Al-Risala · July 2014

تعمیرِ خویش کا طریقہ

Al-Risala, July 2014, pp. 20–21

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ آل عمران میں ایک اصول ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إن تصبروا وتتقوا لا يضركم كيدهم شيئاً (3:120) یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو تو دوسروں کی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی۔

قرآن کی یہ آیت فطرت کے ایک قانون کو بتاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں سازش کا ہونا، اصل مسئلہ نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ صبر اور تقویٰ کا نہ ہونا ہے۔ جن لوگوں کے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت موجود ہو، اُن کے لیے دوسروں کی سازش اور دشمنی غیر مؤثر ہو کر رہ جائے گی، وہ اُن کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گی۔

صبر کوئی انفعالی صفت نہیں۔ صبر کا مطلب وہ اعلیٰ انسانی صفت ہے جس کو سیلف کنٹرول (self control) کہا جاتا ہے، یعنی دوسروں کے پیدا کردہ مسائل سے اوپر اٹھ کر سوچنا اور خود اپنی مثبت سوچ کے تحت اپنی زندگی کا منصوبہ بنانا۔ تقویٰ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی سوچ خود رُخی سوچ (self-oriented thinking) نہ ہو، بلکہ وہ خدا رُخی سوچ (God-oriented thinking) سماج کے اندر اس کا سلوک خدا کی تعلیمات کے مطابق ہو، نہ کہ اپنی خواہشات اور جذبات کے جو لوگ صبر اور تقویٰ کی اس روش کو اختیار کریں، اُن کے خلاف دوسروں کی منفی کارروائیاں اپنے آپ بے اثر ہو جائیں گی۔ کیوں کہ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ کوئی بھی غیر مطلوب واقعہ ہمیشہ دوطرفہ کارروائی کے نتیجے میں پیش آتا ہے، نہ کہ صرف یک طرفہ کارروائی کے نتیجے میں۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے کہ کوئی شخص یا گروہ معتدل ذہن کے تحت کسی کے خلاف کوئی مخالفانہ کارروائی نہیں کرتا۔ ایک شخص یا گروہ کسی دوسرے کے خلاف کوئی منفی کارروائی صرف اُس وقت کرتا ہے، جب کہ اُس کو بھڑکا دیا گیا ہو۔ منفی کارروائی کسی اشتعال انگیز کارروائی کے نتیجے میں جوابی طور پر پیش آتی ہے۔ صبر اور تقویٰ آدمی کو اس سے روکتا ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص یا گروہ کے خلاف

مشتعل انگیز کارروائی کرے۔ یہی وجہ ہے کہ صبر اور تقویٰ کسی شخص یا گروہ کے لیے حفاظت کا یقینی ایسا شخص یا گروہ کسی بھی حال میں دوسرے کو اشتعال کرنے والا کام نہیں کرے گا، اس لیے فطری طور پر وہ دوسرے کی طرف سے پیش آنے والی جوابی کارروائی سے بھی محفوظ رہے گا۔ یہ فطرت کا قانون ہے جس کو خود خالق فطرت نے مقرر کیا ہے۔ ایسی حالت میں سازش کے خلاف چیخ و پکار کرنا ایک بے فائدہ کام ہے۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ خود اپنے آپ کو داخلی طور پر مستحکم بنایا جائے، خود اپنے اندر زیادہ سے زیادہ صبر اور تقویٰ کی اسپرٹ پیدا کی جائے۔ اس کے بعد شکایت کے اسباب اس طرح ختم ہو جائیں گے، جیسے کہ وہ تھے ہی نہیں۔ خدا کے تخلیقی پلان (creation plan) کے مطابق، زندگی میں ہمیشہ دو مختلف قسم کی چیزیں موجود رہتی ہیں مسائل (problems) اور مواقع (opportunities)۔ جس طرح زندگی میں ہمیشہ مسائل موجود رہتے ہیں، اسی طرح زندگی میں ہمیشہ مواقع بھی موجود رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں دانش مندی کا طریقہ، اسلام کے مطابق، یہ ہے کہ مسائل کو نظر انداز کیا جائے اور مواقع کو استعمال مسائل سے الجھنا، صرف اُس وقت کو ضائع کرنا ہے جو اس دنیا میں ہم کو زندگی کی مثبت تعمیر کے لیے ملا ہوا ہے۔ یہی دانش مندی ہے اور یہی اسلام کا طریقہ بھی۔ مولانا وحید الدین خاں کی پہلی کتاب ” نئے عہد کے دروازہ پر “ نئی دہلی کے نشریاتی ادارہ رہبر بک سروس سے شائع ہوگئی ہے۔ نئے عہد کے دروازہ پر حاصل کرنے کا پتہ یہ ہے:

Rahbar Book Service Printer, Publisher & Deistributor Post Box No: 9736, Jamia Nagar New Delhi-110025, Mob. 09810862382 اس کتاب کو گولڈ ورڈ بکس سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

Printed page