اسلامی تحریک کا اصول
Al-Risala, July 2014, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلامی تحریک کا اصول یہ ہے کہ ٹکراؤ سے کامل پر ہیز کرتے ہوئے اپنا مشن چلایا جائے ۔ پالیسی کو دو لفظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے ۔ پولیٹکل اسٹیٹس کو ازم، نان پولیٹکل ایکٹوزم : Political statusquoism, non-political activism اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی اقتدار سے ٹکراؤ نہ کرنا اور غیر سیاسی دائرے میں جو مواقع ہیں، اُن کو بھر پور استعمال کرنا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں یہی طریقہ اختیار اسی طریقے کا یہ نتیجہ تھا کہ آپ کو ہر اعتبار سے غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ اس طریقے کو دوسرے لفظوں میں ، حکیمانہ طریقہ کہا جا سکتا ہے۔
اس طریق کار کا فائدہ یہ ہے کہ آدمی کو فوراً ہی اپنے عمل کے لیے ایک نقطہ آغاز (starting point) مل جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ آدمی اپنی توانائی کو بے نتیجہ کاموں میں ضائع نہ کرے ، وہ اپنی پوری توانائی کو صرف نتیجہ خیز کاموں میں صرف کرے، وہ تمام موجود امکانات کو اپنے مشن کے حق میں استعمال کر سکے۔
یہ طریق کار اس بات کی ضمانت ہے کہ آدمی کے اندر مکمل طور پر مثبت ذہن باقی رہے، وہ کسی بھی مرحلے میں منفی سوچ (negative thinking) کا شکار نہ بنے۔ وہ ہر انسان کو اپنا بھائی سمجھے۔ اُس کو ہر دنیا اپنی دنیا نظر آئے ۔ ہر صورت حال کو وہ اپنے لیے موافق صورت حال سمجھے۔ احتجاج (protest) سے اُس کا ذہن مکمل طور پر پاک ہو۔
یہ طریق کار در اصل وہی ہے جس کو تدریجی طریق کار (gradual method) کہا جاتا ہے، یعنی فطری انداز سے ماحول میں تبدیلی لانا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دنیا میں تدریجی طریق کار ہی نتیجہ خیز طریق کار ہے۔ اس کے سوا جو طریقے ہیں ، وہ صرف بر بادی میں اضافہ کرنے والے ہیں ، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔