Al-Risala · July 2014

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر

Al-Risala, July 2014, pp. 30–31

By Maulana Wahiduddin Khan

آج کل مسلمان مختلف مقامات پر متشددانہ کارروائی میں مبتلا ہیں ۔ جب اُن کو اس سے روکا جائے، تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو وہی کر رہے ہیں جس کا حکم ہم کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے۔ اس سلسلے میں وہ اُس حدیث رسول کو پیش کرتے ہیں جس میں اہل ایمان کو تغییر منکر کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں : من رأى منکم منکراً فلیغیرہ بیدہ، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبہ، وذلك أضعف الإيمان (صحیح مسلم، کتاب الایمان) یعنی تم میں سے جو شخص کسی منکر کو دیکھے، تو وہ اس کو اپنے ہاتھ سے بدل دے، اور اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو پھر اپنی زبان سے، اور اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو پھر اپنے دل سے، اور یہ سب سے زیادہ کم زور ایمان ہے۔ دوسری روایت میں اس حدیث کا پہلا ٹکڑا ان الفاظ میں آیا ہے : من رأى منکراً فاستطاع أن يغيره بيده فليغیرہ بیدہ (سنن أبی داؤد، کتاب الملاحم) یعنی جو شخص کسی منکر کو دیکھے، تو اگر وہ استطاعت رکھتا ہو تو وہ اس کو اپنے ہاتھ سے بدل روایت کے بقیہ الفاظ مشترک ہیں۔

اس حدیث کو عام طور پر تشدد کے جواز میں پیش کیا جاتا ہے، حالاں کہ حدیث میں اس کا ذکر اس حدیث میں منکر کو عملاً بدل دینے، یا عملاً بدل دینے کی استطاعت نہ ہونے کی صورت میں اس کے خلاف بولنے کا ذکر کیا گیا ہے، نہ کہ منکر کو دیکھ کر لوگوں کے اوپر تشدد کرنے کا، یا خودکش بم باری (suicide bombing) کا۔ اس حدیث سے متشددانہ کارروائیوں کا جواز ہر گز نہیں نکلتا۔ اس روایت میں منکر کی تغییر کا لفظ آیا ہے۔ تغییر کے معنی عربی زبان میں بدل دینے (replacement) کے ہیں، یعنی منکر کی حالت کو بدل کر غیر منکر کی حالت قائم کرنا۔ میں اصلاح حال کا حکم ہے، نہ کہ تخریب اور فساد کا۔

عربی زبان کے مشہور لغت ’لسان العرب‘ میں تغییر کا مفہوم ان الفاظ میں بتایا گیا ہے—

غیرہ : حوله و بدله كأنه جعله غير ما كان (40/5) اس کی تغیر کی، یعنی اس کو بدل دیا۔ اس کو ایسا بنا دیا جیسا کہ وہ پہلے نہ تھا۔ امام راغب الاصفهانی (وفات: 1108) نے اپنی کتاب ”المفردات فی غریب القرآن‘ میں اس لفظ کی تشریح اس طرح کی ہے: يقال غيرتُ دارى إذا بنيتها بناءَ غير الذي كان ۔ کہا جاتا ہے کہ میں نے اپنے گھر کی تغیر کی، یعنی جب تم اس کی تعمیر کو بدل کر دوسری طرح اس کی تعمیر کرو (صفحہ 368)۔

موجودہ زمانے میں جگہ جگہ جہاد کے نام پر تشدد کے واقعات ہو رہے ہیں۔ یہ ”مقدس تشدد“ مسلم رہنماؤں کی قیادت میں انجام پا رہا ہے۔ اس فعل میں تقریباً تمام امت شریک ہے۔ اس لیے کہ جو لوگ براہ راست اس میں شریک نہیں ہیں، وہ اس کے بارے میں خاموش ہیں۔ اسلامی نقطہ نظر سے، اُن کی یہ خاموشی بالواسطہ شرکت کا درجہ رکھتی ہے۔ اس لیے اسلامی اصول کے مطابق، پوری امت کو اس عمل میں شریک مانا جائے گا، کچھ لوگوں کو براہ راست طور پر، اور بقیہ لوگوں کو بالواسطہ طور پر۔ واقعات بتاتے ہیں کہ اس متشددانہ عمل کا کوئی بھی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہو رہا ہے۔ اس عمل کا ہر جگہ صرف ایک ہی نتیجہ نکل رہا ہے، اور وہ تخریب ہے، نہ کہ تعمیر۔ ایسی حالت میں بلا شبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ متشددانہ کارروائیاں اور جو کچھ ہوں، لیکن وہ تغییر منکر کا عمل ہر گز نہیں۔ تغییر منکر یہ ہے کہ آدمی ناپسندیدہ صورت حال کو بدل کر اس کی جگہ پسندیدہ صورت حال قائم کرے۔ اس کے برعکس، ایک ایسی کوشش جو کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہو، وہ یقینی طور پر تخریب اور فساد ہے، نہ کہ کوئی مطلوب اسلامی عمل۔

کسی غیر مطلوب صورت حال کو دیکھ کر اس کے خلاف منفی ردِ عمل ظاہر کرنا، صرف فساد کا ایک عمل ہے، وہ تغییر منکر نہیں۔ تغییر منکر مکمل طور پر ایک مثبت عمل ہے۔ وہ حالات کی اصلاح کے لیے کیا جاتا ہے، نہ کہ حالات کو مزید بگاڑنے کے لیے۔ اصلاحِ حال کا طریقہ یہ ہے کہ غیر متاثر ذہن کے ساتھ حالات کا مطالعہ کیا جائے اور پھر تعمیری منصوبہ بندی کے ذریعے صورت حال کو درست کرنے کی کوشش کی جو لوگ اس کے خلاف کریں، وہ بلا شبہ مفسد ہیں، نہ کہ مصلح۔

Printed page