج بنائے اور وہاں پر جوش تقریریں انھوں نے ٹی وی کے اسکرین پر مناظرانہ مظاہرے کیے۔ انھوں نے مسلم نفسیات کو یہ کہہ کر فرضی فتوحات کی خوراک دی کہ— ان سب کو بل ڈوز کردو: