تنظیم کافی نہیں
Al-Risala, July 2014, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
تحریکوں کا یہ عام طریقہ ہے کہ لوگ ایک تنظیم بنا لیتے ہیں اور تنظیم کے تحت ایک طریقِ کار مقرر کرکے اس کے مطابق، اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔ اس طریقے کا یہ فائدہ ہے کہ کام بظاہر تسلسل کے ساتھ ہونے لگتا ہے۔ ہر فرد تحریک کو معلوم ہوتا ہے کہ اُسے کیا کرنا ہے اور اس معلوم نقشے کے مطابق، وہ اپنا مقرر کام ہر روز انجام دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ وہ چیز جس کو ایک منظم کام کہا جاتا ہے، وہ صرف ایک بے روح نظم (spiritless routine) کا اعادہ ہے۔ اس طریقے میں بظاہر کام ہوتا ہوا نظر آتا ہے، لیکن اس کے تحت افراد کا روحانی ارتقا (spiritual development) نہیں ہوتا۔ اپنی داخلی شخصیت کے اعتبار سے، وہ جہاں پہلے دن تھے، وہیں وہ آخری دن بھی رہتے ہیں۔
صحیح طریقہ یہ ہے کہ افراد کے اندر زندہ شخصیت پیدا کی جائے۔ افراد تحریک محسوس کریں کہ ہر دن اُن کے اندر شخصی ارتقا (personality development) ہو رہا ہے۔
یہ مقصد صرف اُس وقت حاصل ہوسکتا ہے جب کہ افراد تحریک کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) پیدا کی جائے۔ ہر آدمی خود سوچے، وہ خود اپنے عمل کا نقشہ بنائے، ہر انسان پروگرام ساز (programme maker) انسان بن جائے، نہ کہ بنے بنائے پروگرام کو بطور رُٹین (routine) دہرانے والا۔
زندہ تحریک وہ ہے جس کے افراد ذاتی داعیہ کے تحت متحرک ہوئے ہوں، جن کے اندر شعوری بیداری اتنی زیادہ آچکی ہو کہ وہ آزادانہ طور پر سوچیں اور آزاد ارادے کے تحت اپنے آپ کو تحریک کے کام کے لیے وقف کر دیں۔
یہی وہ طریقہ ہے جو حقیقی معنوں میں نتیجہ پیدا کرنے والا ہے۔ مقررہ پروگرام کے تحت کیا جانے والا عمل بظاہر عمل ہوتا ہے، لیکن وہ مطلوب نتیجے سے خالی ہوتا ہے۔