اسلام اکیسویں صدی میں
Al-Risala, January 2014
By Maulana Wahiduddin Khan
اکیسویں صدی غالباً تہذیبی ارتقا کا نقطہ انتہا (culmination) ہے۔ مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے اب غالباً اپنے آخری مرحلے میں پہنچ چکی ہے۔ بظاہر حالات اب تہذیب کے سفر کا کوئی مزید مرحلہ باقی نہیں۔
پیغمبرانہ مشن میں ارتقا (evolution) کا کوئی تصور نہیں۔ پیغمبرانہ مشن اپنی آئڈیالوجی کے اعتبار سے، ہمیشہ ایک ہی تھا اور آخر تک ایک ہی رہے گا، البتہ دعوتی طریق کار کے اعتبار سے، وہ ایک ارتقا پذیر واقعہ ہے۔ نئے حالات ہمیشہ نئے مواقع پیدا کرتے ہیں اور داعی کا کام یہ ہے کہ وہ ان نئے مواقع کو دریافت کرے اور اُن کو بھر پور طور پر دعوت الی اللہ کے کام میں استعمال کرے۔ اسلام کی تکمیل کے دو پہلو اسلام کی تکمیل کے دو پہلو ہیں— ایک، وہ جس کو قرآن میں دین کی تکمیل (5:3) کہا گیا قرآن کی مذکورہ آیت میں ”تکمیل“ سے مراد احکامِ دین کی فہرست کی تکمیل نہیں ہے اور نہ اُس سے یہ مراد ہے کہ کوئی ارتقائی ترتیب ہے اور 10 ہجری میں یہ ارتقائی ترتیب مکمل ہوگئی۔ اس سے مراد صرف آیاتِ قرآنی کے نزول کی تکمیل ہے۔ اس سے مراد عملاً وہی چیز ہے جس کو قرآن کی دوسری سورہ میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ (15:9)۔ تکمیل کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کا تعلق دین کی تکمیل سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق دعوت کی اشاعت اور توسیع سے ہے۔ اس دوسرے پہلو کا ذکر قرآن میں اشارۃً آیا ہے۔ یہ اشارہ قرآن کی اس آیت میں موجود ہے: قُلْ اَيُّ شَيْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً قُلِ اللهُ شَهِيْدٌ بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ ۚ وَأُوْحِيَ اِلَىَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ (6:19) یعنی پوچھو کہ سب سے بڑا گواہ کون ہے۔ وہ میرے اور تمھارے درمیان گواہ ہے۔ اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے، تاکہ میں تم کو اس سے خبردار کر دوں اور وہ بھی جن کو یہ (قرآن) پہنچے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اس قرآن کے ذریعے سے اپنے معاصرین کو آگاہ کرے اور بعد کے زمانے میں پیغمبر کے ماننے والے اگلی نسلوں کو ہر دور میں اُس سے آگاہ کرتے رہیں۔ دعوت کا یہ عمل مسلسل طور پر قیامت تک جاری رہے گا۔ دعوت الی اللہ کی اس عالمی تکمیل کا ذکر ایک حدیث رسول (لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام) میں زیادہ واضح طور پر آیا ہے۔ دعوت الی اللہ کی عالمی اشاعت کے لیے عالمی ذرائع مواصلات درکار تھے، جو کہ ساتویں صدی عیسوی میں قابل حصول نہ تھے۔ اس لیے دعوت الی اللہ کی تکمیل کو مستقبل میں پیش آنے والے واقعے کی حیثیت سے بطور پیشین گوئی (prediction) بیان کیا گیا ہے۔