Al-Risala · January 2014

ٹیم اسپرٹ

Al-Risala, January 2014

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ گروہ جس کو آخرت میں قربِ خداوندی کی نسبت سے اتنا بڑا درجہ ملے گا کہ انبیا اور شہدا بھی اُن پر رشک کریں گے، ان کی وہ صفتِ خاص کیا ہوگی جو اُن کو قربت کے اس مقام تک پہنچائے گی ۔ اس صفت کا ذکر مذکورہ حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں آیا ہے: المتحابون في (اللہ کے لیے آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے والے)۔ اس حدیثِ رسول میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس میں یہ نہیں فرمایا کہ اللہ کی ذات سے محبت کرنے والے، بلکہ یہ فرمایا کہ اللہ کے لیے آپس میں محبت کرنے

گویا اس کا مطلب یہ ہے کہ خالص اللہ کے کاز (cause) کے لیے ایک دوسرے سے محبت اس معاملے کو مزید واضح کیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو۔ اللہ کے مشن کی خاطر صرف اللہ کے لیے باہم مجتمع ہو جائیں، جن کی ٹیم اسپرٹ اتنی بڑھی ہوئی ہو کہ ٹیم کا ہر فرد اُن کے لیے ایک محبوب ساتھی بن جائے۔

دعوت کا عالمی نشانہ صرف ٹیم ورک کے ذریعے پورا کیا جاسکتا ہے اور کسی مادی انٹرسٹ کے بغیر ٹیم ورک ایک بے حد مشکل کام ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ٹیم ورک کا مطلب اجتماعی ورک ہے اور اجتماعی زندگی میں لازماً شکایت اور اختلاف کی صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ ایسی حالت میں صرف اعلی درجے کی محبت الہی یا تعلق باللہ ہی آدمی کو مشن سے وابستہ رکھ سکتا ہے۔

اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانے میں ایک جنگ پیش آئی جس کو تاریخ میں جنگ یرموک (13 ہجری) کہا جاتا ہے۔ اس جنگ میں اہلِ ایمان کو کامیابی حاصل اس جنگ میں خالد بن الولید سپہ سالار تھے۔ جنگ کے آخری مرحلے میں یہ واقعہ پیش آیا کہ خلیفہ ثانی عمر فاروق نے کسی وجہ سے خالد بن الولید کو سپہ سالاری کے منصب سے ہٹا دیا اور ان کو عام سپاہی کا درجہ دے دیا۔ فوج کے کچھ لوگ خالد بن الولید سے ملے اور اس واقعے پر اپنی عدم رضامندی کا اظہار کیا۔ خالد بن الولید نے ان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا: إنی لا أقاتل في سبيل عمر، ولكن أقاتل في سبيل رب عمر (یعنی میں عمر کی راہ میں جنگ نہیں کرتا، بلکہ میں عمر کے رب کی راہ میں جنگ کرتا ہوں)۔

عالمی دعوتی مشن بہت بڑا دعوتی مشن ہے۔ اس قسم کا مشن صرف ایسے لوگوں کے ذریعے کامیابی کے ساتھ انجام پا سکتا ہے جو پورے معنی میں ٹیم اسپرٹ کے ساتھ اکٹھا ہوئے ہوں۔ مشن ایک ایسا مشن ہے جس میں کسی بھی قسم کا مادی یا ذاتی انٹرسٹ شامل نہیں۔ دعوتی ٹیم کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس کے افراد کے اندر مادی انٹرسٹ کا کوئی بدل موجود ہو۔ صرف ایک ہے اور وہ ہے اللہ کے ساتھ غیر متزلزل محبت۔ اللہ سے یہی گہرا تعلق اس بات کا ضامن

ہے کہ ٹیم کے افراد بنیان مرصوص (61:4) کی طرح باہم جڑے رہیں۔ کوئی بھی شکایت اُن کی ٹیم اسپرٹ میں خلل ڈالنے والی نہ ہو۔

اس معاملے کی ایک مثبت مثال وہ ہے، جو خالد بن الولید کے حوالے سے اوپر بیان کی گئی ہے۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے ایک متقابل مثال یہاں درج کی جاتی ہے۔ یہ مثال سعد بن عبادہ الانصاری کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر صدیق کو خلیفہ منتخب کیا سعد بن عبادہ انصاری کو اس پر اختلاف ہوا۔ وہ مدینے کے بڑے سرداروں میں سے تھے۔ کی شکایت ایک سیاسی شکایت تھی۔ یہ شکایت اتنی بڑھی کہ انھوں نے حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت پر بیعت نہیں کی۔ انھوں نے کبھی اپنی رائے سے رجوع نہیں کیا، یہاں تک کہ وہ اصحاب رسول کی جماعت سے الگ ہو کر شام چلے گئے اور وہیں 14 ہجری میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ٹیم ورک کے اندر لازمی طور پر آپس میں شکایت اور اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں ٹیم ورک کی کامیابی کی شرط صرف یہ ہے کہ ٹیم کے افراد کے اندر یہ ناقابل شکست عزم پایا جاتا ہو کہ وہ کسی بھی عذر کو عذر نہیں بنائیں گے، وہ اللہ کی خاطر ہر حال میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت کے ساتھ جڑے اللہ کے کاز کے لیے آپس میں محبت کرنے والے شکایت کا کوئی منفی اثر نہیں لیں گے۔ برعکس، جن لوگوں کے اندر یہ صفت نہ ہو، وہ شکایت سے بددل ہو کر ٹیم سے دور ہو جائیں گے۔ دینِ خداوندی کے دو تقاضے اسلام کا اصل خارجی نشانہ دعوت الی اللہ ہے۔ اہلِ اسلام کا یہی ابدی مشن ہے کہ وہ پُرامن طور پر اللہ کے دین کا پیغام ہر دور کے انسانوں تک پہنچاتے رہیں۔ اس دعوتی مشن کو کامیابی کے ساتھ جاری رکھنے کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے— تائیدی انفراسٹرکچر(supporting infrastructure) اور توجیہی لٹریچر(explanatory literature)۔

Printed page