Al-Risala · July 2014

اپنے آپ پر نظر ثانی

Al-Risala, July 2014, pp. 40–43

By Maulana Wahiduddin Khan

آسٹریلین نیرولوجسٹ وکٹر فرینکل (1997-1905) کا ایک با معنی قول ہے۔ انسان کے بارے میں کہا جب ہم حالات کو بدلنے کے قابل نہیں ہوتے، تو یہ اس بات کا چیلنج ہوتا ہے کہ ہمیں خود اپنے آپ کو بدلنا چاہیے:

When we are no longer able to change a situation—we are challenged to change ourselves. (Viktor Frankl)

ہر انسان کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب وہ محسوس کرتا ہے کہ میں نے جس تبدیلی کا منصوبہ بنایا تھا، اُس کے مطابق، میں حالات کو بدل نہ سکا ۔ اس قسم کا تجربہ جب کسی انسان کو پیش آئے تو اس کو کیا کرنا چاہیے۔

اُس کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنی ناکامی کا سبب باہر تلاش کرے ۔ اس کے برعکس، صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ناکامی کا سبب خود اپنے اندر تلاش کرے، وہ خارج کو بدلنے کی مزید کوشش نہ وہ یہ کرے کہ حقیقت پسندانہ انداز میں پورے معاملے پر از سر نو غور کرے اور پھر ممکن دائرے میں اپنے عمل کا نیا نقشہ بنائے ۔

روڈ پر چلتے ہوئے اگر کوئی شخص راستے سے بھٹک جائے تو وہ یوٹرن (U turn) لینے میں کبھی دیر نہیں کرتا۔ لیکن زندگی کے وسیع تر سفر میں بہت کم لوگ اس اصول کی پیروی کرتے ہیں۔ زندگی کے سفر میں اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایک بار جس راستے پر چل پڑے، اُسی پر چلتے رہتے ہیں، حتیٰ کی اگر ان کی غلطی کی نشان دہی کی جائے ، تب بھی وہ ایسا نہیں کرتے کہ غلط سمت کو چھوڑ کر صحیح سمت میں وہ اپنا سفر شروع کر دیں۔ وہ اپنے مانوس راستے ہی پر چلتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اسی حال میں مر جاتے ہیں۔ غلطی کرنا غلطی نہیں ہے، بلکہ اصل غلطی یہ ہے کہ آدمی اپنی غلطی کی اصلاح کرنے پر راضی نہ ہو۔

سوال و جواب میں الرسالہ کا ایک مستقل قاری ہوں۔ اسی کے ساتھ میں آپ کے لکچر بھی سنتا ہوں۔ کی دعوتی سوچ سے اتفاق ہے۔ اس سے مسلمانوں کو بہت فائدہ مل رہا ہے۔ دو چیزوں کی وضاحت ایک الرسالہ کے حسب ذیل دواقتباسات کی وضاحت، جس سے اندازہ نہیں ہوتا کہ آپ اعتدال کو کس طرح مانتے ہیں۔ اسی طرح آپ کے لکچر میں بار بار میں نے سنا ہے کہ دوسرے علما نے کچھ نہیں کیا، وہ سب ٹکراؤ اور تشدد میں لگے رہے، اس کی وضاحت۔ (محمد حارث، پاکستان) 1- اکثر لوگ اعتدال اور توسط کی بات کرتے ہیں، مگر اعتدال اور توسط اپنے آپ میں کوئی اصول حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے معاملات میں صرف دو نقطہ نظر ہیں۔ معیاری نقطہ نظر، اور عملی نقطہ نظر ۔ جہاں تک’’ معتدل نقطہ نظر ‘‘ کا تعلق ہے، وہ اپنے آپ میں کوئی اصول نہیں۔ معیاری نقطہ نظر (idealism) وہ ہے جو خالص اصول پر مبنی ہو، جو ابدی طور پر ایک ہی مستند اصول کے طور پر قائم مثلاً سچ بولنا ایک ابدی اصول ہے، اصول کے اعتبار سے وہ کبھی بدلنے والا نہیں۔ عملی نقطہ نظر (pragmatism) سے مراد وہ طریقہ ہے جس میں نتائج کو ملحوظ رکھا گیا ہو، جو خالص اصول پر مبنی نہ ہو، بلکہ وہ عملی پہلوؤں کی رعایت پر مبنی ہو۔ زندگی کے معاملات میں کوئی موقف اختیار کرنے کے لیے اعتدال اور توسط کوئی معیار (yardstick) نہیں ہے۔ یہ معیار صرف دو ہے ایک، یہ کہ خالص اصولی طور پر جو نقطہ نظر درست ہو، اس کو اختیار کرنا۔ یہ آئیڈیل ازم (idealism) ہے۔ معاملات میں آئیڈیل ازم پوری طرح قابلِ عمل ہوتا ہے۔ اس لیے جہاں خالص ذاتی معاملہ ہو، وہاں آدمی کو وہی کرنا چاہیے جو آئیڈیل ازم کا تقاضا ہے۔ لیکن اجتماعی زندگی میں معاملہ ففٹی ففٹی ہو جاتا ہے، یعنی پچاس فی صد آدمی کی اپنی سوچ، اور پچاس فی صد دوسرے متعلق افراد کی سوچ۔ عملی نقطہ نظر (pragmatism) کا لفظ زندگی کے اسی دوسرے دائرے کے بارے میں بولا جاتا ہے۔

2- اسی طرح آپ نے ایک اور جگہ لکھا ہے کہ: ’’ آدمی کو چاہیے کہ جب بھی وہ اپنے کسی منصوبے کی تکمیل کرنا چاہے تو ہمیشہ وہ حالات پر پوری نظر رکھے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلنے لگے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ وہ کسی ایک پہلو کو نظر انداز کر کے دوسرے پہلو کی طرف بہت زیادہ جھک جائے۔ وہ ایسا بھی نہ کرے کہ وہ اپنا زیادہ اندازہ (overestimation) کرے اور حالات کا کم تر اندازہ (underestimation) کرنے لگے۔ اس قسم کی کوئی بھی غلطی اس کے منصوبے کو نا کام بنانے کے لیے کافی ہے۔ آدمی اپنے مزاج کے اعتبار سے ایک انتہا پسند مخلوق ہے۔ آدمی اکثر ایسا کرتا ہے کہ وہ ایک پہلو کی طرف اس طرح جھک جاتا ہے کہ وہ دوسرے پہلو کی رعایت کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ اس قسم کے عدم توازن کے ساتھ کسی شخص کا اس دنیا میں کامیاب ہونا ممکن نہیں۔ توازن بلاشبہ ایک اہم اصول ہے، لیکن توازن سے مراد عملی معاملات میں توازن کا طریقہ اختیار کرنا ہے، نہ کہ فکری اور نظریاتی معاملات میں توازن کا طریقہ اختیار کرنا۔ نظری معاملات میں آدمی کا نشانہ آڈیل ہونا چاہیے، لیکن عملی معاملات میں اس کو پریکٹکل بن جانا چاہیے‘‘۔ (ماہنامہ الرسالہ، اگست 2013، صفحہ 40)

1- قصد و اعتدال بلا شبہ اسلام میں مطلوب ہے۔ قصد و اعتدال اسلام کا ایک اہم اُس کا تعلق صرف انفرادی معاملات سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق اجتماعی معاملات اور ملی پالیسی سے بھی ہے۔ قصد و اعتدال کی اہمیت رسول اور اصحابِ رسول کی سنت سے ثابت ہے۔ اس میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں۔

قصد و اعتدال کا مطلب توسط یا میانہ روی (moderation) ہے، یعنی معاملات میں درمیانی طریقہ (middle course) اختیار کرنا۔ قصد و اعتدال کا تعلق در اصل اجتماعی زندگی سے ہے، خواہ وہ عبادتی معاملہ ہو یا غیر عبادتی معاملہ۔ دوسرے الفاظ میں اس کو

پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) کہا جا سکتا ہے۔ اجتماعیات میں چوں کہ معاملے کے فریق ایک سے زیادہ ہو جاتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ اجتماعیات میں دوسروں کی رعایت کی جائے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں غیر ضروری ٹکراؤ ہوگا اور اُس کے نتیجے میں مختلف قسّم کے مسائل پیدا ہوں گے۔

لیکن جہاں تک عقیدے یا نظریے کا معاملہ ہے، اُس میں یہ مطلوب ہے کہ آدمی معیار پسند وہ اپنی سوچ کو انتہائی حد تک خالص بنائے، ذاتی سوچ کے معاملے میں وہ کم تر از معیار (less than ideal) کو برداشت نہ کرے، یعنی اپنی ذات کے معاملے میں معیار پسند (idealist) ہونا اور دوسروں کے معاملے میں عملی (practical) بن جانا۔ کسی شخص کی تردید یا نفی کی بات میں نے کبھی نہیں کہی۔ کسی شخص کے نقطہ نظر میں جو بات قرآن وسنت کے خلاف ہو، اُس کا تجزیہ قرآن وسنت کے دلائل کی روشنی میں کرنا، یہی میرا طریقہ ہے۔ اس معاملے میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ناقد وہ طریقہ اختیار کرے جس کو ایک شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے عیب مے جملہ بہ گفتی ہنرش نیز بگو۔ یہ طریقہ بذات خود درست ہو سکتا ہے، لیکن وہ داعی کا طریقہ نہیں۔ داعی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر ذہنی انقلاب لایا جائے۔ اس بنا پر داعی ہمیشہ کسی ایک چیز پر فوکس دیتا ہے۔ تنقید کے معاملے میں اصل شرط یہ نہیں ہے کہ ناقد قابل تنقید اجزا کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ زیر تنقید شخص کی خوبیوں کا ذکر بھی کرے، یہ شرط غیر عملی ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ناقد عناد (malice) کی نفسیات سے پاک ہو۔ اس کی ساری توجہ صرف زیر تنقید شخص کے فکری انحراف پر ہو، نہ کہ اُس چیز پر جس کو ذاتیات کہا جاتا ہے۔

میرے نزدیک نقدِ صحیح یقینی طور پر ایک جائز کام ہے، لیکن معاندانہ اظہار خیال کسی بھی شخص کے لیے جائز نہیں۔ نقدِ صحیح پر ایک شخص کو اللہ کے یہاں انعام مل سکتا ہے، لیکن معاندانہ اظہارِ خیال ایک ایسی چیز ہے جس پر آخرت میں سخت مواخذے کا اندیشہ ہے۔

Printed page