Al-Risala · July 2014

Bulldoze them all.

Al-Risala, July 2014, pp. 17–19

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ مسلم ڈیبیٹر اس آخری حد تک گیے کہ جب مسلمانوں کو ٹررسٹ (terrorist) کہا گیا تو انھوں نے کہا کہ ہاں، ہم ٹررسٹ ہیں۔ مگر ہم پولس کی طرح مجرمین کے لیے ٹررسٹ ہیں: Every Muslim should be a terrorist. A terrorist is a person who causes terror. The moment a robber sees a policeman, he is terrified. A policeman is a terrorist for the robber. Similarly, every Muslim should be a terrorist for the anti-social elements of society, such as thieves, dacoits and rapists. جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم کو قطب اور اقبال اور مودودی اور احمد دیدات کے ذریعے اسلام ملا، وہ دراصل ایک شدید قسم کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ وہ قومی اسلام کوربانی اسلام کا درجہ دے رہے ہیں۔ کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ صرف یہ تھا کہ انھوں نے ان حضرات کے ذریعے اپنے قومی فخر کو دوبارہ حاصل کر لیا، مگر غلط فہمی کی بنا پر انھوں نے یہ سمجھ لیا کہ اُن کو حقیقی اسلام حاصل ہو گیا ہے۔ اسی قسم کے ایک مسلمان سے 2007 میں میری ملاقات دہلی میں ہوئی۔ اُن کے والدین شام سے تعلق رکھتے تھے۔ پھر وہ شام کو چھوڑ کر ترکی گئے۔ پھر ترکی سے وہ آسٹریلیا منتقل ہو گیے۔ یہ فیملی آسٹریلیا میں رہ رہی ہے۔ مسٹر مراد کی تعلیم آسٹریلیا کے اسکول اور کالج میں ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ یہ اسکول ایک کرسچن اسکول تھا۔ وہاں انھیں بتایا جاتا تھا کہ عیسائیت (Christianity) زیادہ اچھا

مذہب ہے، اور اسلام اُس کے مقابلے میں کم تر مذہب ہے۔

وہ اسلام کی اِس منفی تصویر سے سخت پریشان تھے۔ پھر انھیں احمد دیدات جیسے لوگوں کو سننے کا اِس سے اُن کے ذہن میں اسلام کی عظمت (glory) دور بارہ لوٹ آئی۔ وہ اسلام کو اپنے لیے فخر کی ایک چیز سمجھنے لگے۔ پھر اسی مجلس میں انھوں نے بتایا کہ میں تاج محل دیکھنے کے لیے آگرہ گیا مجھے تاج محل دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ میں نے سوچا کہ تاج محل کو بنانے والے مسلمان تھے، مگر آج ہندو لوگ اُس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

میں نے کہا کہ آپ کی اِس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو احمد دیدات جیسے لوگوں کے ذریعے جو اسلام ملا ہے، وہ اسلام نہیں ہے، بلکہ صرف قومی فخر ہے۔ اگر آپ کو حقیقی اسلام ملا ہوتا تو آپ تاج محل کے بارے میں اِس قسم کی منفی بات نہ کہتے۔ پھر میں نے کہا کہ آپ کو انڈیا میں صرف تاج محل انڈیا میں اِس کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ بڑی چیز موجود ہے، اور وہ دعوتی عمل کی تاج محل کو لے کر آپ کا ذہن منفی سوچ کا شکار ہو گیا، حالاں کہ اگر آپ انڈیا میں موجود دعوتی مواقع کو لے کر سوچتے تو آپ کا دل شکر کے جذبات سے بھر جاتا۔

میرے تجربے کے مطابق، یہی اُن تمام لوگوں کا معاملہ ہے جو شاعروں اور مناظروں کی باتوں کو سُن کر یہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے اسلام کو پالیا ہے، حالاں کہ واقعہ یہ ہے کہ جس چیز کو انھوں نے دریافت کیا ہے، وہ اسلام کے نام پر محض فخر (pride) ہے۔ اور فخر صرف ایک مذموم چیز ہے، نہ کہ کوئی پسندیدہ چیز کسی آدمی نے حقیقی اسلام کو پایا ہے یا نہیں، اِس کا معیار صرف ایک ہے، اور وہ فکر آخرت جس آدمی کا اسلام اُس کے اندر گہرے طور پر آخرت کی فکر پیدا کر دے، اُسی نے فی الحقیقت اسلام کو پایا۔ جس آدمی کا اسلام اُس کو جہنم کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کو نہ دکھائے، اُس نے اسلام کو پایا اُس نے کسی اور چیز کو پایا ہے اور غلطی سے وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ اُس نے اسلام کو پالیا ہے۔ اسلام کا آغاز، خدا کی معرفت سے ہوتا ہے۔ خدا کی معرفت ایک بالا تر ہستی کی معرفت ہے جو انسان کا خالق ہے، جو انسان کا مالک ہے، جس نے انسان کو زندگی کے تمام سامان دیے

جب انسان خدا کو دریافت کرتا ہے تو اُسی کے ساتھ وہ یہ بھی دریافت کرتا ہے کہ انسان کے بارے میں خدا کا تخلیقی نقشہ (creation plan) کیا ہے۔ خدا کا یہ تخلیقی نقشہ اُس کو بتاتا ہے کہ دنیا میں جو سامانِ حیات اِس کو ملے ہوئے ہیں، وہ سب کے سب امتحان کے پرچے ہیں۔ یہ چیزیں اُس کو حق کے طور پر نہیں ملی ہیں، بلکہ وہ اس لیے ملی ہیں کہ اُن کے ذریعے انسان کو جانچ کر دیکھا جائے کہ وہ جہنم کی سزا کے قابل ہے، یا جنت کے انعام کے قابل۔

یہ دریافت اُس کو آخری حد تک تڑپا دیتی ہے۔ دنیا کی چیزوں کو استعمال کرتے ہوئے ہر وقت اُس کو قرآن کی یہ آیت یاد آتی ہے: ثم لتسئلن يومئذ عن النعيم (102:8) یعنی پھر یقیناً تم سے اُس دن نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا۔ پھر خدا کی معرفت اور جنت اور جہنم کا یقین اور مواخذہ آخرت (accountability) کا شدید احساس، اُس کو ایسا بنا دیتا ہے کہ اس دنیا میں میرا کوئی حق (right) نہیں، یہاں میری صرف ذمے داریاں ہی ذمے داریاں ہیں۔ یہ احساس اُس کو آخری حد تک فرض شناس (duty conscious) بنا دیتا ہے۔ اندر ایک ایسا ذہن بنتا ہے جس میں دوسروں کے خلاف نفرت اور شکایت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ وہ صرف اپنی ذمے داریوں کو سوچتا ہے، نہ کہ دوسروں کی کوتاہیوں کو۔ اُس کی نظر ہمیشہ اپنی غلطیوں پر ہوتی ہے، نہ کہ دوسروں کی زیادتیوں پر۔ اُس کا دل دوسروں کے لیے ہمدردی اور خیر خواہی کے جذبات سے بھر جاتا ہے۔

’’پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کا جیون‘‘ ’’سیرتِ رسول‘‘ کا ہندی ترجمہ یہ کتاب سیرتِ رسول کا ایک سادہ اور واقعی مطالعہ ہے۔ پیغمبرِ اسلام کی زندگی کی ایک تاریخی تصویر ہے۔ زیرِ نظر کتاب معلوماتی اسلوب میں سیرتِ رسول کا ایک تفصیلی تعارف ہے۔

Printed page