Al-Risala · January 2014

دورِ آخر کے دُعاۃ

Al-Risala, January 2014

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: عبادلیسوا بأنبیاء ولا شهداء يغبطهم النبيون والشهداء لمقعدهم وقربهم من الله يوم القيامة (مسند احمد: 5/341) یعنی اللہ کے کچھ ایسے بندے ہیں جو نہ پیغمبر ہوں گے اور نہ شہید، مگر قیامت کے دن انبیا اور شہدا بھی اُن پر رشک کریں گے، اللہ سے اُن کے قرب کی بنا پر۔

اس حدیث رسول میں غبطة (envy) کا لفظ اپنے لفظی معنی میں نہیں ہے، یعنی اس کا مقصد مذکورہ افراد کی پر اسرار فضیلت بیان کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ دراصل تحیر خیز پسندیدگی (wondrous appreciation) کے معنی میں ہے، یعنی وہ لوگ اگر چہ پیغمبر کے امتی ہوں گے، لیکن پیغمبر کی ہدایت کا اتباع کرتے ہوئے اُن کے ذریعے کچھ ایسے کام انجام پائیں گے جو پچھلی پوری تاریخ نبوت میں انجام نہیں پایا تھا۔

یہ معاملہ کوئی پر اسرار معاملہ نہیں، غور کر کے اس کو سمجھا جا سکتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ دین خداوندی میں جو چیز مطلوب ہیں، وہ بہ تمام و کمال وجود میں آچکی ہیں ۔ وحی الہی کے ذریعے آئی ہوئی ہدایت کا پوری طرح محفوظ ہو جانا، پیغمبر کی صورت میں انسان کی زندگی کا ایک رول ماڈل (role model) تیار ہو جانا، دین خداوندی کی تاریخ کا ایک مستند ریکارڈ وجود میں آجانا، مذہبی جبر کا ہمیشہ کے لیے ختم

ہو جانا، دور بادشاہت میں ہر چیز پر شخصی کنٹرول قائم تھا، اس کا ختم ہو کر دور جمہوریت آ جانا، جب کہ انسانی سرگرمیوں کے تمام مواقع پوری طرح کھل گئے، وغیرہ۔ پیغمبرانہ مشن کے تحت یہ تمام چیزیں مطلوب تھیں جو کہ مکمل طور پر حاصل ہو گئیں۔

مگر ایک مطلوب ایسا تھا جو پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کی تاریخ کے دوران پوری طرح حاصل نہیں ہوا تھا، اور وہ ہے دعوتِ خداوندی کی عالمی اشاعت۔ قرآن میں کہا گیا ہے کہ اللہ نے یہ کتاب اس لیے بھیجی ہے، تا کہ وہ تمام اہل عالم تک پہنچے اور تمام لوگوں کے لیے آگاہی کا ذریعہ بنے (25:1)۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبرانہ تاریخ کے دور میں یہ عالمی مطلوب پوری طرح واقعہ نہ سکا۔ اس کا فطری سبب یہ تھا کہ دین کی عالمی اشاعت کے لیے عالمی مواصلات کی ضرورت ہے، اور عالمی مواصلات کے یہ ذرائع پچھلے زمانے میں موجود ہی نہ تھے۔

اس پہلو سے غور کرنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مذکورہ حدیثِ رسول میں جن خوش قسمت لوگوں کا ذکر ہے، وہ سچے اہل ایمان کی وہ جماعت ہے جو دورِ مواصلات میں دینِ خداوندی کے اس دعوتی نشانے کو اس کی آخری تکمیل تک پہنچائے گی کہ اُس سے روئے زمین پر بسنے والے تمام مرد اور عورت باخبر قیامت میں کوئی فرد یا گروہ ایسا نہ رہے کہ جو جائز طور پر یہ کہہ سکے کہ: إنا كنا عن هذا غافلين تاریخ انسانی کے دورِ آخر میں اللہ کی توفیق سے جو اہل ایمان اس دعوتی نشانے کو پورا کریں گے، وہی غالباً وہ لوگ ہیں جن کا ذکر مذکورہ حدیثِ رسول میں کیا گیا ہے۔

Printed page