با اصول زندگی
Al-Risala, July 2014, pp. 26–27
By Maulana Wahiduddin Khan
دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں ہمیشہ ایک کو دوسرے سے اختلاف پیش آتا ہے۔ اختلاف مبنی بر فطرت ہے۔ اس لیے اُس کو کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی حالت میں، کامیاب زندگی کا اصول صرف ایک ہے، وہ یہ کہ لوگوں کے ساتھ ایڈجسٹ (adjust) کر کے زندگی گزاری جائے۔ اختلاف کو نظر انداز کر کے باہمی مفاد (mutual interest) کی بنیاد پر زندگی کا نظام قائم کیا جائے۔ اس دنیا میں اس کے سوا، کوئی انتخاب (option) کسی کے لیے ممکن نہیں۔
اس معاملے میں، مسلمانوں کا معاملہ دوسروں سے الگ نہیں ہے، البتہ مسلمان کو اس معاملے میں ایک امتیازی خصوصیت حاصل ہے۔ دوسروں کے لیے یہ ایڈجسٹ منٹ (adjustment) صرف مفاد (interest) کا ایک معاملہ ہے، مگر مسلمان کے لیے یہ معاملہ ایک اعلیٰ عبادت کا معاملہ بن جاتا ہے۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ مسلمان کا ایڈجسٹ منٹ ایک اصول کے تحت ہوتا ہے، جب کہ دوسروں کا ایڈجسٹ منٹ صرف دنیوی مفاد کے تحت پیش آتا ہے۔
مسلمان اپنی حیثیت کے اعتبار سے، ایک خدائی مشن کے حامل ہیں، یعنی خدا کے ابدی پیغام کو دوسرے تمام انسانوں تک پہنچانا۔ پیغام رسانی کا یہ کام صرف اُس وقت درست طور پر انجام پا سکتا ہے، جب کہ مسلمانوں اور غیر مسلم قوموں کے درمیان خوش گوار تعلقات قائم ہوں، مسلمان جب دوسری قوموں کے ساتھ ایڈجسٹ منٹ کا معاملہ کرتا ہے تو اُس کا محرک (incentive) اُس کا یہی دعوتی ذہن ہوتا وہ ذاتی مفاد کے لیے ایڈجسٹ منٹ نہیں کرتا، بلکہ وہ صرف اس لیے ایڈجسٹ منٹ کرتا ہے، تاکہ اُس کا دعوتی مشن کسی رکاوٹ کے بغیر (peaceful) پُر امن انداز میں جاری رہے۔ محرک کا یہ فرق بہت اہم ہے۔ اسی فرق کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ مسلمان کا ایڈجسٹ منٹ ایک ایسا عبادتی عمل بن جاتا ہے جو اُس کو آخرت میں اجر عظیم کا مستحق بنا دے۔ اس کے برعکس، دوسروں کا ایڈ جسٹ منٹ صرف ذاتی مفاد کی بنیاد پر ہوتا ہے، اس سے زیادہ اُس کی کوئی اور حیثیت نہیں۔
مذکورہ قسم کا ایڈ جسٹ مینٹ موجودہ دنیا کا ایک لازمی قانون ہے۔ اس معاملے میں کسی بھی شخص یا گروہ کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اگر اصولی بنیاد پر ایڈ جسٹ مینٹ نہ کریں تو اُن کو مفاد کی بنیاد پر لازماً ایڈ جسٹ مینٹ کا معاملہ کرنا ہوگا۔ مگر ایسی صورت میں ان کا ایڈ جسٹ مینٹ عبادت کا عمل نہ ہوگا، بلکہ وہ صرف موقع پرستی (expediency) کا ایک معاملہ ہوگا، یعنی وہی چیز جس کو شریعت کی زبان میں منافقت (hypocrisy) کہا جاتا ہے۔ پسندی، ایک اعلیٰ اخلاقی صفت ہے، اس کے مقابلے میں، موقع پرستی ایک انتہائی بُری صفت۔ اس دنیا میں کسی آدمی کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب (option) ہے— اخلاص، مخلصانہ زندگی میں منافقت کا کوئی مقام نہیں۔ اسی طرح منافقانہ زندگی میں اخلاص کا کوئی دعوتی مشن واحد مشن ہے جو آدمی کو اس معاملے میں منافقانہ روش سے بچاتا ہے۔ مشن آدمی کے اندر یہ مزاج پیدا کرتا ہے کہ وہ اپنے اعلیٰ ربانی مشن کی خاطر دوسروں کے ساتھ ایڈ جسٹ مینٹ کا طریقہ اختیار کرے۔ بظاہر اگر چہ داعی بھی ایڈ جسٹ مینٹ کا معاملہ کرتا ہے، مگر اُس کا ایڈ جسٹ مینٹ اصول کی بنیاد پر ہوتا ہے، نہ کہ مفاد کی بنیاد پر۔
یہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اگر دعوتی مصلحت کی بنا پر دوسروں کے ساتھ ایڈ جسٹ مینٹ نہ کریں تو اُنھیں ذاتی مصلحت کی بنا پر دوسروں کے ساتھ ایڈ جسٹ مینٹ کرنا پڑے گا۔ گویا کہ اگر وہ دوسروں کے درمیان مخلص بن کر نہ رہیں تو اُنھیں دوسروں کے درمیان منافق بن کر رہنا ہوگا، اور بلاشبہہ منافقانہ زندگی سے زیادہ بُری کوئی چیز اس دنیا میں نہیں۔ بنگور میں ماہ نامہ الرسالہ اور دعوتی لٹریچر حسب ذیل پتے پر دستیاب ہے:
Centre for Peace, Bangalore Tel. 080-22239121, Mob. 09886243194