Al-Risala · July 2014

مسلمان کی اصل حیثیت

Al-Risala, July 2014, pp. 24–25

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنی اصل حیثیت کے اعتبار سے، مسلمان داعی ہیں اور دوسری تمام اقوام اُن کی مدعو، یعنی مسلمان خدا کے امین ہیں اور اُن کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اس امانت کو تمام انسانوں تک پہنچائیں۔ اسی فرض کی ادائیگی میں اُن کی کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ایک انتہائی نازک خدائی ذمے داری کا معاملہ ہے۔ اس ذمے داری کو صرف اُس وقت ادا کر سکتے ہیں، جب کہ وہ اس ذمے داری کے تقاضوں کو سمجھیں اور اُس کو اپنی زندگی میں بھر پور طور پر استعمال کریں۔ داعی کی ذمے داری صرف داعیانہ کردار کے ساتھ ادا کی جاسکتی ہے، داعیانہ کردار کے بغیر دعوتی ذمے داری کو ادا کرنا اُسی طرح ناممکن ہے جس طرح کسی عورت کے لیے مادرانہ شفقت کے بغیر ماں کی ذمے داری کو ادا کرنا۔

قرآن کے الفاظ میں، دعوت کا آغاز نصح (7:68) سے ہوتا ہے، یعنی مدعو کے لیے یک طرفہ دعوتی اخلاق کا تقاضا ہے کہ داعی کے دل میں اپنے مدعو کے لیے صرف مثبت جذبات ہوں، منفی جذبات سے اُس کا دل مکمل طور پر خالی رہے۔ اسی کا نام یک طرفہ خیر خواہی ہے۔ اس قسم کی یک طرفہ خیر خواہی کے بغیر داعی اپنی داعیانہ ذمے داری کو ادا نہیں کر سکتا۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں ہمیشہ ایک شخص کو دوسرے شخص سے، اور ایک گروہ کو دوسرے گروہ سے ناخوش گوار تجربات ہوتے رہتے ہیں، ایک کی کوئی بات دوسرے کے لیے اشتعال انگیزی کا سبب بن جاتی ہے۔ یہ فطرت کا نظام ہے، اور فطرت کے نظام کو بدلنا ہر گز کسی کے لیے ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں، داعی کے اندر اپنے مدعو کے لیے یک طرفہ خیر خواہی کا جذبہ صرف اُس وقت برقرار رہ سکتا ہے، جب کہ وہ یک طرفہ اخلاقیات کے اصول پر قائم ہو۔ لوگوں کے ساتھ اُس کی روش دوسروں کے عمل کے زیر اثر نہ بنے، بلکہ وہ اُس کے اپنے سوچے سمجھے اصول کے تحت بنی ہو۔ وہ رد عمل کی نفسیات سے مکمل طور پر خالی ہو۔

مسلمان داعی گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس اعتبار سے، مسلمانوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ دوسری قوموں کے خلاف شکایت اور احتجاج کی تحریک چلائیں۔ داعیانہ شریعت میں، شکایت اور احتجاج کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ کیوں کہ مسلمان جس قوم کے خلاف شکایت اور احتجاج کی تحریک چلائیں گے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک مدعو قوم ہوگی۔

مسلمانوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی مدعو قوم کے ساتھ حریف قوم جیسا معاملہ کریں۔ مسلمانوں کو ہر حال میں اور ہر قوم کے ساتھ ہمیشہ معتدل تعلق کو برقرار رکھنا ہے۔ کیوں کہ معتدل تعلقات کے ماحول ہی میں دعوت الی اللہ کا کام ہو سکتا ہے۔ جہاں مسلم اور غیر مسلم کے درمیان معتدل تعلقات نہ ہوں، وہاں دعوت کا کام انجام دینا ممکن ہی نہیں۔

قرآن کی سورہ الاحزاب میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: دع أذاهم وتوكل على الله (33:48) یعنی اُن کی ایذاؤں کو نظر انداز کرو، اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان سے نہ مانگ کر اللہ سے مانگو، مطالباتی طریقہ چھوڑ کر دعا کا طریقہ اختیار کرو۔ اسی لیے ہر پیغمبر نے اپنی مدعو قوم سے کہا کہ: لا أسئلکم عليه مالا (11:11) یعنی میں تم سے کسی مادی فائدے کا طالب نہیں ہوں۔ میں صرف دینے والا ہوں، نہ کہ تم سے کوئی چیز لینے والا۔ سے معلوم ہوا کہ مدعو قوم کے مقابلے میں، حقوق (rights) کے نام پر مطالباتی مہم چلانا، پیغمبرانہ سنت کے مطابق، سرے سے جائزہی نہیں۔

جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہو گئی۔ مگر جو چیز ختم ہوئی، وہ نبوت ہے، نہ کہ کار نبوت۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اب کوئی نیا پیغمبر آنے والا نہیں۔ لیکن جہاں تک پیغمبر کے دعوتی مشن کی بات ہے، وہ ہمیشہ اور ہر قوم کے درمیان جاری رہے گا۔ پیغمبر کے دعوتی مشن میں، بقدر استطاعت، اپنا حصہ ادا کرے ۔ یہ دعوتی عمل ہر فرد مسلم کے لیے فرض کی حیثیت جولوگ اس فرض کو ادا نہ کریں، اُن کے لیے سخت اندیشہ ہے کہ خدا کے نزدیک ، وہ پیغمبر کے امتی ہونے کا حق اپنے لیے کھودیں۔

Printed page